جرمنی میں انتہا پسند سلفی مسلمانوں کے زیر انتظام کئی مساجد چلنے کا انکشاف

جرمنی میں انتہا پسند سلفی مسلمانوں کے زیر انتظام کئی مساجد چلنے کا انکشاف

برلن(این این آئی)جرمنی کی داخلی انٹیلیجنس ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ اسے سینکڑوں ایسے واقعات کی رپورٹیں موصول ہوئی ہیں جن میں مسلمان انتہا پسندوں نے مہاجر کیمپوں میں پناہ گزینوں کو ورغلانے اور اپنے گروپوں میں بھرتی کرنے کی کوشش کی ہے۔جرمنی میں انتہا پسند سلفی مسلمانوں کے زیر انتظام کئی مساجد چل رہی ہیں۔جرمنی کے وفاقی دفتر برائے تحفظِ آئین کے سربراہ ہنس گیورگ ماسین نے جرمن خبر رساں ادارے کو بتایا، ہمیں اب تک اس سلسلے میں 340 واقعات کی رپورٹیں موصول ہو چکی ہیں۔ تاہم یہ تعداد صرف ان کیسوں کی ہے جن کی حکام کو اطلاع ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تعداد اور بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ ماسین نے مزید بتایا کہ ملک بھر میں قائم مہاجرین کی رہائش گاہوں اور کیمپوں میں خدمات انجام دینے والے رضاکاروں کو اس بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔

وفاقی دفتر برائے تحفظِ آئین کے سربراہ نے کہا کہ یہ بات قابل فکر ہے کہ سلفی مسلمان مہاجر کیمپوں میں اپنی مہم چلا رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا، ہم اس بات سے واقف ہیں کہ پناہ گزینوں کی صفوں میں کافی زیادہ سنی مسلمان شامل ہیں۔ یہ لوگ عموما خاصے قدامت پسند پس منظر کے حامل ہوتے ہیں اور جمعے کے جمعے کسی عرب مسجد میں جا کر نماز ادا کرنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ مازین نے یہ بھی بتایا کہ جرمنی میں انتہا پسند سلفی مسلمانوں کے زیر انتظام کئی مساجد چل رہی ہیں۔وفاقی دفتر برائے تحفظِ آئین کے سربراہ ہنس گیورگ ماسین نے کہا کہ جن مساجد میں عربی زبان بولی جاتی ہیں، انہیں ریگولیٹ نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست اس معاملے میں زیادہ کچھ نہیں کر سکتی۔ ماسین کے بقول جرمنی میں گزشتہ ماہ ہونے والے چند حملوں سے قبل بھی اسلامی انتہا پسندی سے متاثرہ حملے ہو چکے ہیں۔

انہوں نے ہینوور میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت اور ایسن میں ایک سکھ گردوارے پر حملے کی مثالیں دی۔ہنس گیورگ ماسین نے کہا کہ سبق یہ سیکھنا چاہیے کہ تمام تر توجہ صرف اس طرف نہ دی جائے کہ اسلامک اسٹیٹ اپنے دہشت گرد یورپ روانہ کر سکتی ہے یا کر رہی ہے بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ جو لوگ ان ملکوں میں ہی انتہا پسندی کی طرف مائل ہو رہے ہیں، انہیں بھی دہشت گردانہ حملوں پر مائل کیا جا سکتا ہے۔

مزید : عالمی منظر