مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال ،سول کرفیو ،حریت رہنما نظر بند،2نوجوان شہید

مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال ،سول کرفیو ،حریت رہنما نظر بند،2نوجوان شہید

سرینگر(این این آئی)کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے بھارتی یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایاتاکہ عالمی برادری کو یہ باور کرایا جاسکے کہ بھارت نے کشمیریوں کا حق خود ارادیت سلب کررکھا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال اور سول کرفیونافذہے جسکی کال کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی ، میرواعظ عمرفاروق، محمد یاسین ملک اور دیگر حریت رہنماؤں نے دی تھی۔ہڑتال اور سول کرفیوکا مقصد بھارت پر واضح کرناہے کہ کشمیریوں کو انکا ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت دینے تک وہ یوم آزادی منانے کا حق نہیں رکھتا۔ تمام دکانیں، کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے اور عدالتیں بند جبکہ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ معطل رہی۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے لوگوں کوبھارت مخالف مظاہروں سے روکنے کیلئے مسلسل 38 ویں روز بھی سرینگر اور وادی کشمیر کے دوسرے تمام اضلاع میں کرفیو اوردیگر پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں۔ سرینگر میں بخشی سٹیڈیم کے اطراف میں جہاں یوم آزادی کی مرکزی تقریب تھی ، سیکورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے تھے۔ سٹیڈیم کی طرف جانے والے تمام راستوں کو خار دار تاروں سے بند کر دیا گیا اور لوگوں کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے تھے۔ سید علی گیلانی،، میر واعظ عمر فاروق،محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ اور آغا سید حسن الموسوی الصفوی گھروں اور جیلوں میں نظر بند کر دیا گیا۔دریں اثنائکل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے بھارتی یوم آزادی کے موقع پر سول کرفیونافذ کرنے،تمام جگہوں پر سیاہ جھنڈے لہرانے اور صبح 7بجے اْن تمام راستوں کو بند کرنے کی اپیل کی تھی جہاں بھارتی یوم آزادی کی تقاریب منعقدہورہی ہیں۔دریں اثناء بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں ضلع بارہمولہ علاقے اوڑی میں ایک پر تشدد کارروائی کے دوران دو اور کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا ۔ادھر سرینگر میں جامع مسجد کے قریبی علاقے نوہٹہ میں واقع سی آر پی ایف کے کیمپ پرایک حملے میں بھارتی فوج کی سینٹرل ریزروپولیس فورس کے دو اہلکار ہلاک اور چھ شدیدزخمی ہو گئے۔

مزید : عالمی منظر