حکومتی بڑھتے ہوئے قرضے ملکی معیشت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں،بلال شیرازی

حکومتی بڑھتے ہوئے قرضے ملکی معیشت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں،بلال شیرازی

لاہور( جنرل رپورٹر) پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما و مسلم لیگ یوتھ ونگ کے مرکزی صدر سید بلال مصطفی شیرازی نے وفاقی حکومت کی جانب سے پانچ سالوں کے دوران عالمی بنکوں اور عالمی مالیاتی اداروں سے مجموعی طور پر14ارب16کروڑ33لاکھ ڈالر سے زائد قرضے جبکہ آئی ایم ایف سے تین سال میں5ارب76کروڑ 80لاکھ ڈالر کے قرضوں اور مجموعی طور پر پانچ سالوں میں19ارب ڈالر کے حکومتی قرضوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی بڑھتے ہوئے قرضے ملکی معیشت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بنک نے بھی انتباہ کیا ہے کہ اگر حکومت نے قرض لینے کا سلسلہ اسی طرح جاری رکھا تو مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ ہاؤس میں یوتھ ونگ کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سید بلال مصطفی شیرازی نے کہا کہ حکومت نے اقتدار میں آنے سے قبل بیرونی اداروں سے قرض نہ لینے اور کشکول توڑنے کا اعلان کیا تھا لیکن کشکول تو نہیں ٹوٹا بلکہ اس کا سائز بڑا ہوگیا ہے اور قرض لینے کا لامتناعی سلسلہ شروع کردیا گیا اب تو یہ سلسلہ یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ موجودہ مالی سال کے صرف 22دنوں میں حکومت نے 751ارب کا قرضہ لے لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے قرضوں کے باعث ملک میں افراط زر میں اضافہ کے باعث مہنگائی میں بھی اضافہ ہورہا ہے بڑھتے ہوئے قرضے ایٹمی پاکستان کیلئے نقصان دہ ہیں اس لیے حکومت قرضوں کی بجائے ملکی برآمدات میں اضافہ سے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھائے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1