سندھ اور پنجاب میں پش اپس کا نہیں گڈ گورننس کا مقابلہ

سندھ اور پنجاب میں پش اپس کا نہیں گڈ گورننس کا مقابلہ
 سندھ اور پنجاب میں پش اپس کا نہیں گڈ گورننس کا مقابلہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سندھ میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے بعد سندھ میں ایک تبدیلی نظر آرہی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ موجودہ اسمبلیوں کی مدت میں سندھ پہلی دفعہ متحرک نظر آرہا ہے۔ اور ایسا لگ رہا ہے کہ سندھ میں گڈ گورننس کی اہمیت کو سمجھ لیا گیا ہے۔و رنہ اس سے قبل تو پیپلزپارٹی کے طرز حکومت کے حوالے سے یہ تاثر پیدا ہو گیا تھا کہ پیپلزپارٹی گڈ گورننس پر یقین ہی نہیں رکھتی۔

یہ درست ہے کہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے گڈ گورننس کے اعلیٰ معیار قائم کئے ہیں۔ انہوں نے میرٹ کی حکمرانی اور شفاف حکومت کا ایک معیار قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ میاں شہباز شریف کی ترجیحات سے تو اختلاف کر سکتے ہیں ۔ لیکن میاں شہباز شریف کے ناقدین بھی ان کے انداز حکمرانی کے مداح ہیں۔

پیپلزپارٹی بے شک میاں شہباز شریف کو اپنی سیاسی ضروریات کے پیش نظر پنجاب اور حکومت پنجاب کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے لیکن ایک بات تو ثابت ہو گئی ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت کے ذہنوں میں بھی کہیں نہ کہیں شہباز شریف کے انداز اور ان کے کام کرنے کے سٹائل کی تعریف موجود ہے۔ اسی لئے تو سندھ کی نئی قیادت نہ صرف میاں شہباز شریف کے اندازکو اپنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بلکہ سندھ کے نئے وزیر کھیل نے بھی پنجاب کے وزیر کھیل کو پچاس پش اپس لگانے کا چیلنج دیا ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سندھ کی حکومت کے ذہن میں کہیں نہ کہیں پنجاب سے مقابلہ موجود ہے۔گو کہ پنجاب کے وزیر کھیل نے ان کے چیلنج کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ سندھ کے وزیر کھیل، کھیل پر سیاست کر رہے ہیں۔ لیکن مرکز سے طلال چودھری نے اس چیلنج کو قبول کر لیا ہے ۔ حالانکہ انہیں تو یہ چیلنج کیا ہی نہیں کیا گیا تھا۔ شاید انہیں معلوم تھا کہ بیچارے پنجاب کے وزیر کھیل نازک سے ہیں اور وہ اس چیلنج کو قبول کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

سندھ کے وزیر کھیل کا پنجاب کے وزیر کھیل کو پچاس پش اپس کا چیلنج کوئی سنجیدہ بات نہیں ، بلکہ ایک مضحکہ خیز بات ہے ۔ لیکن یہ سندھ کی حکومت کی ذہنی حالت کا ضرور عکاس ہے کہ سندھ کی حکومت پر حکومت پنجاب کی کارکردگی کس قدر سوار ہے۔ ویسے تو چین کی حکومت بھی وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے طرز حکمرانی کی معترف ہے۔ اور اسی لئے چین نے پنجاب میں پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی رفتار پر نہ صرف اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ بلکہ ان کی رفتار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پنجاب سپیڈ کا لقب بھی دیا ہے۔ تا ہم دوسری طرف چین سندھ میں پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی رفتار سے مطمئن نہیں ہے۔ اس ضمن میں تھر کے کوئلہ کا منصوبہ ایک واضح مثال ہیں۔ تھر میں کوئلہ سے بجلی کے منصوبوں کی سست رفتار سندھ کی حکومت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اور اس ضمن میں سندھ حکومت کی خراب کارکردگی پوے ملک کے لئے نقصان دہ ہے۔

سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ میں انداز حکمرانی کو تبدیل کیا ہے۔ وہ قائم علی شاہ کے انداز کو لے کر نہیں چلے ہیں۔انہوں نے اس تاثر کی بھی نفی کر دی ہے کہ قائم علی شاہ کا انداز ہی پیپلزپارٹی کا اندازہے۔ مراد علی شاہ نے بلا مردہ سندھ حکومت میں یک دم جان ڈال دی ہے۔ ایک دم سندھ میں کارکردگی اور کام کا ذکر ہونے لگ گیا ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ میاں شہباز شریف کا انداز ہے کیونکہ یہ تو گڈ گورننس کا معیار ہے۔ اور اگر سندھ اور پنجاب دونوں گڈ گورننس کے اعلیٰ معیار کے لئے کوشاں ہیں تو یہ ملک اور جمہوریت کے لئے خوش آئند ہے۔

اگر پنجاب کے گڈ گورننس کو دیکھ کر سندھ کی حکومت کو کہیں نہ کہیں پنجاب کے گڈ گورننس کے معیار کو شکست دینے کے لئے پنجاب فوبیا ہو گیا ہے تو یہ کوئی بری بات نہیں اچھی بات ہے۔ یہ مقابلہ ہماری ترقی و خوشحالی کے لئے بہترین ہے۔ اگر لاہور کی صفائی کو دیکھ کر اچی کی صفائی کی بھی کوشش کی جائے توا س میں کوئی بری بات نہیں۔ کراچی بھی لاہور جیسا صا ف ہونا چاہئے۔ اگر پنجاب نے اپنے امتحانی سنٹرز اور بورڈز سے بوٹی و نقل مافیا کا صفایا کر دیا ہے۔ تو سندھ میں بھی ایسی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔ جب سندھ کے امتحا نی سنٹرز میں نقل کی خبریں چلتی تھیں تو پنجاب کے بچوں پر بھی برا اثر پڑتا تھا کہ سندھ کے بچے نقل مار کر نمبر لیتے ہیں۔ پورے ملک میں شفاف میرٹ کے نظام کے لئے سندھ میں شفاف امتحانی نظام ناگزیر ہے۔

میری تو دعا ہے کہ سندھ کے بعد کے پی کے اور بلوچستان بھی پنجاب سے مقابلہ شروع کر دیں۔ وہ بھی پنجاب کو چیلنج کریں۔ یہ درست ہے کہ تحریک انصاف کے اندر بھی میاں شہباز شریف کے انداز حکمرانی کی گردش ہے۔ اور اسی گردش کے تحت پرویز خٹک کی تبدیلی کی بات کی جاتی ہے۔ لیکن اس وقت تو سندھ کوپنجاب فوبیا ہوا ہے۔ لیکن مراد علی شاہ نے جس رفتار سے کام کرنا شروع کیا ہے اس نے انہیں اگر میاں شہباز شریف کے ہم پلہ لا کر کھڑا نہیں کیا تو اسی صف میں ضرور کھڑا کر دیا ہے۔ اب لوگ یہ بات ضرور کر رہے ہیں کہ مراد علی شاہ سندھ میں گڈ گورننس کے لئے کوشاں ہیں۔ وہ عوام کی بھلائی کے لئے کام کر رہے ہیں اس کے نتائج وقت کے ساتھ ہی آئیں گے ۔ لیکن شاید سمت ٹھیک ہے۔پنجاب اور سندھ کے درمیان ہر قسم کا مقابلہ خوش آئند ہے۔ پنجاب اور سندھ کے درمیان ہر میدان میں مقابلہ ہونا چاہئے۔ اسی میں پاکستان کی ترقی ہے۔

مزید : کالم