سعودی فرمانروا کی ہدایت کے باوجود اوجر کمپنی نے ہزاروں ملازمین کو تنخواہ ادا نہیں کی

سعودی فرمانروا کی ہدایت کے باوجود اوجر کمپنی نے ہزاروں ملازمین کو تنخواہ ...

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں پھنسے غیر ملکی محنت کشوں کی حالت زار کی خبریں دنیا بھر کے میڈیا کی زینت بن گئی ہیں۔ سعودی عرب کو افرادی قوت بھیجنے والے ممالک نے اپنے شہریوں کی کسمپرسی پر اظہار تشویش کیا تو سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے گزشتہ ہفتے سعودی اوجر کنسٹرکشن کمپنی کو یہ حکم جاری کردیا کہ ملازمین کی رکی ہوئی تنخواہیں ادا کی جائیں، لیکن حیرت کی بات ہے کہ اس کمپنی نے سعودی فرمانروا کے احکامات کو بھی ہوا میں اُڑادیا ہے۔ ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق سعودی اوجر کمپنی کے ہزاروں ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئی ہیں، حتیٰ کہ سعودی فرمانروا کے حکم کے بعد بھی ایسا نہیں کیا گیا ہے۔ ایک پاکستانی شہری دولت خان بھی اس کمپنی کے ان بدقسمت ملازمین میں شامل ہیں کہ جنہیں گزشتہ سال ستمبر سے تنخواہ ادا نہیں کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ ان جیسے تقریباً 50 ہزار ملازمین تقریباً ایک سال سے تنخواہ کے منتظر ہیں۔ گزشتہ ہفتے ان بے کس ملازمین کے چہرے اس وقت کھل اٹھے کہ جب یہ خبر سامنے آئی کہ شاہ سلمان نے سعودی اوجر کمپنی کو حکم دے دیا ہے کہ ملازمین کی رکی ہوئی تنخواہیں ادا کی جائیں، لیکن اب ان کی خوشی گہرے ترین غم میں بدل گئی ہے کیونکہ اگر سعودی فرمانروا کے حکم کے باوجود انہیں تنخواہیں نہیں ملیں تو اب مدد کے لئے کس سے فریاد کریں۔ رپورٹ کے مطابق ملازمین کا کہنا ہے کہ شاہی فرمان کے باوجود انہیں تنخواہیں نہیں ملیں، جو تھوڑی بہت امید باقی تھی وہ بھی ختم ہوچکی ہے۔زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم بدقسمت غیر ملکی محنت کشوں کا کہنا ہے کہ کچھ سعودی حکام آتے ہیں اور بس یہ کہہ کر چلے جاتے ہیں کہ تنخواہ مل جائے گی، مگر گزشتہ کئی ماہ سے انہیں یہی سننے کو مل رہا ہے۔ بدحال محنت کشوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہیں اور وطن واپسی کے لئے رقم نہیں، اور اگر جلد ہی ان کے لئے کچھ نہ کیا گیا تو ان کی زندہ رہنے کی امید بھی دم توڑ جائے گی۔

تنخواہ ادا نہیں

مزید : علاقائی