دشمن کُھل کر سامنے آگیا

دشمن کُھل کر سامنے آگیا
 دشمن کُھل کر سامنے آگیا

  

اس مرتبہ یوم آزادی بلوچستان میں گزارنے کا موقع ملا۔والد محترم مجیب الرحمن شامی اور پروگرام نقطہء نظر کے میزبان اجمل جامی کے ہمراہ 12 اگست کی دوپہر کوئٹہ پہنچے۔ لینڈ کرتے ہی یہ بات واضح ہوگئی کہ شہر 8 اگست کے سانحہ کے اثرات سے ابھی تک پوری طرح نکل نہیں پایا۔ فضاء میں اِک افسردگی سی تھی جسے شاید الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ جتنے دن کوئٹہ میں قیام رہا شاید ہی کوئی ایسا آدمی ملا ہو جو 8 اگست کے سانحہ سے متاثر نظر نہ آیا ہو۔ اگر کہا جائے کوئٹہ شہر وکلاء کی ایک پوری نسل سے محروم ہوگیا تو بجا ہوگا، یہ خلاء پُر کرنا قطعاً آسان نہ ہوگا۔ اس دورے کی دعوت اس سانحہ سے پہلے دی گئی تھی۔ بلوچستان حکومت اور پاک فوج نے اس سال جشن آزادی بے حد دھوم دھام سے منانے کا فیصلہ کیا تھا تاہم دہشت گردوں کو قوم کی خوشیاں گوارا نہ تھیں۔ کوئٹہ دھماکے کے بعد اگر تقریبات کو یکسر ختم کردیا جاتا تو مطلب ہوتا کہ دہشت گرد اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔ لہٰذا فیصلہ کیا گیا کہ تقریبات سادگی سے اور شہداء کی یاد میں منعقد ہوں گی، اس طرح یوم آزادی شہداء کے خون کو سلام پیش کرنے کا ذریعہ بن گیا۔

دنیا کے کسی بھی شہر میں ایسا خوفناک سانحہ رونما ہوجائے تو یقیناًکئی دن کاروبار زندگی معطل رہے اور لوگ ایک عرصے تک اس کا رُخ کرنے سے بھی گھبرائیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یوم آزادی پر ہم چند صحافیوں کے ساتھ ساتھ پورے ملک سے 1700 سے زائد طلبا وطالبات ہم سے کئی گنا جوش و جذبے کے ساتھ کوئٹہ آپہنچے، یہ ناقابل یقین کامیابی ہائیر ایجوکیشن کمیشن، بلوچستان حکومت اور پاک فوج کی مشترکہ کاوشوں کے باعث ممکن ہوئی۔ ان طالبعلموں کا جذبہ اور ان کے والدین کی ہمت یقیناًقابل تحسین ہے۔

مقامی شہریوں سے ملاقاتوں میں طبیعت پر چھائی افسردگی نمایاں تھی لیکن ایک لمحے کیلئے کسی سے بھی خوف کی بو نہ آئی۔ یہاں تک کہ سول ہسپتال دھماکے میں شہید ہونے والے معروف وکیل داؤد کاسی کی طرف گئے تو اُن کے چھوٹے بھائی کا کہنا تھا، ’ٹوپی تو پھر بھی آسکتی ہے، سرسلامت رہنا چاہیے، یعنی وطن سلامت رہنا چاہئے۔ یہ جذبہ کسی ایک گھرانے تک محدود نہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری نے بتایا کہ جب وہ زخمیوں سے ملنے ہسپتال پہنچے تو خود بھی ذرا گھبراہٹ کا شکار تھے لیکن وہاں موجود ہر زخمی کی ایک ہی آواز تھی کہ اگر ملک کیلئے اس سے بھی بڑی قربانی چاہیے تو ہم تیار ہیں! یہی عہد آرمی چیف اور بعدازاں وزیراعظم کے سامنے بھی دہرایا گیا۔ جس قوم میں حب الوطنی کا ایسا جذبہ موجود ہو اُسے کوئی بھی دشمن، چاہے وہ چھپا ہو یا ظاہر، شکست دے دے، ایسا

ممکن نہیں۔تاہم ایسے میں ایک سوال جس نے پوری قوم کو چکرا رکھا ہے وہ یہ ہے کہ آخر ایسی خوفناک ترین کارروائی کس نے اور کیوں کی؟ کیا معاشرے کے اِن قابل ترین افراد کا خون بہانے کا مقصد صرف دہشت پیدا کرنا تھا یا دہشت گردوں کا روپ دھار کر کوئی اس سے بھی بڑا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ بلوچستان کی سول اور عسکری قیادت نے 8 اگست ہی کو اسے بھارت کی کارستانی قرار دے دیا تھا۔ محمود اچکزئی نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر زوردار تقریر کی، اس تقریر کی گونج بلوچستان میں اب تک سنی جاسکتی ہے۔ اُنہوں نے برہمی کا اظہار کیا کہ ہر چیز کا ذمہ دار راء کو قرار دے کر سکیورٹی ادارے اپنی ڈیوٹی سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ مجھ سمیت قریباً ہر پاکستانی کے ذہن میں بہت سے خیالات جنم لیتے رہتے ہیں لیکن ان کا اندازِ بیاں کرخت تھا اور الفاظ بے حد سخت تھے۔ یہی بات نرم الفاظ میں کہی جاتی تو شاید اثر بھی رکھتی۔

بہرحال ابھی پاکستانی قوم سانحہ 8 اگست کے ذمہ داروں کی تلاش میں تھی کہ چند ایسے واقعات رونما ہوگئے کہ مزید تلاش کی ضرورت نہ رہی۔ سانحہ کوئٹہ کے ٹھیک 5 روز بعد نریندر مودی نے بھارت میں کل جماعتی کانفرنس سے خطاب کیا۔ یہ کانفرنس بلائی تو مسئلہ کشمیر پر گئی تھی کہ کشمیر یا کم از کم کشمیری ضرور بھارت کے ہاتھوں سے نکلتے جارہے ہیں تاہم اس کانفرنس میں مودی کی تقریر کا ہدف بلوچستان اور گلگت تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اِن علاقوں میں کئے گئے مظالم کا حساب دینا پڑے گا۔ میں نے اور میرے جیسے بہت سے پاکستانیوں نے اس بیان کو سانحہ کوئٹہ سے نہ جوڑا کہ خیال تھا مودی صاحب کشمیر میں ہونے والی رسوائی کا غصہ اس زبانی جمع خرچ کے ذریعے نکال رہے ہیں تاہم پھر اگلے روز براہمداغ بگٹی کی ایک ویڈیو منظر عام پر آگئی، اس میں وہ انگریزی زبان میں ’مظلوم بلوچوں‘ کا ساتھ دینے پر بھارتی وزیراعظم کا شکریہ ادا کررہے ہیں۔ اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ نریندر مودی نے گزشتہ روز بھارت کے یوم آزادی پر تقریر کی تو کہنے لگے کہ بلوچستان اور گلگت سے انہیں بے تحاشہ شکریے کے پیغامات وصول ہورہے ہیں۔ ایسے میں یہ جانچنا مشکل نہیں کہ شکریہ کا پیغام بھی شاید اسی لئے چلوایا گیا کہ مودی صاحب کو بھی شکریہ ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔

گزشتہ ایک ہفتے کے ان واقعات کو دیکھا جائے تو حقیقت دو جمع دو چار کی طرح واضح ہے۔ بھارت کو کشمیر میں جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اُسے مٹانے کیلئے اُس نے بلوچستان کو ہدف بنالیا ہے۔ وہ بلوچستان جو پاک چین اقتصادی راہداری کا مرکز ہے، جس کا تابناک مستقبل اسے ہضم نہیں ہورہا۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ دشمن اب بلوچستان میں کُھل کر سامنے آگیا ہے۔

مزید : کالم