واجبات کی عدم دائیگی ،نیسپاک مالی مشکلات کا شکار ،کام کی رفتار سست ہو گئی

واجبات کی عدم دائیگی ،نیسپاک مالی مشکلات کا شکار ،کام کی رفتار سست ہو گئی

لاہور(شہبا زاکمل جندران//نیوز رپورٹر) نیسپاک نے صوبے بھر میں کام کی سست رفتار کو واجبات کی عدم ادائیگی سے مشروط قرار دیدیا۔صوبائی اداروں کے ذمے کروڑوں روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے نیشنل انجینئر نگ سروس پاکستان کو نہ صرف مالی مسائل کا سامنا ہے بلکہ بہت سے منصوبے تاخیر کا شکار بھی ہورہے ہیں۔کارپوریشن کو فوری ادائیگی کی جائے۔وزیر اعلیٰ کے حکم پر پنجاب بھر کے صوبائی سرکاری و نیم سرکاری دفاتر نے نیسپاک کے واجبات کا حساب شروع کردیا۔معلوم ہواہے کہ نیشنل انجینئر نگ سروس پاکستان (نیسپاک ) نے پنجاب حکومت سے درخواست کی ہے کہ مختلف سرکاری اداروں کے ذمہ واجبات ادا کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔بتا یا گیا ہے کہ مختلف صوبائی اداروں نے کنسلٹیشناور ایگزیکیوشن کی مد میں نیسپاک کو کروڑوں روپے طے شدہ وقت گزرنے کے کئی ماہ بعد بھی ادا نہیں کئے۔جس سے نہ صرف نیسپاک کو مالی مسائل کا سامنا ہے بلکہ بہت سے منصوبوں میں کنسلٹیشناور آپریشن کے دیگر معاملات تاخیرکا شکار ہونے لگے ہیں۔جس پر شعبہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے خط نمبر4(94)-RO(CONSULTANCY)2016کے ذریعے صوبے کے تمام انتظامی سیکرٹریوں ،پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیوٹاکے چیئرمین ، لاہور رنگ رروڈ کے چیئرپرسن ، صوبے کی تمام اتھارٹیوں کے ڈائریکٹر جنرلز ،واسا ، ٹیپا، ایل ڈبلیو ایم سی اور دیگر کے مینیجنگ ڈائریکٹرز اور لاہور ، راولپنڈی ، فیصل آباد ، گجرات اور ننکانہ صاحب کے ڈی سی اوز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وزیر اعلیٰ آفس کے حکم کے مطابق نیسپاک کے تمام واجبات فوری ادا کرکے رپورٹ کی جائے۔بتایا گیا ہے کہ پی اینڈڈی کی طرف سے لیٹر موصول ہونے کے بعد صوبے کے تمام سرکاری و نیم سرکاری اداروں کی انتظامیہ نے ایسے منصوبوں کی تفصیلات اکٹھی کرنا شروع کردی ہیں۔ جو نیسپاک کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچے یا زیر تکمیل ہیں۔ یا ان منصوبوں میں کارپوریشن نے کنسلٹیشن فراہم کی۔اور اسے کتنی ادائیگی کی گئی یا کتنے واجبات ہیں۔

مزید : صفحہ آخر