کشمیر کی آزادی کی رات طویل ہو سکتی ہے لیکن وہ طلوع ضرور ہوگی :عرفان صدیقی

کشمیر کی آزادی کی رات طویل ہو سکتی ہے لیکن وہ طلوع ضرور ہوگی :عرفان صدیقی

لاہور (خصو صی رپورٹ) اقبا ل اکیڈمی پاکستان کے زیر اہتما مِ یوم آزادی کے حوالے سے اقبال کشمیر اور پاکستان کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مشیر وزیر اعظم پاکستان عرفان صدیقی نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کی رات طویل ہو سکتی ہے لیکن وہ طلوع ضرور ہو گی،کشمیریوں کو ان کا حق ملنا اب دور کی بات نہیں اور اقبال کی خودی اور فکر کشمیریوں کے دلوں میں موجود ہے ،اسی وجہ سے کشمیری آج بھی آزادی کے لئے تڑپ رکھتے ہیں اور انہیں اقبال کی خودی کا درس یاد ہے، انہیں غلام بنا ناممکن نہیں، ظلم و ستم برداشت کر کے آزادی کی تڑپ اقبال کے کلام کا ہی درس ہے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی پاکستان سہیل مفتی، نائب صدر منیب اقبال،نیوٹیک کے چیئرمین ذوالفقار چیمہ، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں افضل حیات، اقبال سکالر ڈاکٹر طاہر حمید تنولی اورہارون اکرم گل سمیت صحافیوں اور سول سوسائٹی کی بڑی تعداد شریک تھی۔مشیر وزیر اعظم پاکستان عرفان صدیقی نے کہا کہ جیسی یوم آزادی قوم نے رواں سال منائی وہ قابل تعریف ہے، بلوچستان میں تبدیلی آئی ہے، فاٹا میں امن قائم ہوا ہے جبکہ دنیا کے بڑے بڑے مانیٹری ادارے کہتے ہیں کہ پاکستان ترقی کی منازل طے کر رہا ہے، پاکستان سٹاک ایکسچینج چالیس ہزار کی حد کو پہلی بارچھونا ایک فخر کی بات ہے،حکومت نے آئی ایم ایف کو انکار کیا اور اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کا جو درس آج کے دور میں مل رہا ہے گزشتہ ستر سال میں نظر نہیں آیا، مایوسیوں کے بادل چھٹ رہے ہیں،عرفان صدیقی نے کہا کہ میڈیا کا حصہ ہونے پر فخر ہے، پیغمبرانہ پیشے کو اسی جذبہ سے کر رہے ہیں جیسا کرنے کا حق ہے، اگر کوئی قوم اقبال جیسا خزانہ ہونے کے باوجود اپنے آپ کو مفلس سمجھنے لگے اس سے زیادہ بدقسمت کوئی نہیں، انہوں نے کہا کہ شاہین کو کوئی جال ڈال کر قید نہیں کر سکتا، کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا، وہ اپنا شکار اپنے زور بازو پر کرتا ہے اور کسی پر تکیہ نہیں کرتا، ہم ایٹمی قوت ہیں، اور اپنی منزل خود بنانا جانتے ہیں،ہم جہاز بنا رہے ہیں ، شعور اور تحقیق میں بہت آگے ہیں۔ نائب صدر اقبال اکیڈمی پاکستان منیب اقبال نے کہا کہ علامہ اقبال کے افکار قوموں کی ترقی کی ضمانت ہیں، دنیا بھر کی اقوام اقبال کے افکار سے مدد حاصل کر کے اپنی منزل پا چکی ہیں، اقبال کے اشعار کو آج سوشل میڈیا پر پھیلایا جا رہا ہے ، جب کہ بہت سے ایسے اشعار پھیلائے جا رہے ہیں جوعلامہ اقبال کے ہے ہی نہیں، انہیں اقبال کے نام سے منصوب کرنا غلط ہے۔المیہ یہ ہے کہ ہم آگے بڑھنے کے باوجودبے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں، انہوں نے کہا کہ ہماری ماوں اور بہنوں نے وہ بچے پیدا کرنا چھوڑ دیئے ہیں جن کے دلوں میں آزادی کا خواب جگمگا رہا ہو، کشمیر کی تحریک کو ختم کرنا نا ممکن ہے، کشمیر کی آزادی کی رات طویل ہو سکتی ہے لیکن وہ طلوع ضرور ہو گی،ہم ایٹمی قوت ہیں اور اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کی کوشش کر رہے ہیں جلد پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک ہو گا، پاکستا ن کو اگر پاکستان بنانا ہے تو اقبال کی فکر کو ترقی دینا ہو گی،نیوٹیک کے چیئرمین ذوالفقار چیمہ نے کہا کہ اقبال کا پیغام آفاقی ہی نہیں الہامی بھی ہے، امت مسلمہ کا مقدمہ جس شان سے اقبال نے پیش کیا اور کوئی نہیں کر سکتا، میڈیا پر بیٹھے اینکر جب ہمسائیہ ممالک کے فنکاروں کا نام لیتے ہوئے فخر کرتے ہیں تو شرم محسوس ہوتی ہے، اقبال کا پیغام یہ نہیں تھا، کسی دوسری قوم کی پیروی کرنا ہمارے شایان شان نہیں، تم رسول کریم کی قوم ہو، اور خاص ہے اقوام میں قومِ رسول ہاشمی،آج حکیم الامت ہوتے تو ہمارے مسائل اور چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لئے کیا فرماتے،سابق وزیر اعلی ٰمیاں افضل حیات نے کہا کہ اقبال کے تصور پاکستان کے باعث آج آزادی کی زندگی گزار رہے ہیں، علامہ کی زندگی پاکستانی قوم کے لئے مشعل راہ ہے اور آج کے نوجوان کو چاہیے کہ اقبال سے راہنمائی حاصل کرئے،برطانوی صحافی عائشہ غازی نے کہا کہ اقبال کی روح نظرئیہ پاکستان اور خودی ہے اور ہم آج اس سے انحراف کر رہے ہیں،ہماری اس بے حسی کا آئندہ نسلوں کوجواب دینا ہو گا، تاریخ کبھی بے حسوں کو معاف نہیں کرتی، غلام وہی ہوتا ہے جس کی سوچ غلام ہے، کشمیریوں کی سوچ کبھی غلام نہیں ہوئی اور اسی لئے کشمیریوں کو کوئی غلام قوم نہیں کہ سکتا۔ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی پاکستان سہیل مفتی نے حاضرین اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اقبال کا پیغام آفاقی ہے اور ہمارے لئے مشعل راہ بھی، پاکستان کو درپیش مسائل کا حل فکر اقبال کو اپنانے میں مضمر ہے۔ نوجوان فنکار نے حاضرین کو اپنی بانسری کے سروں سے کلام اقبال خودی کا سر نہاں لا الہ الااللہ سنا کر خوب داد وصول کی۔

مزید : صفحہ آخر