دنیا میں ہزاروں لوگ اپنے دانتوں کو تار کول سے چمکانے لگے

دنیا میں ہزاروں لوگ اپنے دانتوں کو تار کول سے چمکانے لگے
 دنیا میں ہزاروں لوگ اپنے دانتوں کو تار کول سے چمکانے لگے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نیویارک(نیوزڈیسک) تارکول کو لمبے عرصے سے زہر کے علاج اور معدے جملہ امراض کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔حال ہی میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ جلد کو ٹھیک کرنے کے لئے بھی بہت زیادہ مددگار ہوتا ہے اور اب دنیا بھر میں لاکھوں لوگ اسے دانتوں کو چمکدار بنانے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔انٹرنیٹ پر کئی بلاگز اور ولاگز پر پڑھا اور دیکھا جاسکتا ہے کہ لوگ اپنے دانتوں کو چمکانے کے لئے تارکول کا سہارا لے رہے ہیں۔اس کے استعمال کے دوران منہ اور دانت مکمل طور پر سیاہ ہوجاتے ہیں۔کئی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اس طریقے سے انہوں نے دانت صاف کرتے ہوئے چائے،کافی،چاکلیٹ اور دیگرکھانے پینے کے نشانات صاف کئے ہیں۔اس طریقے میں آپ کوتارکول پانی میں مکس کرتے ہوئے اسے ٹوتھ برش کی مدد سے دانتوں پر لگا کر ملنا ہے۔کچھ ہی دیرمیں آپ کے دانت چمکدار ہوجائیں گے لیکن اس طریقے سے کچھ ماہر دندان مطمئن نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سائنسی طور پر اس طریقے کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہاجاسکتا۔اوورل ہیلتھ فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹوڈاکٹر نیگل کارٹر کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے دانت صاف کرنا ایک رسک ہے اور اس سے پرہیز کرنا بہتر ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے دانت وقتی طور پر صاف تو ہوجائیں گے لیکن ان پر موجود اینیمل اترنے کا خطرہ موجود ہے جس کی وجہ سے دانت میں درد اور ان کے خراب ہونے کا اندیشہ بڑھ جائے گا۔اس کا کہنا ہے کہ بہتر ہے کہ لوگ ٹوتھ پیسٹوں کا سہار ا لیں کیونکہ انہیں لیبارٹری میں تحقیق کے بعد تیار کیا جاتا ہے اور ان کے نقصانات ویسے نہیں ہوتے جس طرح تارکول یا اس طرح کے دیگر اجزا کے ہوسکتے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر