ائیر کنڈیشنرز کا بڑھتا استعمال جنوبی ایشیا سمیت دنیا بھر میں 1.5ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کوکنٹرول کی کوششوں کا خاموش قاتل

ائیر کنڈیشنرز کا بڑھتا استعمال جنوبی ایشیا سمیت دنیا بھر میں 1.5ڈگری سینٹی ...

پاکستان سمیت جنوبی ایشیا ء کا علاقہ تا حال موسمیاتی تبدیلیوں سے گرمی کی لہر میں اضافے کے باعث ہونے والے نقصانات کا ادرک کرنے سے قاصر نظر آ رہا ہے۔

امریکی ادارہ نیشنل اکیڈمی آف سائنس کی رواں سال رپورٹ میں پاکستان کو دنیا کے ایئر کنڈیشنرز کے سب سے زیادہ استعمال کنندہ ممالک کی لسٹ میں پانچواں درجہ دیا گیا ہے۔

ایئرکنڈیشنرز نہ صرف ماحول کو گرما رہا ہے بلکہ آنکھوں اور جلدی سمیت بہت سی بیماریاں ائے سی کے باعث جنم لے رہی ہیں۔ ڈاکٹر ثناء خان

() جنوبی ایشیاء سمیت دنیا بھر میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ہمارا ملک پاکستان جنوبی ایشیاء کے ایسے حصے میں واقع ہے ، جہاں گرمیوں کا موسم طویل تر ہوتا جا رہا ہے اور عموماًدرجہ حرارت موسم گرما میں 100ڈگری فارن ہائیٹ (38ڈ گری سینٹی گریڈ) ہونا ایک معمولی امر ہے، جبکہ صوبہ پنجاب اور سندھ سمیت بلوچستان میں گرمیوں کا موسم طویل سے طویل تر ہوتا جا رہا ہے جبکہ ان صوبوں میں موسم گرما میں درجہ حرارت122ڈگری فارن ہائیٹ یعنی 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا جاتا ہے جس کے باعث ہر انسان اپنے گھروں اور دفاتر میں مقید ہو نے کو ترجیح دے رہا ہے،موجودہ زمانے میں تعمیرات بھی ایسی ہیں کہ ہوا دار نہ ہونے کے باعث ایئر کنڈیشنرز لگانے کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے، اس سوچ سے بالاتر ہو کر کہ ایئر کنڈیشنرز سے خارج ہونے والی گرم ہوا باہر کے درجہ حرارت کو مزید گرم کرنے کا باعث بن رہی ہے، غریب ہو یا امیر ایئر کنڈیشنر کا استعمال پاکستان میں اب ایک ضرورت بن چکی ہے۔امریکی ادارہ نیشنل اکیڈمی آف سائنس کی رپورٹ میں سال2015ء میں پاکستان کو دنیا کے ایئر کنڈیشنرز کے سب سے زیادہ استعمال کنندہ ممالک کی لسٹ میں پانچواں درجہ دیا گیا ہے، یہ اس وجہ سے ہے کہ یہاں ایئر کنڈیشنرز کاا ستعمال خطرناک حد تک بڑ ھ گیا ہے، جو نہ صرف گرمی کی شدت میں اضافے کا باعث ہے بلکہ توانائی کے بحران کو مزید بڑھانے والے ایک جز و کی صورت اختیار کر چکا ہے،نیشنل اکیڈمی آف سائنس امریکہ کی رپورٹ کے مطابق ایک گھنٹے میں ایک ایئر کنڈیشنر کے استعمال میں آنے والی توانائی سے ایک گھنٹے میں دس سے بیس پنکھے چلائے جا سکتے ہیں جبکہ ماحول کواے سی سے خارج ہونے والی گرم ہوا سے بدستور نقصان پہنچ رہا ہے جس کے لئے طرز زندگی میں بدلاو کا مظاہرہ کر کے ہی ماحول دوستی کا اظہار ممکن ہے جبکہ توانائی کے بحران میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

2015ء کو دنیا کا گرم سال قرار دیا گیا ہے جبکہ ابھی سال2016ء کے سات ماہ مکمل ہوئے ہیں اور ابھی سے سال 2016ء کو دنیا بھر میں تاریخ کا گرم ترین سال قرار دیا جا رہا ہے،کیونکہ دبئی، پیرس، لاڑکانہ،راجستھان،ٹیکساس،سٹاک ہوم،لندن، سڈنی،ٹوکیو، بیجنگ،میلان،اوٹاوا،ایمسٹرڈیم،میونخ ،جدہ،ویانا،سٹاک ہوم ،ماسکو،برسلز،کوپن ہیگن اور بارسلونا سے حاصل کردہ گرم ترین درجہ حرارت میں ایک ڈگری کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے،جو آئندہ نسلوں کے لئے خطرے کا الارم بجا رہا ہے، گرمی کے موسم میں ایئر کنڈیشنر کے استعمال کی بات کریں تو نیشنل اکیڈمی آف سائنس اور لارنس بارکلے لیبز کی رپورٹ بتاتی ہے کہ زیادہ ایئر کنڈیشنر کے استعمال کا مطلب ہے کہ گرین ہاوس گیسوں کے اخراج میں اضافہ جو زندگی کی بقاء کے لئے خطرہ کی گھنٹی سے کم نہیں۔

دنیا بھر میں ایئر کنڈیشنر کے استعمال کا جائزہ لیں توآبادی، موسم اور لوگوں کی بڑھتی ہوئی قوت خرید کے لحاظ سے جاری کئے گئے نیشنل اکیڈمی آف سائینس کی تحقیق کے مطابق پاکستان اس سلسلے میں پانچویں نمبر پر ہے کیونکہ پاکستان کی آبادی اٹھارہ کروڑ بیس لاکھ سے زائد اور ایئر کنڈیشنر کے استعمال کے لئے درکار آب و ہوا کا حامل ملک ہے، اس کی بڑھتی ہوئی فی کس آمدنی اسے ایئر کنڈیشنر کے استعمال کے لئے مزید موزوں بناتی ہے، تحقیقی رپورٹ کے مطابق بھارت اپنی ایک ارب بیس کروڑ آبادی کے ساتھ سب زیادہ استعمال کنندہ ممالک کی لسٹ میں سر فہرست ہے جبکہ چین اپنی اقتصادی ترقی اور میگا سٹرکچرز کے باعث ایک ارب تیس کروڑ سے زائد آبادی کا حامل ہونے ہونے کے ناطے سالانہ ایئر کنڈیشنرزاستعمال کرنے والے ممالک کی لسٹ میں دوسرے درجے پر موجود ہے،انڈونیشیا پچیس کروڑ کی آبادی کے ساتھ تیسرے نمبر پر جبکہ گرمی میں شدت اور سترہ کروڑ آبادی کا حامل افریقی ملک نائیجیریاء چوتھے نمبر پر موجود ہے، ایئر کنڈیشنرز استعمال کرنے والے ممالک کی جائزہ رپورٹ کے مطابق چھٹے نمبر پر بنگلہ دیش اپنی پندرہ کروڑ آبادی کے ساتھ موجود ہے، اسی طرح برازیل کا جائزہ بتاتا ہے کہ بیس کروڑ آبادی والا یہ ملک سالانہ ایئر کنڈیشنرز کے استعمال میں ساتویں نمبر پر جبکہ آٹھواں نمبر فلپائن کا ہے جہاں کا درجہ حرارت دنیا بھر میں کلائمٹ چینج کے باعث روز بروز بڑھ رہا ہے اور نویں نمبر پر امریکہ دنیا میں ایئر کنڈیشنرز کے استعمال میں فہرست میں موجود ہے جبکہ دسویں نمبر پر ویت نام، گیارہویں نمبر پر تھائی لینڈ اور بارہویں نمبر پر میکسیکو بارہ کروڑ بیس لاکھ آبادی کے ساتھ ایئر کنڈیشنرز استعمال کرنے والے ممالک کی لسٹ میں موجود ہیں جس سے دنیا کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کو نہ صرف دھچکا لگ رہا ہے بلکہ یہاں کی آبادیاں صحت کے مسائل کا شکار ہو رہی ہیں جنہیں ترقی یافتہ ممالک سمیت پاکستان جیسے ترقی پزیر ممالک تاحال کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔ ذیل میں رپورٹ چارٹ بھی موجود ہے تاکہ فی کس آمدنی اور آبادی کا جائزہ لیا جا سکے۔

جنوبی ایشیاء میں گرمی کی لہر میں دن بدن اضافہ دیکھا جا رہا ہے ، پاکستان سمیت تما خطہ اس گرمی کے باعث بیماریوں میں مبتلا ہو رہا ہے جس کی روک تھام کے لئے اقوام متحدہ سمیت دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سر جوڑ کر بیٹھے میں اور گزشتہ بیس سال سے کی جانے والی کوششوں کو سال 2015دسمبر میں پیرس ایگریمینٹ کی صورت میں کچھ کامیابی کی نوید نظر آ رہی ہے لیکن پاکستان اور جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک اس بڑھتے ہوئے خطرے کو تاحال کنٹرول کرنے کی جانب کچھ قدم اٹھاتے نظر نہیں آ رہے اور پاکستان پانچوین درجے پر ایئر کندیشنرز کے استعمال سے اپنے ماحول کو مزید گرم کرنے کا باعث بن رہے ہیں جو ایک خطرناک علامت ہے، ماہر چشم ڈاکٹر ثناء خان نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ ایئر کنڈیشنر ز کے استعمال کے بعد فوری باہر نکلنے کے باعث لوگوں کو آنکھوں کی بیماریوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ جلدی بیماریوں سمیت دیگر بیماریاں بھی بڑھ رہی ہیں ۔

ایئر کنڈیشنرز بنانے والی اور ان کے پارٹس سپلائی کرنے والی کمپنیوں کے اعداد وشمار کا جائزہ لیں تو اب و ہوا کے لحاط سے پاک و ہند کا خطہ ایئر کنڈیشنر کے استعمال کے لئے آئیڈیل ہے، جہاں موسم گرم مرطوب ہے اور ائرکنڈیشنر کی سہولت ایک ضرورت ہے، دنیا کی ایک چوتھائی سے زائد آبادی اس خطے میں آباد ہے،اور گرمیوں کے موسم میں پاکستان اور بھارت میں درجہ حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی بڑھ جاتا ہے ، جبکہ رواں سال دبئی میں درجہ حرارت 55ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی ریکارڈ کیاگیا ، کلائمٹ چینج تجزیہ کاروں کے مطابق دبئی کے میگا کنکریٹ سٹرکچر کے باعث ہوا میں گرمی کی شدت میں مسلسلْ اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایئر کنڈیشنرز کی بہتات کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ دیکھا گیا،جو آئندہ سالوں میں وہاں کی آبادی کے لئے ایک خطرے سے کم نہیں،امریکی ادارہ نیشنل اکیڈمی آف سائنس کی ریسرچ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایئر کنڈیشنرز کے بڑھتے ہوئے استعمال اورخرید میں پاکستان دنیا کا پانچواں ملک ہے ،جبکہ نیشنل اکیڈمی آف سائنس کے مطابق چین میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ایئر کنڈیشنرز کی خرید میں ہر سال سو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور ہر سال چھ کروڑ ایئر کنڈیشنرز فروخت کئے جاتے ہیں ،جو امریکہ کی سالانہ ایئر کنڈیشنر فروخت سے آٹھ گنا زیادہ ہیں ۔

پاکستان میں صرف پیل کمپنی نے سال 2015ء میں ایئر کنڈیشنرز کی فروخت سے دو ارب روپے سے زائد کا نفع حاصل کیا ہے، ہائیر ایئرکنڈشنرزکی فروخت رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں صرف سال 2015میں 8 لاکھ پچاس ہزار یونٹس فرخت ہو رہے ہیں،ایک سپیشل رپورٹ ہائر پاکستان کے مطابق ملک میں 34 کمپنیاں ایئر کنڈیشنر بنا رہی ہیں جبکہ دو فیصد ایئر کنڈیشنر سمگلنگ کے زریعہ پاکستان لایا جا رہا ہے، جبکہ دو سو سے اڑھائی سو تک ا ن تمام کمپنیوں کے ڈیلرز نیٹ ورک ملک بھر میں موجود ہیں، جبکہ چین سے درآمد کردہ ایئر کنڈیشنرز پارٹس کو پاکستان میں اسمبل کیا جارہاہے ،پاکستان میں سالانہ ایئر کنڈیشنر ز کی فروخت سے یہ کمپنیاں 50ارب روپے سے زائد حاصل کر رہی ہیں۔

امریکی ادارہ نیشنل سائنس اکیڈمی کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں گرمی کی شدت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور اس کا ایک اہم حصہ ایئرکنڈیشنر سے خارج ہونے والی گرمی ہے ،کلائمٹ چینج پر کام کرنے والی تنظیموں اور اداروں کا زور دنیا سے گرمی کی شدت میں کمی کرنے

پر مرکوز ہے، دنیا سے گرمی کا خاتمہ ہو گا یا آئندہ مزید گرمی بڑھتی جائے گی اس کا انحصار انسان کی روز مرہ زندگی پر منحصر ہے، انسان کا لائف سٹائل بدلتا جا رہا ہے اور اس کے بدلنے سے ہی انسان تباہی کی جانب گامزن ہے، یہ تباہی انسان کی اپنی پیدا کردہ ہے، لیکن سوچنا یہ ہے کہ اس گرمی کی وجوہات کو ختم کرنے کے لئے کچھ کوششیں کی جائیں گی یا پھر دنیا اپنی ڈگر پر چلتی رہے گی،دنیا کی بقاء اور سلامتی اور ہمارے بچوں کے مستقبل کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے لائف سٹال کو تباہی کا باعث نہ بنائیں بلکہ آئندہ نسلوں کی بقاء کے لئے ایسی روش اختیار کریں کہ زندگی کے وجودکو قائم رکھنے کا جوازقائم رہ سکے۔

مزید : ایڈیشن 2