اسلامی بینکاری میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے

اسلامی بینکاری میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے

پینل انٹرویو: مبشر میر، نعیم الدین ، غلام مرتضی

تصاویر: عمران گیلانی

بزنس پاکستان: سینٹر آف ایڈوائزری سروسز فار اسلامی بینکنگ اینڈ فنانس کے کیا مقاصد ہیں ؟

محمد عارف :CAIFکو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ حکومت سے منظور شدہ ایک آزاد ادارے کے طور پر کام کرے ۔ ہمارے ادارے کا بنیادی مقصد عوام کے سامنے اسلامک بینکنگ اور فنانس سے متعلق معلومات فراہم کرنا ہے ۔ہم ورلڈبینک اور اسلامک ڈیولپمنٹ بینک کے ساتھ مل کر اسلامک بینکنگ ،مائیکرو فنانس اور تکافل کے لیے کام کررہے ہیں ۔ہمارے ادارے کے تحت اسلامک مارکیٹ میں اسلامک پروڈکٹس اور بہتر منافع کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جاتی ہے ۔جبکہ تعلیمی اداروں میں ریسرچ سینٹر کا قیام ،طلباء و طالبات کو نیا طرز تعلیم دینا ،ورکشاپس اور ریفریشر کورسز کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔CAIFفنانشل کے زیر اہتمام تعلیمی اداروں میں سیمینارز ،ورکشاپس اور تعلیمی کورسز کا انعقاد کیا جائے گا جس سے اسلامک بینکنگ اور ریسرچ کو فروغ ملے گا ۔ ہم نے اس ضمن میں ایک بورڈ بھی تشکیل دیا ہے جس کے ارکان میں ڈاکٹر طاہر بھٹہ ،مبشر میر ،منظر نقوی ،نعیم اعوان ،پروفیسر سعید ،سجاد ظہیر اور احمد عمر شامل ہیں اس کے علاوہ ہماری کوشش ہے کہ ایک ایڈوائزری سروسز بورڈ کا قیام بھی عمل میں لایا جائے جس میں مختلف بینکوں کے سربراہان،اسٹیٹ بینک ،ایس ای سی پی کے نمائندوں سمیت ڈاکٹرعشرت حسین ،نسیم بیگ اور مولانا تقی عثمانی جیسی معروف شخصیات شامل ہوں ۔

بزنس پاکستان:اسلامی بینکار ی کو جس طرز پر فروغ دیا جارہا ہے، کیا آپ اس عمل سے مطمئن ہیں ؟

محمد عارف : 1977ء میں اسلامی ممالک کی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا، جہاں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہم نے اسلامی قوانین کو شعبہ بینکاری میں نافذ کرنا ہے، وہاں سے اسلامی بینکاری کا آغاز ہوا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آج تک لوگوں میں اسلامی بینکاری کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ وہ اسلامی بینکاری نظام کو درست طریقے سے سمجھ نہیں پائے۔ وہ آج بھی یہ کہتے ہیں کہ اسلامی بینکاری اور فنانس دکھاوے کیلئے ہیں۔ دراصل اس کا منبع روایتی بینکاری ہی ہے۔ اسلامی بینکاری سعودی عرب، ملائیشیا، پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک سمیت یورپ میں بھی مقبول ہورہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا تسلسل ویسا نہیں ہے جو اتنی مدت گذر جانے کے بعد ہونا چاہیے تھا۔

بزنس پاکستان: اسلامی بینکاری کے مستقبل کو آپ کیسے دیکھتے ہیں ؟

محمد عارف : اسلامی بینکاری کا مستقبل اس لحاظ سے روشن ہے کہ یورپ اور پاکستان میں لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اسلامی بینکاری میں خلیجی ممالک کی سرمایہ کاری آئے گی اور دوسری بات یہ ہے کہ اسلامی بینکاری میں وہ لوگ سرمایہ کاری کرنا چاہیں گے جو سود کی طرف نہیں جانا چاہتے ہیں اور خوش قسمتی سے پاکستان کی آبادی 90 فیصد سے زائد مسلمانوں پر مشتمل ہے ، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس گاڑی کو زیادہ دن تک نہیں کھینچ سکیں گے۔ اگر ہم اسلامی بینکاری کو اسی طرز پر چلاتے رہے تو یہ اپنی افادیت کھو دے گا ۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ اس میں تبدیلی لائی جائے۔ جب کوئی نظام وجود میں آتا ہے تو اس میں ایک ٹرانزیشنل پیریڈ (Transitional Period) آجاتا ہے ۔ جس کے تحت نظام میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، جیسا کہ یورپ اور امریکہ میں بھی ہو رہی ہیں ۔ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں اسلامی بینکاری کی تعلیم دی جارہی ہے جبکہ بینکوں کے اپنے سینٹرز ہیں جہاں اسلامی بینکاری کی تربیت دی جاتی ہے۔ لیکن سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ اسلامی بینکاری میں ڈپازٹس ریٹس روایتی بینکاری کے برابر نہیں ہیں۔ اسلامی بینکاری میں دستاویزات زیادہ ہوتی ہیں، اس لیے سرمایہ کاری میں تاخیر ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر اگر کوئی سرمایہ کاری کرے اور کل کو اسے ضرورت پڑے تو وہ اس کو کیش کرواسکے۔ لیکن اسلامی بینکاری میں جو شارٹ ٹرم مارکیٹ ہے وہ تقریباً in liquide ہے ۔ اس میں کسی قسم کی ٹرانزیکشن (transaction) نہیں ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ نے کسی بینک سے قرض لیا تو آپ اس کو کسی اور جگہ منتقل نہیں کرسکتے جیسا کہ روایتی بینکاری میں ہوتا ہے۔ 80 تا 90 فیصد بینکوں کے پاس زیادہ تر short term deposits ہوتے ہیں اور انہیں انہی ڈپازٹس کے ذریعے کام چلانا ہوتا ہے اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو وہ returns نہیں نکال سکیں گے۔

بزنس پاکستان: کیا اسٹیٹ بینک نے ایسی پالیسیوں کا اطلاق کیا ہے جو اسلامی بینکاری کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں ؟

محمد عارف : اسٹیٹ بینک میں اسلامی بینکاری کے حوالے سے کام چل رہا ہے ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ ایک مکمل پیکج ہے جس کو ہم الگ الگ کرکے نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت کو قانون سازی کی ضرورت ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسٹیٹ بینک کی اسلامی بینکاری کے حوالے سے اپنی مانٹیرنگ چل رہی ہیں، ان کی ٹیمیں جاتی ہیں اور بغور جائزہ لیتی ہیں۔ لیکن پروڈکٹ ڈیویلپمنٹ یہ ہے کہ اس کو اپنے صارفین کو کیا پروڈکٹس دینی ہیں وہ تو اس بینک کو از خود ڈیزائن کرنا ہوگا۔ اس عمل کے لیے اسٹیٹ بینک ، یونیورسٹیاں اور ریسرچ سینٹرز بھی بینک کو معاونت فراہم کرسکتے ہیں۔ میں جب گذشتہ سال جدہ گیا تھا تو میری اسلامک ڈیویلپمنٹ بینک سے بات ہوئی تھی۔ سعودی عرب میں تقریباً 53 فیصد اسلامی بینکاری ہے، لیکن ان کا نظام یکسر مختلف ہے جو پاکستان کے معروضی حالات سے میل نہیں کھاتا ہے ۔ کویت کے علاوہ سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک ڈالر کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جبکہ پاکستان تو فری مارکیٹ کے اصولوں کے تحت چل رہا ہے۔ جہاں ریٹس روزانہ کی بنیادوں پر تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ زیر تبصرہ ممالک میں پیسہ بہت ہے اس لیے وہاں کی حکومتیں اسلامی بینکاری کو اپنی منشاء کے مطابق چلا رہی ہیں۔ لیکن پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے یہاں پر اسلامی بینکاری میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیوں کی اشد ضرورت ہے۔

بزنس پاکستان: شریعہ ایڈوائزری کونسل کے حوالے سے آپ کیا کہنا چاہیں گے ؟

محمد عارف : شریعہ ایڈوائزری میں بھی کچھ تضاد ات پائے جاتے ہیں وہ اس طرح کہ اسٹیٹ بینک کا جو ایڈوائزری ہے وہ ہی حکومت کا بھی شریعہ ایڈوائزری بورڈ ہے جس کی سربراہی تقی عثمانی صاحب کررہے ہیں ، ایسی صورت میں اگر کوئی اسلامی بینک اپنی کوئی تجویز اسٹیٹ بینک کو بھیجتا ہے اور اسٹیٹ بینک اس سے متفق نہیں ہوتا تو اسٹیٹ بینک کا فیصلہ حتمی تصور کیا جائے گا لیکن جی سی سی ممالک اور سعودی عرب میں ایسا نہیں ہے ، وہاں کے اسلامی بینکوں کے شریعہ ایڈوائزر آزاد ہیں ۔ وہاں پر ان بینکوں کے فیصلوں میں مرکزی بینک مداخلت نہیں کرتا ہے۔ ہمیں ان مسائل کے حل کیلئے اور راستے ڈھونڈنے ہوں گے۔ مثال کے طور پر اگر حکومت پبلک یا بینکوں سے borrow کررہی تو وہ ’’اجارہ‘‘ کے تحت یہ امور انجام دے رہی ہے ۔ ’’ اجارہ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ایک چیز خریدی اور پھر اس نے وہ چیز آپ کو کرائے پر دے دی وہ کرایہ آپ کا منافع ہوگیا۔ جب میں وہاں تھا اور اس وقت ہم نے جس بانڈکا اجراء کیا تھا اس کے تحت ہم نے پبلک کو لاہور سے اسلام آباد موٹر وے فروخت کی تھی اور ابھی جو ’’سکوک بانڈز‘‘ جاری ہوئے ہیں اس کے تحت جناح ٹرمینل کو فروخت کیا گیا ہے۔

بزنس پاکستان: کیا پاکستان میں فروغ پانے والی اسلامی بینکاری دوسرے ممالک میں ہونے والی اسلامی بینکاری سے مختلف ہے ؟

محمد عارف : پاکستان میں تو اس بات کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہوپارہا ہے کہ ’’سود‘‘ کی کیا تعریف ہے۔ وہ معاملہ بھی سپریم کورٹ میں زیرالتواء ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں اکثریت فقہ حنفیہ سے تعلق رکھتی ہے اور سود سے متعلق ہماری definition بہت سخت ہے اور ملائیشیا میں امام شافعی ؒ کو follow کیا جاتا ہے ۔ وہاں جتنے بھی پروجیکٹس بن رہے ہیں ان کے لیے وہاں اسلامی طریقے سے سرمایہ کاری جمع کی جارہی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اگر اسلامی بینکوں کے پاس سرمایہ کی کمی ہوجائے تو وہ روایتی بینکوں کی طرز پر قرضے حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے کوئی راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ اسٹیٹ بینک ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کے تحت اسلامی بینکوں کو قرضے دیتا ہے ۔ میں نے یہ سوچا کہ اس طرز کا ایک ماڈل بنا کر اسکو پاکستان میں نافذ العمل کیا جائے تاکہ کوئی مستقل حل نکل سکے۔ اختلافات تو اپنی جگہ لیکن سب سے زیادہ اہمیت کی حامل چیز ہے ’’ریسرچ‘‘ اگر آپ کے پاس کسی چیز کا جواب نہیں ہے تو آپ اسے کیسے ڈھونڈیں گے۔ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہاں پر پہلے ہی لاتعداد ادارے کام کررہے ہیں اگر آپ نے کوئی ادارہ بنایا ہے تو کیا فرق پڑے گا۔ یہ اسی طرح ہے کہ آپ کسی مرتے ہوئے شخص کو دیکھیں اور یہ کہیں کہ چھوڑو یار ہمیں اس سے کیا لینا دینا ہے ۔ اسلامی بینکاری نظام میں دو تین بڑے فوائد ہیں ، وہ کچھ اس طرح ہیں کہ آپ پیسے کی بنیاد پر کسی کا استحصال نہیں کرسکتے ہیں۔ دوسرا بڑا فائدہ ہے کہ اس نظام میں حلال حرام کی تمیز ہے۔ تیسرا فائدہ یہ ہے کہ آپ نے کسی قسم کا ’’جوا‘‘ نہیں کھیلنا ۔ اس نظام سے مجموعی طور پر سارے معاشرے کو فائدہ ہے۔ پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ چاہے وہ مرکزی بینک ہویا اسلامی بینک ہو یا روایتی بینک وہ پاکستان کی 90 فیصد آبادی پر کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے۔ اسلامی بینک صرف گاڑیوں یا گھروں کی تعمیر کیلئے قرضے دے رہے ہیں جبکہ کاروبار کے لیے ان کے پاس کوئی پروڈکٹ نہیں ہے۔

بزنس پاکستان:تکافل کے نظام پر آپ کچھ کہنا چاہیں گے ؟ نیز یہ کہ یہ نظام روایتی انشورنس سے کس قدر مختلف ہے ؟

محمد عارف : تکافل ایک کوآپریٹو ادارے کی طرزپر کام کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جیسے 10 آدمیوں کا ایک پول بن گیا ۔ ان میں سے ایک آدمی کا انتقال ہوگیا تو وہاں سے پیسہ اس آدمی کو شفٹ کردیا جائے گا۔ تکافل کو ابھی کچھ عرصہ قبل ہی متعارف کرایا گیا ہے اور زیادہ تر یہ سعودی عرب اور جی سی سی میں مقبول ہورہا ہے۔

بزنس پاکستان: پوری دنیا میں اس وقت اسلامی بینکاری کا شیئر کتنے فیصد ہے ؟

محمد عارف : دنیامیں اسلامی بینکاری کی مجموعی مالیت 1.6 سے 2 ٹریلین کے درمیان ہے۔ ابھی ہم نے بہت آگے جانا ہے۔ اس وقت اسلامی بینکاری کا حجم بہت کم ہے

بزنس پاکستان: کیا اسلامی بینکاری کو فروغ دینے کے لیے مزید تبدیلیوں کی ضرورت ہے ؟

محمد عارف : بہت بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی ضرورت ہے ، جیسا کہ میں نے آپ کو اس سے قبل بتایا کہ اس کے لیے اسٹیٹ بینک اور حکومت کو آگے آنا پڑے گا۔ یہ جو ہم ورکشاپس اور کانفرنسز کرتے پھرتے ہیں اس سے بہت ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اب باتوں سے کام نہیں چلے گا ۔ ہمیں ہر سال اس شعبے کا تقابلی جائزہ لینا ہوگا کہ ہم اس شعبے میں کتنا آگے بڑھتے ہیں اور نئے مسائل پر کس طرح قابو پایا جاسکتا ہے یہ ایک دن میں ہونے والا نہیں ہے۔

بزنس پاکستان: دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں اسلامی بینکاری کی ترقی کی رفتار کیا ہے ؟

محمد عارف : پاکستان کی کل آبادی کا 10 فیصد حصہ بینکاری سے استفادہ کرتا ہے۔ بینکوں کا اصل مقصد تو یہی ہوتا ہے کہ وہ لوگوں سے پیسہ لیں اور کاروبار میں لگائیں لیکن بدقسمتی سے گذشتہ 3 تا 4 سال سے ایسا ہوتا نظر آرہا ہے۔

بزنس پاکستان: آپ کس طرح اسلامی بینکاری کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں ؟

محمد عارف : مثال کے طور پر اسلامی بینکوں کو ابھی تک ایک سسٹم میں نہیں لایا جاسکا ، اس لیے مرکزی بینک اور اسلامی بینکوں کو تعاون اور مدد فراہم کی جائے ۔ اس کے علاوہ نظام تعلیم کو نئے سرے سے ڈیزائن کیا جائے جس میں کرنٹ ایجوکیشن ہو اور اس بات کا بھی ادراک ہوتا رہے کہ ہم کہاں فائدے یا نقصان میں جارہے ہیں۔

بزنس پاکستان: آپ کے خیال میں اسلامی بینکاری کو درست سمت میں جانے میں کتنا عرصہ درکار ہے ؟

محمد عارف : ہمارے ملک کے بینک ہوں ، مالیاتی ادارے ہوں یا یونیورسٹیاں ان کو سب سے پہلے اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ یہاں سے غربت اور افلاس کا خاتمہ کس طرح کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے حکومت ، میڈیا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اور سب سے زیادہ اہم ہے کہ جنگی بنیادوں پر قانون سازی کی جائے۔ پاکستان میں 5 سیکٹرز ہیں درآمدات برآمدات ، خدمات ، مینوفیکچرنگ زراعت ، ہول سیل ریٹیل ۔ ان میں سے کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے کہ جس کے لیے مؤثر قانون سازی کی گئی ہو۔ آپ خدمات کو ہی لے لیں آپ کسی ڈاکٹر سے ٹیکس نہیں لے سکتے ہیں۔ کرپشن کا رونا رویا جاتا ہے لیکن قانون سازی کے لیے کوئی تیار نہیں۔

تعارف:محمد عارف

محمد عارف ایک معروف بینکار ہیں اور بینکنگ انڈسٹری میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔انہوں ن اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں 30سال سے زائد عرصہ خدمات سرانجام دیں اور ڈائریکٹر کے کلیدی عہدے پر کام کرتے رہے۔سال2007میں اسٹیٹ بینک سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے عارف حبیب انویسٹمینٹس میں بطور ہیڈ آف ریسرچ خدمات سر انجام دیں۔اب محمد عارف مؤ قر انگریزی اخبار’’دی فنانشل ڈیلی‘‘میں بطور ایڈیٹر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شیخ زید انسٹی ٹیوٹ آف کراچی یونیورسٹی،KASBIT،محمد علی جناح یونیورسٹی ،پی اے ایف کائٹ اور دیگر تعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات بھی سر انجام دے رہے ہیں۔محمد عارف نے متعددبین الاقوامی اداروں میں بھی کام کیا جہاں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔روزنامہ پاکستان نے محمد عارف کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا جس کا احوال قارئین کی نذر ہے۔

مزید : ایڈیشن 2