پاکستان اور مقبوضہ کشمیر میں بھات کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا،قابض فوج کی فائنگ سے مزید 2کشمیری شہید

پاکستان اور مقبوضہ کشمیر میں بھات کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا ...

سری نگر ( اے این این ) لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف بسنے والے کشمیریوں نے بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منایا ٗ گھروں اور دکانوں پر سیاہ پرچم لہرا دیئے گئے ٗ قابض بھارتی فوج نے فائرنگ کرکے مزید دو کشمیریوں کو شہید کردیا ٗ سری نگر میں پولیس سٹیشن پر مجاہدین کا حملہ ٗ 7 اہلکار زخمی ٗبھارتی فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا ٗوادی بھر میں کرفیو کا سماں ٗ پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری ٗ میر واعظ عمر فاروق اور سید علی گیلانی سمیت متعدد حریت رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کردیا گیا ٗ قابض افواج کی جانب سے احتجاجی جلوس پر آنسو گیس کے گولوں کی برسات ٗ خواتین کی ریلی پر بھی دھاوا ٗآسیہ انداربی سمیت درجنوں خواتین زخمی ٗ بھارت نے امدادی سامان مہیا کرنے کی پاکستانی پیشکش مسترد کردی۔ تفصیلات کے مطابق بھارت کے 70ویں یوم آزادی کے موقع پر کشمیری عوام کی جانب سے پیر کو مقبوضہ وادی میں یوم سیاہ منایا گیا ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق کشمیری عوام کی جانب سے مقبوضہ وادی میں یوم سیاہ منایا گیا جبکہ پوری وادی میں کرفیو کا سماں ہے۔ حریت رہنماؤں نے شہریوں کو سیاہ پرچم لہرانے اور سیاہ لباس پہننے کی ہدایت کی۔ بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر وادی بھر میں گھروں پر سیاہ پرچم لہرائے گئے جبکہ اس موقع پر وادی میں بھارتی مظالم کیخلاف احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئیں ۔برہان وانی کے ماورائے عدالت قتل کو 40روز مکمل ہونے کو ہیں لیکن وادی میں کشیدگی اب بھی برقرار ہے ، قابض بھارتی فوج نے کرفیو لگارکھا ہے ۔ یوم سیاہ اور مکمل ہڑتال کے موقع پر بھارت مخالف مظاہرے روکنے کیلئے سری نگر کی تمام سڑکوں کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا ۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج نے گشت بڑھا دیا ہے ۔ قابض فوج نے ایک مرتبہ پھر بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بارہ مولہ میں کشمیری عوام پر سیدھی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں گولیاں لگنے سے مزید 2کشمیری شہید ہوگئے جس کے بعد 40روز کے دوران قابض فوج کی فائرنگ سے شہادتوں کی تعداد 83ہوگئی۔دوسری جانب مقبوضہ وادی میں تاریخی جامعہ مسجد کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں بھارتی فوج کے 7اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔ وادی میں فائرنگ کا تبادلہ کئی گھنٹے تک جاری رہا جب کہ بھارتی فوج نے علاقے کو گھیرے میں لیتے ہوئے سرچ آپریشن شروع کردیا۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے حریت رہنما سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو پھر گرفتار کرلیا ہے۔ پیر کو بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر بھارتی فوج نے کشمیریوں کی جانب سے کسی بھی مارچ کی کوشش کو ناکام بنانے کیلئے بلٹ پروف گاڑیاں سڑکوں کے درمیان کھڑی کردیں ۔ سیول لائنز کے حساس پولیس تھانہ مائسمہ کے حدود میں بھی لوگوں کی نقل وحرکت کو روکنے کیلئے تار بندی کی گئی تھی جس کیلئے پولیس اور سی آر پی ایف کی اضافی تعداد سڑکوں پر تعینات رہی۔لال چوک ، بڈشاہ چوک، ریگل چوک ، مولانا آزاد رو،اور دیگر علاقوں میں بھاری پولیس بندوبست کیا گیا تھا اور بڈشاہ چوک میں واقع اکھاڑہ بلڈنگ کے اردگرد بھی پولیس اور سی آر پی ایف کا سخت پہرہ بٹھایا گیا تھاجبکہ شہر میں حساس مقامات پر بھی پولیس کی نفری تعینات کی گئی تھی ۔ لال منڈی علاقہ کو لال چوک سے جوڑنے والے فٹ برج کو بھی لوگوں کی نقل وحرکت کے لئے بند کردیا گیا ہے۔

مزید : صفحہ اول