ناصر جنجوعہ نیشنل ایکشن پروگرام ٹاسک فورس کے سربراہ مقرر،سول آرمڈ فورس کے 29نئے ونگ بنانے کا فیصلہ

ناصر جنجوعہ نیشنل ایکشن پروگرام ٹاسک فورس کے سربراہ مقرر،سول آرمڈ فورس کے ...

سلام آباد(آن لائن) وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ملک میں سیکیورٹی کی صورت حال پر غور کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ کو نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی مانیٹرنگ ٹاسک فورس کا سربراہ مقرر کیا ہے جبکہ ملک کی اندرونی سلامتی،بارڈر مینجمنٹ کیلئے سول آرمڈ فورسزکے29ونگ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں گزشتہ روز وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس ہوا۔ اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف ، وزیر داخلہ چوہدری نثار،وزیرخزانہ اسحاق ڈار، مشیرخارجہ سرتاج عزیز اور مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں ملک میں داخلی سلامتی کی صورت حال، دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان پرعمل درآمد سے متعلق امور پر تفصیلی غورکیا گیا جبکہ سائبر کرائمز بل سے متعلق امور پر بھی زیر غور آئے ۔ وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے نیشنل ایکشن پلان کے مختلف نکات پر بریفنگ دی ۔اجلاس میں ملک کی اندرونی سلامتی،بارڈر مینجمنٹ کیلئے سول آرمڈفورسزکے 29ونگ بنانے کا فیصلہ کیا گیا، اس کے علاوہ وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ناصر جنجوعہ کو نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی مانیٹرنگ ٹاسک فورس کے سربراہ مقرر کیا گیا ہے، کمیٹی میں وفاقی سیکرٹری داخلہ ، ڈی جی نیکٹا ، چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز،داخلہ سیکرٹریز اور آئی جیز بھی شامل ہوں گے، اس کمیٹی کو ملک کی تمام سول و عسکری انٹیلی جنس ایجنسیوں کی معاونت حاصل ہوگی۔ اجلاس میں مزید فیصلے کئے گئے کہ دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں گے ۔ دہشتگردوں سے نمٹنے کے لئے صوبوں کو مزید فنڈز بھی دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ ملکی سکیورٹی سے متعلق یہ مسلسل تیسرا اجلاس ہے۔ گزشتہ ہفتے سانحہ کوئٹہ کے بعد دو مسلسل اجلاس منعقد ہوئے تھے۔سانحہ کوئٹہ کے بعد منعقدہ اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمدکا جائزہ لینے کے لئے مانیٹرنگ ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی متعلقہ ایجنسیاں بھی ٹاسک فورس کا حصہ ہوں گی۔

مزید : صفحہ اول