نیویارک: امام مسجد کے قتل کے حوالے سے ایک شخص زیر حراست

نیویارک: امام مسجد کے قتل کے حوالے سے ایک شخص زیر حراست

واشنگٹن (اظہرا زمان، بیورو چیف) نیویارک میں کوئنز کے علاقے میں ہفتے کی سہ پہر امام مسجد اور اس کے ساتھی کے قتل کے حوالے سے پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش اور تلاش کے بعد زیر تفتیش فرد کو مشتبہ یا ملزم قرار دیا جائے گا۔ اس دوران مسلم کمیونٹی کا احتجاج جاری ہے جو اسے مذہبی نفرت کا جرم قرار دے رہی ہے۔ تاہم پولیس کا ابھی قتل کے محرکات متعین نہیں کئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسجد کے آس پاس کی آبادی میں رہائش پذیر بنگلہ دیشیوں اور ہسپانوی کمیونٹی کے درمیان پہلے سے کشیدگی پائی جاتی ہے اور ممکن ہے کہ ہسپانوی باشندے نے اس رنجش کی بنا پر یہ قتل کئے ہوں۔ ہفتے کے روز کوئنز میں واقع اوزون پارک میں ’’الفرقان جامع مسجد‘‘ میں نماز ظہر پڑھانے کے بعد امام مسجد مولانا اجون جی اپنے ساتھی تہرام الدین کے ہمراہ مسجد سے نکلے ہی تھے کہ ایک نامعلوم شخص نے انہیں پیچھے سے گولی مار کر قتل کردیا تھا۔ اس واقعے کے فوراً بعد مسلم کمیونٹی نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر باقاعدہ ریلی کی صورت میں احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔ بعد میں عینی شاہدوں اور ویڈیو ریکارڈ سے حاصل کردہ معلومات کی بنا پر پولیس نے ملزم کا حلیہ جاری کیا تھا۔ اتوار کی رات پولیس نے ایک شخص کو اس سلسلے میں پکڑ کر تفتیش شروعکردی تاہم اس نے فی الحال اسے مشتبہ یا ملزم قرار نہیں دیا۔ اس دوران امریکی مسلمانوں کی اہم نمائندہ تنظیم ’’کائر‘‘ (کونسل اون امریکن اسلامک ریلیشنز) کے واشنگٹن میں واقع مرکزی دفتر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نہاد عواد نے نمائندہ ’’پاکستان‘‘ کو بتایا ہے کہ اس قتل سے ملک بھر میں اور خاص طور پر نیویارک میں مسلم کمیونٹی بجا طور پر خوفزدہ ہوگئی ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور اس جیسے دوسرے سیاستدان امریکی مسلمانوں کے خلاف سوسائٹی میں جو منافرت پھیلا رہے ہیں تو اس کا ایسا ہی نتیجہ نکلے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امام مسجد کے قتل کے بعد مسلم کمیونٹی کو مطمئن کرنے کیلئے پولیس حکام اصل ملزم کو پکڑ کر جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچائے۔

مزید : صفحہ اول