کیا الزامات کی سیاسی جنگ قانون کی عدالتوں میں لڑی جائیگی ؟

کیا الزامات کی سیاسی جنگ قانون کی عدالتوں میں لڑی جائیگی ؟

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

سیاسی جنگ ہمیشہ سیاسی میدانوں ہی میں لڑی جاتی ہے اور سیاستدانوں کے جوہر بھی یہیں کھلتے ہیں جب کوئی سیاسی مسئلہ عدالت میں چلا جاتا ہے تو سیاستدان اور سیاست پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور قانون، قانونی دلائل اور وکلاء کی قانونی مہارت پیش منظر میں آ جاتی ہے تاہم اگر کوئی سیاسی مسئلہ اتنا لاینحل ہو جائے کہ سیاستدانوں کے ہاتھ سے نکلتا ہوا محسوس ہو تو پھر اسے عدالت میں لے جانے میں مضائقہ نہیں ہوتا، لیکن قانون کی عدالت کا فیصلہ آ جانے کے بعد بھی سیاسی مسائل جوں کے توں رہتے ہیں، قانونی فیصلوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے، مثلاً یہی دیکھیے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا ایک قانونی عدالت نے دی تھی جس پر قانون کے مطابق عمل بھی ہوا تو کیا اس کے بعد خاموشی چھا گئی اور قانون کے فیصلے کو مان کر ان کے حامی اور مخالف خاموش ہوگئے؟ ایسا نہیں ہوا۔ بھٹو کے حامیوں نے انہیں شہید قرار دیا، ان کا عالیشان مزار بنایا، وہاں ہر سال ان کا دن منایا جاتا ہے، پیپلز پارٹی کے رہنما وہاں حاضری باقاعدگی سے دیتے ہیں۔ سندھ میں عام تعطیل ہوتی ہے وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہو تو جہاز بھر بھر کر اسلام آباد سے حاضری دینے کیلئے نو ڈیرو پہنچتے ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ قانون کی عدالت کا فیصلہ اپنی جگہ اور سیاست اور سیاسی فیصلے اپنی جگہ، اب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو قانونی نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جنہوں نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس میں دوسری کڑوی کسیلی باتوں کے علاوہ یہ بھی کہہ دیا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری اور ایان علی کے ہوائی سفر کے ٹکٹ ایک ہی اکاؤنٹ سے خریدے جاتے ہیں۔ باقی باتیں جو انہوں نے کہیں وہ پرانی تھیں اس لیے آپ انہیں پرانے الزامات کہہ سکتے ہیں۔ پریس کانفرنس میں یہی بات نئی بلکہ نویں نکور تھی اس لئے میڈیا میں اس کو اہمیت دی گئی، اب یہ بات درست ہے یا غلط اس کا چانن اس وقت ہو جائے گا جب چودھری نثار علی کوقانونی نوٹس ملے گا، ان سے معافی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اب اگر انہوں نے بلاول کے اطمینان کے مطابق معافی مانگ لی تو معاملہ رفت گزشت ہو جائے گا اور صورتحال واپس اس مقام پر چلی جائے گی جہاں چودھری نثار علی کی پریس کانفرنس سے پہلے تھی۔ معافی تلافی اگر ہو بھی گئی تو اس کا مطلب یہ قطعاً نہیں ہے کہ آئندہ سے الزامات نہیں لگیں گے، الزام بھی لگتے رہیں گے اور جوابی الزامات بھی لگتے رہیں گے، البتہ معافی کی صورت میں یہ الزام ختم ہو جائے گا۔ لیکن یہ تو تبھی ہوگا جب چودھری نثار علی خاں معافی مانگیں گے، اگر انہوں نے معافی نہ مانگی یا پھر اس طرح اگر مگر چونکہ چنانچہ کے ساتھ مانگی جو بلاول بھٹو اور ان کی پارٹی کو قبول نہ ہوئی تو پھر معاملہ ختم نہیں ہوگا بلکہ چلتا رہے گا اور عین ممکن ہے کہ رخ عدالتوں کی جانب ہو جائے۔ ایسی صورت میں تو عدالتی لڑائی چودھری اعتزاز احسن، سردار لطیف کھوسہ، فاروق نائیک اور اسی سطح کے ممتاز قانون دان ہی لڑیں گے۔ گویا میدان جنگ اس وقت تک عدالت میں منتقل ہو جائے گا جب تک مقدمہ چلتا رہے گا لیکن اس کے بعد کیا ہوگا؟ کیا اس کے بعد سیاستدان ایک دوسرے پر الزام تراشیاں بند کردیں گے؟ ہمارے خیال میں ایسا ہونا تو ناممکنات میں سے ہے۔ یہاں معاملہ ’’تو نہیں اور سہی، اور نہیں اور سہی‘‘ والا ہوگا۔ ایک الزام اگر تصفیے کیلئے عدالت کے سپرد ہوگیا تو کیا ہوا؟ ہزاروں ایسے الزامات منظرعام پر لائے جاسکتے ہیں، یہاں کون سے ثبوتوں کی ضرورت ہے اور کیا باقی سیاستدان روزانہ الزامات کا جو توبڑا مختلف سیاستدانوں بشمول وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ، وفاقی و صوبائی وزراء وغیرہ پر پھینکتے رہتے ہیں، اس کے انہوں نے کوئی ثبوت پہلے دیئے ہیں یا آئندہ کبھی دیں گے۔ دور نہیں جاتے خود بلاول بھٹو آزاد کشمیر کے حالیہ جلسوں میں جو الزامات لگاتے رہے کیا ان کے ثبوت ان کے پاس موجود ہیں؟ یا پارٹی کے دوسرے رہنما ثبوتوں کے ساتھ بات کرتے ہیں؟ اور اگر یہ الزامات عدالتوں میں جائیں تو وہاں ثابت ہوسکتے ہیں، یہاں تحریر کی سنگینی کو کم کرنے کیلئے ایک تاریخی واقعہ بیان کرنا مقصود ہے جو ہے تو سچا لیکن اس میں لطیفے کی سی چاشنی ہے اور ہماری سیاست کے ایک پہلو پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ آغا شورش کاشمیری نے اپنی کتاب ’’بوئے گل، نالۂ دل دودِ چراغِ محفل‘‘ میں لکھا ہے کہ ممتاز اہل حدیث عالم دین مولانا داؤد غزنوی کانگریس کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انتخاب کے بعد وہ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے، وہ پنجاب کانگریس کے فنانس سیکرٹری بھی تھے۔ جواہر لال نہرو کو مولانا داؤد غزنوی کے اس فیصلے سے دکھ پہنچا تو انہوں نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے شکوہ کیا کہ مولانا کو کہیں وہ جس جماعت میں بھی جائیں کانگریس کو پیسوں کا حساب تو دیتے جائیں۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے مسکرا کر جواب دیا ’’پنڈت جی محمود غزنوی نے کوئی حساب دیا تھا جو داؤد غزنوی دیں گے‘‘۔ قارئین محترم اس واقعے کا تجزیئے سے براہ راست تو کوئی تعلق نہیں البتہ سیاست میں ہونیوں اور انہونیوں کو سمجھنے کیلئے ایسے تاریخی واقعات ذہن میں آجاتے ہیں تو بات ہو رہی تھی بلاول بھٹو کے اس فیصلے کی کہ وہ چودھری نثار علی کو نوٹس دینے والے ہیں۔ یہ نوٹس جو بھی ہو اور اس کا فیصلہ جو بھی ہو، سیاسی الزام تراشیوں کے ختم ہونے کی صورت ایک ہی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر طے کرلیں کہ وہ الزامات کی سیاست نہیں کریں گی اور ایسا کوئی تحریری معاہدہ بھی کرلیں تو شاید الزام تراشی رک جائے ورنہ میثاق جمہوریت بھی تو ایک لکھا ہوا معاہدہ ہے اس پر کتنا عمل ہوا اور کتنا نہیں، یہ سب جانتے ہیں۔ میثاق جمہوریت پر دستخطوں کے فوری بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے جنرل پرویز مشرف کے ساتھ این آر او کیلئے مذاکرات شروع کردیئے تھے اور بالآخر این آر او طے بھی ہوگیا تھا۔ اس لئے جہاں لکھے ہوئے معاہدے بے حیثیت ہو جائیں وہاں زبانی کلامی وعدوں کی کیا حیثیت ہوتی ہے اور جناب آصف علی زرداری تو سیاسی معاہدوں کے بارے میں خود کہہ چکے ہیں کہ وہ کوئی حدیث نہیں ہوتے۔ ان حالات میں الزام تراشیاں تو ہوتی رہیں گی البتہ یہ دیکھنا ہوگا کہ بلاول بھٹو کے مجوزہ قانونی نوٹس کا مستقبل کیا ہوتا ہے اور کیا اب سیاسی لڑائی کیلئے عدالت کا رخ کیا جائے گا؟

مزید : تجزیہ