سانحہ کوئٹہ میں بھارت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ‘ سعید احمد مینس

سانحہ کوئٹہ میں بھارت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ‘ سعید احمد مینس

میلسی (نما ئندہ خصوصی ) میلسی رکن قومی اسمبلی اور مسلم لیگ ن کے مر کزی رہنما سعید احمد خان منیس نے کہا کہ بھارت نے پہلے ہم سے آدھا ملک چھین کر بنگلہ دیش بنوا دیا اب وہی پر یکٹس(بقیہ نمبر24صفحہ12پر )

اپنی خفیہ ایجنسیوں سے کراکر ہمارے ملکی حالا ت خراب کرر ہاہے امن وامان کی مو جود ہ صورتحال اور کوئٹہ سانحہ میں بھارت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جبکہ ہمارا خود ساختہ اتحادی امر یکہ اور اسرائیل بھی پاکستان میں عدم استحکام کر ایجنڈیپر بھارت کے ہمنواہیں تاہم حالات کے باوجود پاکستان کی قیادت میاں شہباز شریف کے مضبوط ہاتھوں میں ہے اور پاکستان اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے پاکستان کی معیشت مضبوط ہو چکی ہے اور دہشتگردی پر قا بو پالیا گیا ہے انر جی بحران پر تیزی سے کام جاری ہے آ ئندہ برسوں میں بجلی کی پید وار 26000میگا واٹ تک پہنچ جائیگی انہوں نے کہا کہ سی پیک اور گوادر پورٹ چائنہ سے اچھے تعلقات انڈیا کی موت کا سبب بن رہے ہیں اور وہ دوبارہ 1971والے حالات پیدا کر کے انا ر کی پھیلانا چاہتا ہے انہوں نے مزید بتایا کہ ہم نے وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے میلسی کیلئے میگا پرا جیکٹ کی استدعا کی ہے اور چند ہفتوں میں میگا پرا جیکٹ کا اعلان متوقع ہے مقامی اپوزیشن کو قومی تقر یب میں شر کت کی دعوت دی گئی لیکن وہ شریک نہیں ہو ئے ٹی ایم اے چیمبر میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مزید انہوں نے کہا کہ پولیس فورس پر گو عوام کا اعتما د بحال نہیں لیکن پولیس بھی جانوں کے نذرانے پیش کرر ہی ہے جیسا کہ میلسی ، بوریوالہ کے ڈکیت گینگ کو برسٹ کر کے خطر ناک جرائم پر قابو پانے جیسے اقداما ت تاریخی حیثیت کے حامل ہیں اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سید شفقت رضا بخا ری ٹی ایم او چوہدری محمد ندیم ، میلسی بارا یسوسی ایشن کے سابق صدر ملک مشتاق احمد گنب ، توصیف احمد خان یوسفزئی ، ڈی ایس پی میلسی چوہدری شبیر احمد وڑائچ ، ایس ایچ او سٹی محمد یوسف بھٹی ،ا یس ایچ او صدر محمد اکرم چٹھہ, ایم ایس ڈاکٹر محمد فاضل, انجمن تاجران ایکشن کمیٹی کے صدر چوہدری غلام محمد خلجی، سجاد ہ نشین در بار عالیہ بابا نتھے شاہ زاہد احمد خان شیروانی ، میلسی پر یس کلب کے سابق جنرل سیکرٹری محمدہمایوں اختر جوئیہ اور نو منتخب ارا کین بلدیہ بھی موجود تھے ۔

سعید مینس

مزید : ملتان صفحہ آخر