پچھلے تین دہائیوں سے پاکستان کے تجارتئی روابط ایران سے نہ ہونے کے برابر ہے ، ایف پی سی سی آئی

پچھلے تین دہائیوں سے پاکستان کے تجارتئی روابط ایران سے نہ ہونے کے برابر ہے ، ...

 پشاور( پاکستان نیوز)وفاق ایوان ہائے تجارت و صنعت کے نائب صدر اور خیبرپختونخواہ بزنس ایڈوائزری کے چیرمین محمد ریاض خٹک نے ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات بہت پرانے اور مضبوط ہیں۔جن کو اب تجارتی مضبوطی میں بدلنا ہوگاتاکہ خطے میں ایک مضبوط اکنامک بلاک بن کر ابھر سکے ۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک پر لازم ہے کہ دستخط شدہ تجارتی معاہدوں پر یقینی عمل پیرا ہوں۔ جس سے دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب آسکے ۔مجھے فخر سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم ایرا ن سے اپنے روابط بڑھانا چاہتے ہیں، دونوں ممالک کا تعاون اور باہمی تجارت ترقی پزیر ہیں۔ہماری اس ملاقات سے تجارت کے فروغ کے علاوہ تجارتی حجم بڑھانے،تجارتی وفود کے تبادلے اور تجارتی تعلقات بڑھنے کے موقع د ستیاب ہوں گے۔ایرانی تاجروں کیلئے پاکستان بہت بڑی منڈی ہے ۔جس سے دونوں ملکوں کو فائدہ اٹھاناچاہئے۔انھوں نے ایرانی وفد پر زور دیا کہ کینو اور آلو کی برآمدات فوری طور پر کھلنی چاہیے تاکہ قانونی تجارت کی آغاز ہوسکے۔انھوں نے مزید کہا کہ ایران کے منڈیوں میں پاکستان ہارٹیکلچر مصنوعات کا بے پناہ مانگ ہے۔جس کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔خیبرپختونخواہ سے چاول ، گوشت ،کینو،مالٹا اور کپڑوں سمیت دیگر اشیاء مناسب قیمتوں اور کم وقت میں ایران کو بر آمد کر سکتے ہیں۔ ایران کے سرمایہ کاروں کو ہم خیبرپختونخواہ صوبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں۔ خیبرپختونخواہ میں انرجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کی وسیع مواقع موجود ہیں۔تجارتی وفود اور دونوں ممالک کی مصنوعات کی نمائش بھی کی جائیں۔ تاکہ دونوں ممالک کے تجارت مزیدبڑھیں۔انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی پاک ایران مشترکہ چیمبر آف کامرس میںآپنا ٹھوس کردار ادا کرے۔اس موقع پر ایرانی سفیر نے آیف پی سی سی آئی آمدپر خوشی کا اظہار کیااور کہا کہ پاکستانی تاجر وقت ضائع کر کیے بغیر ایران میںآپنے مواقع تلاش کریں اور ایف پی سی سی آئی ہمیں وقتاً فوقتاً اس بارے میں اگاہ بھی کرے ۔ انھوں نے اس بات سے آفسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے تین دھایوں میں پاکستان کے تجارتی روابط ایران سے نا ہونے کے برابر ہے۔ایران کی حکومت تجارت میں حائل مشکلات کے خاتمے کیلئے اقدامات کرینگے۔ انھوں نے کہا جب تک حکومت پاکستان بینکنگ چینلز کو نہیں کھولے گی تب تک ہم کیسے نئے ایرانی تاجروں کو تجارت کیلئے راضی کر سکیں گے۔جب کہ عالمی پابندیوں کے باوجود ایران اور افغانستان کا تجارتی حجم 2.5 عرب ڈالر تھا ۔جبکہ پاکستان اور ایران کا تجارتی حجم 0.5 ارب ڈالر تھا ۔اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر سینٹر حاجی غلام علی نے ایرانی وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم بہت جلد ایک جامع سیمنار تشکیل دینے جارہے ہیں۔ تاکہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی کو حقائق روشناس کر سکے اور دونوں ممالک کے تجارتی روابت کو کیسے فروغ دیاجا سکتا ہے۔اور وہ کیسے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر