ہائیکورٹ نے یونیورسٹی کے اہلکار کو اپنی مرضی کا بیان دلوانے سے روک دیا گیا

ہائیکورٹ نے یونیورسٹی کے اہلکار کو اپنی مرضی کا بیان دلوانے سے روک دیا گیا

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس قیصررشید اور جسٹس روح الامین چمکنی پرمشتمل دورکنی بنچ نے نیب خیبرپختونخوا کو پشاوریونیورسٹی کے اہلکار سے اپنی مرضی کابیان دلوانے سے روک دیاہے اورنیب کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ قانون کے مطابق گواہ کابیان قلمبند کریں فاضل بنچ نے یہ احکامات گذشتہ روز پشاوریونیورسٹی کے اہلکار سجاداحمدکی جانب سے دائررٹ پرجاری کئے اس موقع پرفاضل بنچ کو بتایاگیاکہ نیب خیبرپختونخواپشاوریونیورسٹی کے ڈائریکٹر سپورٹس بہرکرم کے خلاف تحقیقات کررہی ہے اوراس حوالے سے درخواست گذار کابیان قلمبند کرناچاہتی ہے تاہم درخواست گذار کوہراساں اورپریشرائزکیاجارہا ہے کہ وہ نیب کی مرضی کے مطابق اپنابیان قلمبند کرے جبکہ نیب کو ایساکوئی اختیارحاصل نہیں کہ وہ گواہ کوہراساں یا پریشرائز کرکے بیان دلوائے لہذانیب کے اقدام کو کالعدم قرار دیا جائے فاضل بنچ نے دلائل مکمل ہونے پررٹ پٹیشن نمٹاتے ہوئے نیب خیبرپختونخواکو درخواست گذار کو ہراساں کرنے سے روکتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ وہ قانون کے مطابق گواہ کابیان قلمبند کریں اوراگرممکن ہوتو درخواست گذار اپناتحریری بیان جمع کرادے ۔

Ba

مزید : پشاورصفحہ آخر