سی ٹی ڈی کو متحرک کرنے کیلئے نیا یونٹ قائم ہوگا ،آئی جی سندھ

سی ٹی ڈی کو متحرک کرنے کیلئے نیا یونٹ قائم ہوگا ،آئی جی سندھ

کراچی(اسٹاف رپورٹر) انسپکٹر جنرل سندھ پولیس اللہ ڈنوخواجہ نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ کو مزید متحرک کرنے کے لئے 1500 اہلکاروں پر مشتمل نیا یونٹ قائم کیا جا رہا ہے جبکہ دہشت گردی اور سماج دشمن عناصر کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لئے اسپیشل برانچ کا کردار اہم ہے جس کو مزید فعال بنانے کے لئے حکومت سندھ نے 320 ملین روپے مختص کئے ہیں۔ انٹیلی جنس معلومات کو موثر طریقے سے اکھٹا کرنے کے لئے خصوصی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد پولیس فورس کی دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر سے موثر طریقے سے نمٹنے کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔آئی جی سندھ نے کہاکہ نئے یونٹ کے قیام کا مقصد کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ میں مزید بہتری لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا یونٹ 1500 اہلکاروں پر مشتمل ہوگا جس میں میرٹ کی بنیاد پر 500 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز (اے ایس آئی) کی بھرتی سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحت ہو گی جبکہ ایک ہزار اہکاروں کو نیشنل ٹیسٹنگ سروس (این ٹی ایس) کے ذریعے بھرتی کیا جائے گا۔ آئی جی پی سندھ نے کہا کہ نئے بھرتی ہونے والوں کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے علیحدہ تربیتی مرکز قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر ڈرائیونگ، اسلحہ لائسنس، گاڑیوں اور مدرسوں سے متعلق ڈیٹا بینک کا قیام ضروری ہے کیونکہ کسی بھی شخص کی شناخت اور اس سے متعلق دیگر معلومات کا فوری حصول دہشت گردی کی بروقت روک تھام میں معاون و مددگار ثابت ہو گا، وفاقی و صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے جامع منصوبہ بندی کے تحت مشترکہ طور پر کام شروع کرنا چاہئے۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ نادرا کا ڈیٹا بھی پولیس و دیگر اداروں کے درمیان مناسب انداز میں شیئر ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری درخواست پر نادرا ڈیٹافراہم کرنے پر رضامند ہو گیا ہے، قومی سطح پر اسلحہ لائسنس کو چیک کرنے کے لئے نادرا کے اشتراک سے بائیومیٹرک سسٹم ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت سندھ پولیس غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی کررہی ہے اور اب تک 2 ہزار 812 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ ساؤنڈ سسٹم ایکٹ، لاوڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر 2 ہزار 115 مقدمات درج کئے جا چکے ہیں اور اب تک ایک ہزار 333 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر اور مواد کے سلسلے میں 126 مقدمات درج کئے جا چکے ہیں اور 88 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزام میں 6 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ 182 افراد کو ٹمپریری ریزیڈنس ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت مختلف کارروائیوں، چھاپوں کے دوران 22 ہزار 140 ملزمان و مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیڈول 4 میں 602 افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرمز ایکٹ کے تحت اسلحہ کی نمائش کے خلاف 15 ہزار 588 مقدمات ملزمان کے خلاف درج کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے مجموعی طور پر 311 دہشت گرد پولیس مقابلوں میں مارے جا چکے ہیں اور 1200 سے زائد گرفتار کئے گئے ہیں۔ کراچی آپریشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آپریشن شروع کئے جانے سے 35 ماہ قبل 77 دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے تھے جبکہ آپریشن کے 35 ماہ بعد یہ واقعات 54 رہ گئے، آپریشن سے 35 ماہ قبل قتل کے 6 ہزار 836 واقعات ہوئے تھے جبکہ آپریشن کے 35 ماہ بعد قتل کے واقعات 3 ہزار 989 رہ گئے۔ 35 ماہ قبل ٹارگٹ کلنگ کے ایک ہزار 227 تھے جبکہ 35 ماہ بعد یہ 442 ہو گئے جو کہ 70 فیصد کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح اغواء برائے تاوان کی تعداد 274 تھی جو اب 183 ہے اور بھتہ خوری میں بھی کافی حدتک کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان رینجرز سندھ اور سندھ پولیس کی جانب سے موثر کارروائیوں کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں امن وامان کی صورتحال کافی بہتر ہوئی ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول