، افغانستان میں پاک، بھارت پراکسی وار جاری ہے،امریکی جریدہ کا دعوی

، افغانستان میں پاک، بھارت پراکسی وار جاری ہے،امریکی جریدہ کا دعوی

واشنگٹن ( صباح نیوز)ایک امریکی جریدے نے دعوی کیا ہے کہ افغانستان میں بھارت اور پاکستان کے درمیان پراکسی وار جاری ہے۔ بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دول، سیکرٹری خارجہ ایس جے شنکر اورسیکریٹری دفاع جی موہن کمار پر مشتمل ایک مشترکہ جنگی کمان ہے جو پراکسی وار میں بھارت کی سمت کا فیصلہ کرتی ہے ۔بھارت کے اعلی دفاعی حکام افغانستان میں امریکی جنرل کے ساتھ ملک کر حقانی ،لشکر طیبہ اور جیش محمد کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں۔افغان جنگ میں رسد کی سپلائی کے طریقہ کار کو تبدیل کردیا گیا ہے۔امریکا کا افغان فورسز کی ٹریننگ کیلئے بھارت کی طرف جھکاو ہے۔ امریکا کی طرف سے تین سو ملین ڈالر کی روکی گئی امداد پاک فوج کے لئے انتہائی ضروری تھی۔امریکی جریدہ فوربز لکھتا ہے کہ اس ہفتے کی سب سے اہم خبر جسے نظر انداز کردیا گیا وہ یہ کہ افغانستان میں امریکی کمانڈ نے بھارت سے افغان فورسز کی فوجی امداد میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارت نے دسمبر میں افغان فوج کو چار جنگی ہیلی کاپٹرفراہم کیے تھے۔ امریکی اور افغانی بھارت سے مزید فوجی سازوسامان چاہتے ہیں، خاص کر روسی ساختہ فوجی سامان کے لئے اسپیئر پارٹس چاہتے ہیں جو وہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ جر ید ے کے مطابق اس چیخ وپکار کا ہر ایک پہلو پراکسی وار ہے، امریکی فور اسٹار جنرل جان نکلسن کے پیشرو کے پاس بھی وسیع فوجی اور سفارتی ذمہ داری تھیں جنہوں نے امریکی جنرل نکلسن سے ملاقات کی ان میں بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دول، سیکرٹری خارجہ ایس جے شنکر اورسیکریٹری دفاع جی موہن کمار ہیں ۔دوسرا پہلو یہ کہ افغانستان میں جنگی رسد کی فراہمی کے طریقہ کار کو بڑی چالاکی سے ترتیب دے دیا گیا۔ افغان ائیر فورس اب بھی روسی ساختہ جنگی ہیلی کاپٹر ایم آئی25 اس لئے استعمال کرتے ہیں کیونکہ اسی کی دہائی میں کٹھ پتلی روسی دور حکومت میں انہیں کے استعمال کی فضائی اور زمینی ٹریننگ انہیں دی گئی تھی ۔اسی لیے جنرل نکلسن نے بھارت سے افغان فورسز کے لئے ان ہیلی کاپٹروں کی فوری ڈیمانڈ کی ہے جیسے ہی ان کو جنگی ہیلی کاپٹر مل گئے انہیں فوری جنگ میں کارروائی کیلئے استعمال کیا جائے گا

مزید : ملتان صفحہ اول