ہر ماں ایک برہان وانی پیدا کرے گی، بھارتی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی حکومتی پالیسیوں سے اکتا گئے

ہر ماں ایک برہان وانی پیدا کرے گی، بھارتی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی ...
ہر ماں ایک برہان وانی پیدا کرے گی، بھارتی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی حکومتی پالیسیوں سے اکتا گئے

  

سرینگر (وب ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں گذشتہ ایک ماہ کے عرصے میں تشدد میں اضافے کے سبب تقریباً 60 افراد ہلاک جبکہ پانچ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ایسے میں بھارتی فورسز کے اہلکار بھی اس درندگی سے اکتا گئے ہیں اور زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے  ہیڈکوارٹر واپس جاتے ہوئے پولیس اہلکار نے بھی کہہ دیا کہ ’ہرماں ایک برہان وانی پیدا کرے گی‘۔

اس سے شورش زدہ علاقے میں امن و امان کی بحالی کو نقصان پہنچا ہے جبکہ انڈیا اور پاکستان دونوں ہی اس خطے پر دعویٰ کرتے ہیں۔کشمیر کے ایک شخص عبدالرحمان میر ایک گولی کو اپنے ہاتھ میں لے کر دکھاتے ہوئے کہتے ہیں: ’اس گولی نے میرے بیٹے کی جان لی ہے۔‘انھوں نے مجھے بتایا کہ پولیس نے دارالحکومت سری نگر میں ان کے گھر پر ایک ماہ قبل چھاپہ مارا تھا۔’انھوں نے کھڑکیاں توڑ دیں اور آنسو کے گولے چھوڑے۔‘ انھوں نے دستی بم کے ٹکڑوں کو اپنے بیٹے کے خون سے آلودہ ایک رومال میں سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔

انھوں نے بتایا: ’وہ میرے بیٹے کو گھسیٹ کر لے گئے۔ ہم پہلی منزل پر ایک کمرے میں تھے اور انھوں نے اسے باغیچے میں لے جاکر گولی مار دی، اور وہ وہیں مر گیا۔‘ریاستی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پولیس جب سنگ باری کرنے والے نوجوانوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی تھی تو شبیر احمد میر اسی میں مارے گئے۔جب ہم میر کے والد سے باتیں کر رہے تھے اس درمیان باہر سے دھیمی آوازیں آ رہی تھی اور پھر نعرے تیز ہوتے گئے اور میڈیا نمائندگان کی موجودگی کی اطلاع پر  کرفیو کی پروا کیے بنا مزید لوگ جمع ہو گئے۔ ایسے حساس علاقے میں دن کے وقت بھی لوگوں کا باہر نکلنا بند ہے۔

بی بی سی کے مطابق شہر کے صدر ہسپتال میں ایک پورا وارڈ ہے جس میں نوجوان دھوپ کے چشمے لگائے ہوئے ہیں اور یہ چشمے بہت سے خوفناک زخم کو چھپائے ہوئے ہیں۔ایک ڈاکٹر نے بتایا: ’چھوٹے چھوٹے چھروں نے آنکھوں کو نقصان پہنچایا ہے اور درجنوں کی بصارت جانے کا خطرہ ہے۔‘ہجوم کو کنٹرول کرنے کے انڈیا کے جابرانہ انداز کو نظر انداز کرنا مشکل ہے، لیکن تشدد کی لہر کو پیش نظر ان کے پاس زیادہ متبادل راستے بھی نہیں۔انڈیا نے کشمیر میں بہت زیادہ فوجی تعینات کر رکھے ہیں اور سخت گیر علیحدگی پسندوں سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔

دریں اثنا اس بات پر بضد ہے کہ آزادی بات چیت کا حصہ ہو ہی نہیں سکتی۔ انڈیا کی حکمت عملی یہ ہے کہ مزید پولیس اور فوج کو وہاں تعینات کیا جائے اور اس وقت تک رکھا جائے جب تک مظاہرے اپنی موت آپ نہ مر جائیں۔میں نے ایک تھکے ہارے پولیس اہلکار کو اپنے ہیڈ کوارٹر کی طرف واپس جاتے ہوئے بڑبڑاتے ہوئے سنا: ’ہر ماں ایک برہان پیدا کرے گی۔‘

مزید : بین الاقوامی