وائر س کس وقت زیادہ خطرناک ہوتے ہیں؟سائنس دانوں نے پتہ چلالیا

وائر س کس وقت زیادہ خطرناک ہوتے ہیں؟سائنس دانوں نے پتہ چلالیا
وائر س کس وقت زیادہ خطرناک ہوتے ہیں؟سائنس دانوں نے پتہ چلالیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے کہا ہے کہ وائرس صبح کے وقت لوگوں میں زیادہ آسانی سے بیماری پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر وائرس کا انفیکشن صبح کے وقت شروع ہو تو اس کی کامیابی کے امکان دس گنا زیادہ ہوتے ہیں۔تحقیق کے مطابق جسم کی اندرونی گھڑی اگر کسی وجہ سے متاثر ہو جائے (مثلاً شفٹوں میں کام کرنے سے یا طویل فضائی سفر کے بعد) تو وہ زیادہ آسانی سے انفیکشن کا شکار ہو سکتا ہے۔برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے مطابق سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق سے بڑے پیمانے پر پھیلنے والی وباوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ وائرس انتہائی چھوٹے طفیلی ہوتے ہیں جو کسی زندہ جسم کے باہر زندہ نہیں رہ سکتے اور اس جسم کے خلیوں کی مشینری استعمال کرتے ہوئے اپنی نسل آگے بڑھاتے ہیں لیکن ان خلیوں کے اندر 24 گھنٹوں میں ڈرامائی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں، اور دن بھر جسم کی کارکردگی میں اتار چڑھاوآتا رہتا ہے۔ اس عمل کو جسم کی اندرونی گھڑی کی مدد سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔اس اندرونی گھڑی پر وائرس کے کیا اثرات ہوتے ہیں، اس بات کا جائزہ لینے کے لیے چوہوں کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصے کو صبح کے وقت انفلوئنزا اور ہرپیز وائرس سے متاثر کیا گیا جب کہ دوسرے کو شام کے وقت جن چوہوں کے اندر صبح کو وائرس داخل کیا گیا تھا ان کے جسموں میں شام کے وقت متاثر کیے جانے والے چوہوں کے مقابلے پر وائرس کی دس گنا زیادہ تعداد موجود تھی۔محققین کا خیال ہے کہ وبا کی صورت میں لوگوں کا دن کے دقت گھروں سے باہر نہ نکلنا بہت اہم ہے اور اس سے ان کی زندگیاں بچ سکتی ہیں۔ اگر مزید تجربات سے یہ بات ثابت ہو گئی تو اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

مزید : سائنس اور ٹیکنالوجی