لڑکیوں سے زیادتی، فحش ویڈیوز بنانے والا ملزم گرفتار، نوجوان لڑکی بازیاب

لڑکیوں سے زیادتی، فحش ویڈیوز بنانے والا ملزم گرفتار، نوجوان لڑکی بازیاب
 لڑکیوں سے زیادتی، فحش ویڈیوز بنانے والا ملزم گرفتار، نوجوان لڑکی بازیاب

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نوشہرہ (اے پی پی) رسالپور پولیس نے انٹرنیٹ اور موبائل فون پر معصوم لڑکیوں کے ساتھ دوستی کا جھانسہ دے کر ہوس کا نشانہ بنانے، دھوکہ دہی سے برہنہ تصویر اور فحش ویڈیوز بنا کر انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلانے والے ملزم کو گرفتار کرکے مغوی لڑکی کو بازیاب کرالیا،لڑکی نے بتایاکہ ملزم نے اس کی قابل اعتراض ویڈیو ز بنالی تھیں اور 14 اگست اس کے ساتھ نہ گھومنے پر ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دی تھی،  ملزم کے قبضے سے ایک نائن ایم ایم پستول، موبائل فون اور جنسی تشدد کے دوران اس سے نشے میں استعمال ہونے والی منشیات برآمد کرلی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نوشہرہ واحد محمود نے بتایا کہ  تھانہ رسالپور کے ایس ایچ او سب انسپکٹر محمد حنیف خان پولیس نفری کے ہمراہ معمولی کے مطابق گشت پر تھے کہ اس دوران رشکئی موٹروے پل کے نیچے موٹر کار نمبر LT300 اسلام آباد سے ایک لڑکی کی چیخوں کی آوازیں آرہی تھیں جس کو ایک نوجوان نے اس کے سر پر پستول رکھ کر اسے قتل کرنا چاہتا تھا، پولیس نے دونوں کو گرفتار کرکے تھانہ رسالپور لے آئی۔

پولیس کی حراست میں مصباح سلیم دختر سلیم ساکن سمندری گھڑی کا بل ریورنوشہرہ کلاں نے پولیس کو رپورٹ اور میڈیا کو تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ تین ماہ سے ملزم مہران ولد امان اللہ ساکن  پشاور کے ساتھ موبائل اور انٹرنیٹ پر دوستی بنالی اور ایک دو ملاقاتیں کرلیں۔ ملاقاتوں میں میری عریاں تصاویر و ویڈیوز خفیہ طور پر بنائی گئی اور پھر مجھے مسلسل بلیک میل کرتا رہا اور مجھے خاندان میں ذلیل کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا اور 13اگست کو کہا کہ وہ میرے ساتھ 14 اگست کے دن سیر و تفریح کرے، پھر وہ یہ ویڈیو ہٹائے گا۔ گزشتہ روز وہ مجھ سے ملاقات کے لئے رسالپور آیا تو مہران اللہ ولد امان اللہ نے مجھے بہانے سے اپنی موٹر کار ہنڈا سوک نمبر LT300 میں بٹھا کر چارسدہ اغواءکرلیا۔

چھٹیاں منانے کیلئے پاکستان آنیوالی 15 سالہ لڑکی سے زبردستی شادی اور پھر تین سال تک روزانہ ایسی حرکت کہ آپ کا سربھی شرم سے جھک جائے گا۔۔۔

اس دوران ملزم نے ائس کا نشہ کیا اور مجھے بھی زبردستی ائس کا نشہ کروایا اور وہاں پرا س نے مجھ کو اپنے ایک رشتہ دار کے گھر میں ساری رات جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ وہ میری برہنہ تصاویر اور ویڈیو بھی بنالی اور صبح اس نے مجھے کہا کہ اگر کسی کو کچھ بتایا اور مجھ سے دوبارہ ملنے نہ آئی تو میں یہ ساری تصویریں اور ویڈیو فیس بک پر اپ لوڈ کردوں گا۔ ملزم نے میرے کئی رشتہ دار لڑکیوں کی تصاویر بھی میرے موبائل سے اپنے موبائل میں ڈال لیں۔ جب مہران اللہ مجھے واپس رسالپور لارہا تھا تو اس دوران میں نے اس سے بار بار ملاقات کرنے سے انکارکردیا تو اس نے رشکئی موٹروے پل کے نیچے اپنی موٹرکار کو روک کر میری ساری تصویری فیس بک پر اپ لوڈ کرنا شروع کردیں۔ میں نے اس سے اپنی عزت بچانے کے لئے منت سماجت کی تو اس نے پستول نکال کر میرے سر پر رکھ کر مجھے قتل کرنا چاہا تو میں نے زور سے چیخنا شروع کردیا اور گشت پر موجود پولیس مری مدد کو پہنچ گئی۔ زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے نوٹس لے لیا اور نوشہرہ پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کرکے اعلیٰ سطحٰ تحقیقات کا حکم دے دیا۔

مزید : نوشہرہ