2017ءکے آخر میں ایرانی گیس پاکستان میں پہنچ جائے گی: ایرانی سفیر

2017ءکے آخر میں ایرانی گیس پاکستان میں پہنچ جائے گی: ایرانی سفیر
2017ءکے آخر میں ایرانی گیس پاکستان میں پہنچ جائے گی: ایرانی سفیر

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پشاور (صباح نیوز) ایرانی سفیر ہنردوست نے کہا ہے کہ ایران مشکل وقت میں پاکستان کا دوست رہا ہے دنیا کا کوئی بھی ملک ہمسایہ ملک کو نقصان پہنچاسکتا ہے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ جلد مکمل کیا جائے گا آئندہ سال کے آخر میں ایرانی گیس پاکستان میں ہوگی۔ پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گیس منصوبے سے دونوں ممالک کی معیشت کو استحکام ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کا تاثر غلط ہے اس سلسلے میں پاکستانی حکام کو مطمئن کرچکے ہیں۔ بھارت کے ساتھ چاہ بہار معاہدے کو غلط رنگ نہ دیا جائے، پاکستان کی سکیورٹی ہماری سکیورٹی ہے اور پاکستان کا امن ایران کا امن ہے، ہم ایک وسیع بارڈر کے ذریعے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ ایرانی سفیر نے کہا کہ گیس لائن منصوبے میں ایران کے حصے کا کام مکمل ہوچکا ہے، گیس پائپ لائن منصوبہ جلد مکمل ہوجائے گا انشاءاللہ اگلے سال کے آخر میں ایرانی گیس پاکستان میں ہوگی۔

ایرانی سفیر مہدی ہنردوست نے افغان طالبان کے سابق امیر ملا اختر منصور کی ہلاکت کے کئی ماہ بعد اس پر شک و شبے کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کوئٹہ ڈرون حملے میں مارے جانے والے شخص کا پاسپورٹ ولی محمد کے نام سے تھا، ایسے میں ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ وہ طالبان امیر ملا اختر منصور ہی تھا؟ انہوں نے کہا کہ ایسے شواہد نہیں ملے کہ ملا اختر منصور یا ولی محمد ایران سے آرہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ولی محمد نامی شخص کے پاسپورٹ پر ویزہ جاری کیا تھا،ا گر اصلی پاسپورٹ ولی محمد کا تھا تو ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں مارا جانے والا طالبان کمانڈر تھا۔

گرفتار ہندوستای جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران نے پاکستان کو کلبھوشن یادیو کے حوالے سے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ مہدی ہنر دوست کا پاک ایران گیس پائپ لائن کے حوالے سے کہنا تھا کہ اس منصوبے سے پاکستان کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا، جبکہ ایران نے منصوبے کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور کردی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چابہار بندرگاہ اور بھارت کے ساتھ تجارت کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں اور اس حوالے سے جو اعدادوشمار بتائے جارہے ہیں وہ حقائق سے کہیں زیادہ ہیں، جبکہ چابہار بندرگاہ جو بھی استعمال کرنا چاہتا ہے ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں۔

مزید : پشاور