لڑکی سے بات پر جھگڑا، محمد میاں سومرو کا بھانجا بیرسٹر فہدجاں بحق

لڑکی سے بات پر جھگڑا، محمد میاں سومرو کا بھانجا بیرسٹر فہدجاں بحق
لڑکی سے بات پر جھگڑا، محمد میاں سومرو کا بھانجا بیرسٹر فہدجاں بحق

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سینٹ کے سابق چیئرمین اور نگران وزیراعظم محمد میاں سومرو کے بھانجے بیرسٹر فہد ملک کو قتل کردیا گیا جبکہ فہد ملک کے پھوپھو طارق ملک گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوگئے، بیرسٹر فہد ملک کی نعش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے سپرد کردی گئی جو اس کے بھائی کی لندن سے آمد کے بعد سپردخاک کی جائے گی۔ پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی، مقدمہ قتل میں راجہ ارشد اور نعمان کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی رات راجہ ارشد ایک دوشیزہ اور اس کی بہن کے ہمراہ ایف الیون مرکز کے ایک معروف کافی ہاﺅس میں بیٹھا تھا کہ اس دوران ملک طارق کا بیٹا بازید آگیا، دوشیزہ اور ملک طارق کے بیٹے نے قریبی عزیز ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے گفتگو شروع کردی جو راجہ ارشد کو پسند نہ آئی اور معاملہ تلخ کلامی تک پہنچ گیا، پولیس راجہ رشد کو اٹھا کر تھانے لے گئی جہاں پولیس حکم حاکم مرگ مفاجات کے مصداق اس کے آگے پیچھے محرم رہی، بیٹے کے جھگڑے کی اطلاع پر ملک طارق اور بیرسٹر فہد بھی تھانے پہنچ گئے جہاں فریقین میں صلح کے سلسلے میں باقاعدہ تحریری معاہدہ ہوا جس پر دونوں طرف سے دستخط ہوئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق صلح کے بعد فریقین اکٹھے تھانے سے نکلے، ملک طارق گاڑی چلا رہا تھا جبکہ اس کے ساتھ راجہ ارشد بیٹھا تھا، دوسری گاڑی بیرسٹر فہد چلارہا تھا جبکہ ملک طارق کا بیٹا بازید اس کے ساتھ بیٹھا تھا، دونوں گاڑیاں جب ایف ٹین تھری سروس روڈ پر پہنچیں تو وہاں پہلے سے موجود افراد نے ملک طارق کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ ملک طارق کو دو گولیاں لگیں، ملک ارشد گاڑی سے چھلانگ لگاکر نکلا اور اس نے بیرسٹر فہد ملک کو گاڑی پر کلاشنکوف سے گولیوں کی بوچھاڑ کردی جو موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق فہد ملک کو چار گولیاں لگیں، دائیں گال پر لگنے والی گولی ماتھے سے نکلی، یہی گولی مات کا سبب بنی، دوسری گولی ناک کے قریب لگی، تیسری گولی کمر میں لگ کر سامنے سے نکل گئی، چوتھی گولی گردن کو چھوتی ہو ئی نکل گئی، فہد ملک کے خاندانی ذرائع کے مطابق انہوں نے پیر کی شام جرمنی روانہ ہونا تھا، ایس ایس پی آپریشن ساجد کیانی نے حملہ آوروں کی گرفتاری میں غفلت برتنے پر ایس ایچ او شالیمار ذوالفقار کو ریسکیو 15 تبدیل کرکے انٹی کارلفٹنگ سیل کے انسپکٹر فیاض رانجھا کو ایس ایچ او مقرر کردیا جنہوں نے چارج سنبھالنے کے بعد مقدمہ میں نامزد ملزموں کی گرفتاری کیلئے گھیرا تنگ کرلیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے انسپکٹر جنرل پولیس نے غفلت کے مرتکب انسپکٹر ذوالفقار کو معطل کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔ پولیس حکام جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ راجہ ارشد کی گاڑی کی تھانے لائے جانے کے باوجود تلاشی کیوں نہیں لی گئی اور اس میں موجود کلاشنکوف قبضہ میں کیوں نہیں لی گئی۔ تھانے میں راجہ ارشد نے پولیس کی سرپرستی میںملک طارق کے بیٹے پر تشدد کیا اور اس کا دانت توڑ دیا، ملک فہد جو فریقین میں صلح کے لئے آیا ہوا تھا، سے بھی تھانے میں راجہ ارشد کی تلخ کلامی ہوئی جس کا نتیجہ صلح ہونے کے باوجود قتل اور اقدام قتل کی شکل میں سامنے آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ آئی جی نے تھانے کی فوٹیج طلب کرلی ہے۔ ڈی ایس پی غلام باقر اور ایس ایچ او انسپکٹر فیاض رانجھا نے ڈیوٹی افسر کے ہمراہ مقتول کے گھر جاکر معلومات حاصل کیں۔ ملزم کے ملک سے فرار کو روکنے کے لئے ایف آئی اے کوہائی الرٹ کردیا گیا ہے جبکہ ملزم کے موبائل فونز کا ڈیٹا بھی حاصل کرلیا گیا ہے۔ پولیس کنٹرول کے مطابق فائرنگ کا واقعہ رات 3:25 منٹ پر گلی نمبر 3 پرانا مارگلہ روڈ ایف ٹین تھری اسلام آباد میں پیش آیا، ملزم راجہ ارشد کی کار پی ایس 100 کرولا سے سیاہ رنگ کی پراڈو vy1 اور آئی ڈی ایم 11پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ایک جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔

مزید : اسلام آباد