حکومت اور اپوزیشن کا 1956 انکوائری ایکٹ کی بجائے نیا قانون بنانے پر اتفاق

حکومت اور اپوزیشن کا 1956 انکوائری ایکٹ کی بجائے نیا قانون بنانے پر اتفاق
حکومت اور اپوزیشن کا 1956 انکوائری ایکٹ کی بجائے نیا قانون بنانے پر اتفاق

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاناما لیکس کے معاملے پر حکومت ا ور اپوزیشن نے 1956 کے انکوائری ایکٹ کی بجائے نیا قانون بنانے پر اتفاق کرلیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں ملاقات کی ۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ 60 سال سے ایک قانون چل رہا تھا جسے سپریم کورٹ نے غیر موثر قرار دیا جس کے بعد نئی قانون سازی کی ضرورت ہے۔ بدعنوانی کی تحقیقات کے لیے قانون مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اس لیے 1956 انکوائری ایکٹ کی بجائے نیا قانون بنانے پر اتفاق کیاہے۔

پاناما لیکس کے ٹی او آر کے حوالے سے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ٹی او آر کے معاملے پر سپیکر اور اپوزیشن لیڈر کو ثالثی کی درخواست کی ہے کوشش ہے ٹی او آر کمیٹی کا اجلاس جلد از جلد بلایا جائے ۔ ٹی او آر ارکان کی میٹنگ کے بعد حکومت کاتجویز کردہ احتساب ایکٹ پبلک کیاجائے۔

اس موقع پر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اعتزاز احسن سے مشاورت کرکے ٹی او آر پراجلاس بلانے کا شیڈول طے کرینگے نئے قانون پراتفاق ہے لیکن طریقہ کار پر اختلاف ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اسحاق ڈار سے ملاقات میں پاناما لیکس معاملے پر بھی نیا قانون بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔

مزید : قومی /اہم خبریں