یہ کوئی مرد نہیں بلکہ ایک مشہور بادشاہ کی اہلیہ ہیں، ان کی کل کتنی بیگمات تھیں اور باقی کیسی دکھتی ہیں؟ دیکھ کر آپ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آئے گا

یہ کوئی مرد نہیں بلکہ ایک مشہور بادشاہ کی اہلیہ ہیں، ان کی کل کتنی بیگمات ...
یہ کوئی مرد نہیں بلکہ ایک مشہور بادشاہ کی اہلیہ ہیں، ان کی کل کتنی بیگمات تھیں اور باقی کیسی دکھتی ہیں؟ دیکھ کر آپ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آئے گا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)19ویں صدی کے ایرانی فرمانروا ناصر الدین شاہ قاجار کی 80 سے بھی زائد بیویاں تھیں۔ اس بادشاہ کے حرم میں موجود ملکاو¿ں اور شہزادیوں کی تصاویر کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ اس وقت خوبصورتی کے معنی آج سے کس قدر مختلف تھے۔

جرمن ویب سائٹ ’ڈچے ویلے‘ کے مطابق تقریبا تین ہزار سالہ طویل ایرانی بادشاہت کے امین ناصر الدین شاہ قاجار نے تقریباُُ اڑتالیس برسوں تک ایران پر حکومت کی۔ جہاں پہلے تصویر کشی کا کام مصور سرانجام دیتے تھے، وہاں ناصر الدین شاہ قاجار نے حرم کے لیے ایک فوٹو گرافر مقرر کیا۔ ناصر الدین شاہ فوٹو گرافی کے بڑے شوقین تھےاور ان کی بیگمات کی تصاویر قارئین کیلئے پیش ہیں جنہیں دیکھ کر ان کے ذوق کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ 

ناصر الدین شاہ قاجار کی ایک بیوی تاج الدولہ کی بیٹی شہزادی عصمت الدولہ (تصویر میں دائیں جانب) ایران میں پیانو بجانے والی پہلی خاتون تھیں۔ شاہ نے اپنے یورپ کے دورے پر پیانو دیکھا تھا اور پھر اسے اپنے پاس منگوا لیا۔ تصویر میں نظر آنے والی چھوٹی بچی شہزادی عصمت الدولہ کی بیٹی فخر التاج ہے۔

یہ تصویر شہزادی عصمت الدولہ کی ہے۔ ناصر الدین شاہ کو اپنی دو بیویاں تاج الدولہ اور انیس الدولہ بہت زیادہ عزیز تھیں۔ اس زمانے میں چہرے پر سے بال ہٹانے کا رواج نہیں تھااس لیے شہزادی کے چہرے پر ہلکی مونچھیں نظر آ رہی ہیں۔

یہ تصویر شہزادی تاج السلطنہ کی ہے جو شاہ کی ملکہ مریم توران السلطنہ کی بیٹی ہیں۔ اس دور میں گھنی بھنویں اور ہلکی ہلکی مونچھیں خوبصورتی کی علامت ہوا کرتی تھیں اور انہیں سیاہ میک اپ کے ذریعے مزید ابھارا جاتا تھا۔شاہ ناصر کے دور حکومت (1848ءتا 1896ء) میں ان کے حرم میں کھینچی گئی تصاویر میں نظر آنے والی خواتین خوبصورتی کے آج کے معیار سے بالکل مختلف نظر آتی ہیں۔

اس تصویر میں ناصر الدین شاہ کی بیٹی عصمت الدولہ اور خاندان کے دیگر افراد کو دیکھا جا سکتا ہے۔ شاہ نے اپنے دربار میں دنیا کا پہلا باقاعدہ فوٹو اسٹوڈیو قائم کروایا۔ 1870ءکی دہائی میں شاہ نے ایک روسی فوٹو گرافر کو اپنے دربار کا سرکاری فوٹوگرافر مقرر کیا۔19 ویں صدی کے اس بادشاہ کے دور میں بچوں سے لے کر بڑوں تک کی تصاویر بنائی گئیں۔

اس تصویر میں خانم عمہ بابا جان، خانم عصمت الملوک، عمو جان دیگر افراد کے ہمراہ نظر آ رہی ہیں۔ روسی فوٹو گرافر کو صرف شاہ اور ان کے مرد رشتہ داروں کی تصاویر لینے کی اجازت تھی لیکن حرم میں فوٹو گرافی صرف شاہ خود کرتے تھے۔ وہ ان تصاویر کو ڈیویلپ بھی خود کرتے تھے اور پھر تصاویر کو بڑے البموں میں محل کے اندر سجا کر رکھتے تھے۔

ا±س دور میں شہزادیوں اور ملکاو¿ں کو پردے کا خاص اہتمام کروایا جاتا تھا۔ ایسے لباس صرف حرم میں ہی پہنے جا سکتے تھے اور ظاہر ہے ملک کے سب سے طاقتور شاہ ہی ایسی تصاویر بنانے کی ہمت کر سکتے تھے۔

اس تصویر میں یہ واضح نہیں ہے کہ خواتین کیا کر رہی ہیں لیکن تاریخ دانوں کے مطابق یہ کسی کھیل کا آغاز ہو سکتا ہے کیوں کہ حرم میں خواتین وقت گزارنے کے لیے مختلف کھیل بھی کھیلا کرتی تھیں۔حرم کی اس اندرونی تصویر سے معلوم ہوتا ہے کہ خواتین کا حصہ بالکل الگ تھلگ تھا اور وہ آپس میں مل جل کر رہتی تھیں۔

اس تصاویر میں شہزادیوں کے بھاری بھرکم جسم دیکھ کر لگتا ہے کہ تب ایسے ہی جسم خوبصورتی کی علامت تھے۔ خواتین چھوٹی اور کڑھائی والی سکرٹ پہنتی تھیں۔ ان کے علاوہ طویل کڑھائی والے فراک بھی شاہی خواتین کو بہت پسند تھے۔

کئی تصاویر ایسی بھی ہیں، جو شہزادیوں کی روز مرہ زندگی پر روشنی ڈالتی ہیں۔ اس تصویر میں ایک شہزادی کو درختوں سے انار اتار کر انہیں ایک جگہ ترتیب سے رکھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ تصویر عصمت الدولہ کی 1905ءمیں وفات کے بعد لی گئی تھی۔ تب ملیریا لا علاج بیماری تھی اور اس شہزادی کی موت بھی اسی بیماری کی وجہ سے ہوئی تھی۔

آخری قطار میں دائیں جانب جہاں سوز مرزا کھڑے ہیں، درمیان میں یاداللہ مرزا اور بائیں جانب جہانگیر مرزا ہیں۔ دوسری قطار میں بائیں جانب بلقیس خانم ہیں (اہلیہ احمد مرزا معین الدولہ)، مہر ارفع (اہلیہ احمد خان سرتیپ)، خانم تاج الدولہ (اہلیہ ناصرالدین شاہ)، جہاں بانو خانم (اہلیہ شاہ شیر سوار) اور سب سے آگے جہان سلطان خانم ہیں، جو شمس الشعراءکی اہلیہ تھیں۔

اس تصویر میں عصمت الدولہ کی بیٹی عصمت الملوک کو اپنے خاوند مرزا حسن مستوفی الممالک کے ہمراہ دیکھا جا سکتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس