بیورکریسی کی ناہلی ، سعودی عرب سے ملنے والی ڈیڑھ بلین ڈالر کی امداد30ماہ گزرنے کے باوجود خرچ نہ ہوسکی

بیورکریسی کی ناہلی ، سعودی عرب سے ملنے والی ڈیڑھ بلین ڈالر کی امداد30ماہ ...
بیورکریسی کی ناہلی ، سعودی عرب سے ملنے والی ڈیڑھ بلین ڈالر کی امداد30ماہ گزرنے کے باوجود خرچ نہ ہوسکی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )سعودی عرب سے ملنے والی ڈیڑھ بلین ڈالر کی امداد30ماہ گزرنے کے باوجود خرچ نہ ہوسکی،بیورکریسی کی ناہلی کی وجہ سے حکومت اشتراکی کمپنی ڈھونڈنے میں ناکام ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق 2014ءمیں نواز شریف حکومت کو سعودی عرب سے بطور تحفہ ملنے والی رقم تاحال خرچ نہیں ہوسکی،حکومت تاحال فنڈز کو خرچ کرنے کیلئے کل وقتی چیف ایگزیکٹو تعینات کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار پاکستان ڈویلپمنٹ فنڈ لیمیٹڈ کے چئیرمین اور ڈاکٹر مسعود اس کمپنی کے عبوری سی ای او ہیں،ذرائع کے مطابق 2014ءمیں سعودی عرب نے پاکستانی حکومت کو اپنے پاﺅں پر کھڑے ہونے کیلئے ڈیڑھ بلین ڈالر امداد فراہم کی تھی ،حکومت نے اس رقم کو ملک کی ترقی پر خرچ کرنے کیلئے ایک کمپنی پاکستان ڈویولپمنٹ فنڈز لیمیٹڈ کے نام پر بنائی تھی،اس کمپنی کو کمرشل بنیادوں پر کام کرنے کی آزادی دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

پی ڈی ایف ایل اپنے قیام سے اب تک صرف کاغذوں میں ہی موجود ہے، عملاًً اس کا کوئی وجود نہیں ہے،حکومت نے بجائے اس امدادی رقم کو خرچ کرنے کے بینکوں سے قرضے اٹھانے پر اکتفا کیا،وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اس مقصد دو اجلاس بھی کیے جو صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی تمام تر توجہ ان فنڈز کو استعمال کرنے پر ہے لیکن طریقہ کار طے کرنے میں وقت لگے گا۔

پاکستان نے بھارت کو ایٹمی ہتھیاروں کے تجربے نہ کرنے کے معاہدے کی پیشکش کردی

وزرات خزانہ کے ہینڈ آﺅٹ کے مطابق جون میں اسحاق ڈار نے ایشین ترقیاتی بینک کو پی ڈی ایف کا پارٹنر بننے کی پیشکش کی تھی،ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں ماہ اے ڈی بی نے اپنا ایک وفد اس مقصد کیلئے بھیجا جس نے مشاہدے کے بعد خودمختار گارنٹی کی بنیاد پر پارٹنر بننے پر رضا مندی کا اظہار کیا۔

دوسری طرف حکومت ورلڈ بنک کی انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن اور چین کے ایکسپورٹ ایمپورٹ بینک کو پارٹنر بنانے کیلئے کوشاں ہے،آئی ایف سی کا وفد رواں ماہ اس مقصد کیلئے دورہ کرے گا۔

ڈیڑھ بلین ڈالرز کی امداد کا فرق پی ڈی ایف ایل اور ٓئی پی ڈی ایف (انفرا سٹرکچر پروجیکٹ ڈویلپمنٹ فسیلٹی)کے مابین مقابلے کی وجہ ہے،دونوں ادارے وزارت خزانہ کے زیر سایہ کام کررہے ہیں اور یہی دونوں تاخیر کی وجہ ہیں۔ایک سینئیر افسر اس حوالے سے پرامید ہیں کہ جلد کمپنی ترقیاتی منصوبے شروع کردے گی۔

مزید : قومی