کیا آپ کو معلوم ہے یہ دنیا کا مہنگا ترین سوراخ ہے اور اگر اس کے پاس سے بھی کوئی چیز گزرے تو یہ اسے اندر کھینچ لیتا ہے، یہ دراصل کیا چیز ہے؟ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی

کیا آپ کو معلوم ہے یہ دنیا کا مہنگا ترین سوراخ ہے اور اگر اس کے پاس سے بھی کوئی ...
کیا آپ کو معلوم ہے یہ دنیا کا مہنگا ترین سوراخ ہے اور اگر اس کے پاس سے بھی کوئی چیز گزرے تو یہ اسے اندر کھینچ لیتا ہے، یہ دراصل کیا چیز ہے؟ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی

  

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) روس کے علاقے مشرقی سائبیریا میں میں موجود یہ سوراخ دنیا کا مہنگا ترین سوراخ ہے، اور ساتھ ہی یہ خطرناک ترین سوراخ بھی ہے کیونکہ اس کے اوپر سے پرواز کرنے والی کوئی بھی چیز اس کے اندر جا گرتی ہے ۔ دراصل یہ ہیرے کی کان ہے جس میں 13ارب پاﺅنڈز (تقریباً17کھرب 60ارب 2کروڑ 64لاکھ روپے) مالیت کے ہیرے کے ذخائر موجود ہیں۔ اس گڑھے کی گہرائی 1ہزار 722فٹ اور قطر ایک میل کے لگ بھگ ہے۔ اس گڑھے کے اوپر سے ہیلی کاپٹروں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اس میں اتنی کشش ہے کہ اس کے اوپر سے کوئی ہیلی کاپٹر گزرے تو یہ گڑھا اسے اپنے اندر کھینچ لیتا ہے، یہی نہیں بلکہ اس کے قریب سے بھی کوئی چیز گزرے تو یہ اس کی کشش اس کو اپنے اندر کھینچ لیتی ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق اس کان کا نام میر مائن(Mir Mine)ہے اور اسے ”ہیروں کا شہر“ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کان میں ہیرے کے اس قدر ذخائر تھے کہ دوسری جنگ عظیم میں تباہ و برباد ہو جانے والے سوویت یونین کو اس خزانے نے چند سالوں میں عالمی سپرپاور بنا دیا تھا۔

’برمودا ٹرائی اینگل میں جاکر بڑے بڑے بحری جہاز بھی اچانک غائب کیوں ہوجاتے ہیں؟‘ بالآخر معمہ حل ہوگیا، اصل وجہ سامنے آگئی

رپورٹ کے مطابق 2004ءمیں اس گڑھے سے ہیروں کی نکاسی بند کر دی گئی تھی اور اس کی بجائے یہاں کئی انڈرگراﺅنڈ سرنگیں بنائی گئی ہیں جن سے 2014ءمیں 60لاکھ قیراط خام ہیرے نکالے گئے۔آغاز میں کئی ہیلی کاپٹروں کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ جب وہ اس گڑھے کے اوپر سے گزرے تو انہیں شدید کشش کا سامنا کرنا پڑا تاہم خوش قسمتی سے ان میں سے کوئی ہیلی کاپٹر گرا نہیں۔ اس کے بعد اس کے اوپر سے ہیلی کاپٹروں کے گزرنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔رپورٹ کے مطابق یہ گڑھا روسی کمپنی الروسا (Alrosa)کی ملکیت ہے جو ہیروں کی عالمی پیداوار کا ایک چوتھائی پیدا کرتی ہے۔ اپنے عروج کے دنوں میں اس کان سے سالانہ 20لاکھ قیراط ہیرے پیدا کیے جاتے تھے جو دنیا کی کل پیداوار کا 23فیصد تھے۔ 2010ءمیں اے بی ایلیس(AB Elise)نامی کمپنی نے اس گڑھے میں ایک شہر بسانے کا اعلان کیا تھا جہاں 1لاکھ لوگ کے لیے گھر بنائے جانے تھے اور ان گھروں کو سولر پاور پلانٹ سے بجلی فراہم کی جانی تھی۔ تاہم اس خواب کی تعبیر پانے کے لیے ضروری ہے کہ یہاں موجود سرنگوں سے بھی ہیرے نکالنے کا کام روک دیا جائے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس