’روس ایٹمی جنگ کی تیاری میں جگہ جگہ یہ چیز بنارہا ہے‘ تہلکہ خیز انکشاف منظر عام پر، امریکی حکومت کی راتوں کی نیندیں اُڑگئیں

’روس ایٹمی جنگ کی تیاری میں جگہ جگہ یہ چیز بنارہا ہے‘ تہلکہ خیز انکشاف منظر ...
’روس ایٹمی جنگ کی تیاری میں جگہ جگہ یہ چیز بنارہا ہے‘ تہلکہ خیز انکشاف منظر عام پر، امریکی حکومت کی راتوں کی نیندیں اُڑگئیں

  

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ اور روس کے مابین تعلقات عرصے سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں اور دونوں ایک دوسرے پر برتری لیجانے کے لیے ہمیشہ سے کوششیں کرتے آ رہے ہیں۔ اب روس نے ایک ایسا اقدام شروع کر دیا ہے جس نے امریکہ کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسیوں کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن اپنے ملک میں کئی زیرزمین بنکر بنوا رہے ہیں جو ایٹمی حملے کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں۔“ اس انکشاف سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس خود کو ایٹمی جنگ کے لیے تیار کر رہا ہے۔واشنگٹن فری بیکن کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ روس کئی سالوں سے ملک کے طول و عرض میں درجنوں کی تعداد میں یہ بنکر تعمیر کر رہا ہے۔

وہ ملک جو ایٹمی تجربہ کرکے سب سے بڑی مشکل میں پھنس گیا، ایسی جگہ دھماکہ کردیا کہ پورے ملک کا وجود ہی شدید خطرے میں پڑگیا کیونکہ۔۔۔

رپورٹ کے مطابق ایک طرف سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے امریکہ اور روس اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے نجات پانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاہم حالیہ سالوں میں روس نے بڑی تعداد میں میزائلوں کی پیداوار شروع کر رکھی ہے اور اب ان بنکرز کے انکشاف نے تصدیق کر دی ہے کہ روس کسی بڑی جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ پینٹاگون کے سابق نیوکلیئر پالیسی افسر مارک سکنیڈر کا کہنا ہے کہ ”روس ایک بڑی جنگ کی تیاری کر رہا ہے جو ہمارے خیال میں ایٹمی جنگ ہو گی اور اس جنگ میں پہلے روس ایٹمی حملے کرے گا۔ ہم کسی بڑی جنگ کی تیاری کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں، خاص طور پر ایٹمی جنگ کے لیے تو ہم بالکل تیاری نہیں کر رہے۔“

ڈیلی میل کے مطابق ان بنکرز کی کچھ تفصیلات منظرعام پر آئی ہیں لیکن روس کے ریاستی میڈیا کا کہنا ہے کہ ”یہ بنکرز ماسکو میں بنائے جا رہے ہیں اور یہ نیشنل سکیورٹی کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔“روس نے سرد جنگ کے فوراً بعد بھی ایسے ہی زیرزمین بنکرز بنائے تھے۔ ان میں سے کچھ ماسکو اور کچھ یورال(Ural)کے پہاڑوں میں بنائے گئے تھے۔مبینہ طور پر اب روس اپنی نئی نیوکلیئر ڈیفنس حکمت عملی پر اربوں ڈالرز خرچ کر رہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس میں سے کچھ رقم امریکہ کی طرف سے ملنے والی امداد میں سے بھی خرچ کی جا رہی ہے۔

مزید : بین الاقوامی