’چین سے جنگ کرنی ہے تو ابھی کرنی پڑے گی ورنہ۔۔۔‘ امریکی فوج کی خفیہ رپورٹ منظر عام پر آگئی، ایسی حقیقت کہ امریکیوں کی اپنی پریشانی کی بھی حد نہ رہی

’چین سے جنگ کرنی ہے تو ابھی کرنی پڑے گی ورنہ۔۔۔‘ امریکی فوج کی خفیہ رپورٹ ...
’چین سے جنگ کرنی ہے تو ابھی کرنی پڑے گی ورنہ۔۔۔‘ امریکی فوج کی خفیہ رپورٹ منظر عام پر آگئی، ایسی حقیقت کہ امریکیوں کی اپنی پریشانی کی بھی حد نہ رہی

  

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) دنیا کی دو بڑی طاقتوں چین اور امریکہ کے درمیان خوفناک تصادم کا خطرہ کس سطح پر پہنچ چکا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ امریکا میں اب جنگ کے جلد آغاز پر غور کیا جا رہا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر زیادہ تاخیر ہوئی تو چین کو شکست دینا ممکن نہیں رہے گا۔

امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں رہا کہ یہ جنگ ہو گی، اب سوال صرف یہ ہے کہ کب جنگ چھیڑنا امریکا کے حق میں ہے۔ اخبار ڈیلی سٹار کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما کے سابقہ چیف انٹیلی جنس ایڈوائزر ڈیوڈ گامپرٹ نے دفاعی تحقیقاتی ادارے رینڈ کارپوریشن کے لئے ایک خفیہ رپورٹ تیار کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چین کی معیشت اور دفاعی طاقت تیزی کے ساتھ امریکہ کے برابر آرہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جنگ شروع ہونے میں دیر ہوئی تو دونوں ممالک کے پاس اس قدر افواج، ٹیکنالوجی، صنعتی طاقت اور گولہ بارود ہو گا کہ یہ جنگ زمین پر، سمندر میں، ہوا میں اور حتیٰ کہ سائبر سپیس اور خلاءمیں بھی طویل وقت تک لڑی جائے گی۔ ڈیوڈ گامپرٹ کا کہنا ہے کہ اگر جنگ آج ہی شروع ہوجائے تو امریکہ کا پلڑا بھاری رہے گااور چین کو شکست کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرتاجائے گا امریکہ کے مقابلے میں چین کا پلڑا بھاری ہوتا جائے گا اور چین کی خواہش ہو گی کہ 2025 سے پہلے جنگ شروع نہ ہو۔

چین نے ایسا ہوائی جہاز بنانا شروع کردیا جس کی دنیا میں مثال نہیں، رفتار دنیا کے سب جہازوں سے تیز ہوگی لیکن ٹکٹ سب سے سستی کیونکہ۔۔۔

گامپرٹ رپورٹ کے مطابق اس جنگ کے نتیجے میں ہونے والی تباہی و بربادی کا دائرہ بہت وسیع ہو گا۔ انہوں نے اسے تیسری عالمی جنگ قرار دیا ہے، جس کی ہولناکی اور تباہی پہلی دو عظیم جنگوں سے کہیں زیادہ ہوگی۔ ڈیوڈ گامپرٹ کی تہلکہ خیز رپورٹ کا عنوان War with China, Thinking Through the Unthinkable بتایا گیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی