پنجاب یونیورسٹی کے سیکیورٹی گارڈ کی تشدد سے ہلاکت ، ورثاءانصاف کے لئے 6سال سے دربدر

پنجاب یونیورسٹی کے سیکیورٹی گارڈ کی تشدد سے ہلاکت ، ورثاءانصاف کے لئے 6سال ...
 پنجاب یونیورسٹی کے سیکیورٹی گارڈ کی تشدد سے ہلاکت ، ورثاءانصاف کے لئے 6سال سے دربدر

  

لاہور(نامہ نگار)پنجاب یونیورسٹی میں 6سال قبل تشددسے ہلاک ہونے والے سکیورٹی گارڈ کے ورثاءتاحال انصاف کے منتظر ،مقتول کا بھائی ہرپیشی پر گواہ لے کرآتاہے اور تاریخ لے کر واپس چلا جاتاہے۔سیشن کورٹ میں پنجاب یونیورسٹی کے سیکورٹی گارڈ عمران کے قتل کا استغاثہ زیر سماعت ہے جس میں پنجاب یونیورسٹی کے سابق آر او جاویدسمی ، میاں خان ، سب انسپکٹر باری غلام عابد ، سیکورٹی انچارج شوکت بطور ملزمان نامزد ہیں، یہ مقد مہ 2012ءمیں درج ہوا اور ابھی تک سیشن کورٹ میں چل رہا ہے۔ مقتول کے بھائی محمد رمضان نے نمائندہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 6 سال سے عدالتوں کے چکر لگا رہا ہے لیکن اسے انصاف نہیں مل رہاہے۔ ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے سیکورٹی گارڈ محمد عمران پر موٹر سائیکل چوری کا الزام عائد کر کے تشدد کیا جس سے وہ ہلاک ہو گیا تھا۔

مزید : لاہور