ووٹ کی توہین ہوئی ہے!

ووٹ کی توہین ہوئی ہے!
 ووٹ کی توہین ہوئی ہے!

  



ابتلا اور آ زما ئش میں بہترین حکمتِ عملی صبرو تحمل اور امکانات کے دروازے پر دستک کا انتظار کرنا چاہئے۔اگر معا ملہ سیا ست میں خسارے کا پڑ جا ئے تو واحد حل اپنی ذات سے احتساب شروع کر نے کا ہو تا ہے۔ سول ملٹری کے تازہ ملا کھڑہ(سندھی کشتی کھیل) میں گالف اور کرکٹ کے اصول لا گو کر کے نواز شریف کو چاروں شا نے چِت کر دیا گیا ہے۔ جس کے بعد وہ گھر واپسی کے راستہ میں ا پنے مو قف کومعتبر سمجھنے وا لی عوا می عدالت میں سیا سی شہا دت، مینڈیٹ کی تو ہین اور ووٹ کی پرچی پھاڑ کر ہاتھ میں تھما نے کا کیس سیا سی انداز میں پیش کر رہے ہیں، ان کی مزا حمت سے بظا ہریہی لگ رہاہے کہ ووٹ کی پرچی اور آ ئین کے درمیان ٹکراؤ کی کیفیت پیدا کر کے اس سیا سی پیرہن سے نجات چا ہتے ہیں جو عدا لتی فیصلہ سے داغدار ہو چکا ہے۔سر پر پڑ نے وا لے اس سیاسی بو جھ کا زیا دہ حصہ عوام کی بجا ئے خود سا بق وزیراعظم نے اٹھا نا ہے تو سوال عوام سے پوچھنے کی بجائے انہیں اپنے آپ کو سخت سوالات کے لئے پیش کرنا چا ہئے۔ مو جو دہ بیا نیہ جو میاں نواز شریف اسلام آ باد سے نکل کر تر تیب دیتے رہے ،اسے جی ٹی روڈ پر سفر کر تے ہوئے وقتی طور پر درست توسمجھا جا سکتا ہے مگر پو رے پاکستان کے لئے اس پریقین کرنا بہت مشکل ہے۔ اس کیس میں ایک تجر بہ کار ٹیم نے، جس کمال نا تجر بہ کا ری اوراناڑی پن کا ثبوت دیا ہے در حقیقت اس اپروچ نے ووٹ کی بے حر متی اور مینڈیٹ کی تو ہین کی راہ ہموار کی ہے۔عوا می ووٹ کی پہلی تو ہین تو پا رلیمنٹ میں خود سیاست دا نوں نے کی جب ٹی اوآ ر پر اتفاق کر نے کی بجا ئے انہوں نے ایسی آ وازوں پر زیا دہ توجہ دی جو انہیں یقین دِلاتی رہیں کہ قوم بہت جلد ان انکشافات کو بھو ل جا ئے گی،مینڈیٹ کی اما نت میں خیا نت کا ار تکاب تب ہوا جب پا رلیمنٹ موثر احتساب کی جا نب ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکی۔اب سابق وزیراعظم اقتدار سے با ہر ہو گئے تو ’’ٹرتھ اینڈ ری کنسلیشن کمیشن‘‘ کے ذریعے نیلسن منڈیلا بننے کا خیال جائز ہے؟

آ ئین تو ڑنے والوں کے لئے سزا کا سوال آ پ اٹھا رہے ہیں بڑی جا ئز بات ہے اس پربات ہو نی چا ہئے، مشرف کو سنگین غداری کیس میں ٹرا ئل کیا گیا مگر زا ہد حا مد اور دیگر اصحاب مشرف کی چھٹی کرا نے کی بجا ئے ان کو اقتدار سے نوازا گیا، اس پر بھی بس نہیں ہو ئی وزیر دا خلہ بھی اس سنگین غداری کیس میں آپ کو تنہا چھوڑ گئے تھے، فو جی آمر کے ٹرا ئل کا دروازہ تو آپ کے اقتدار میں آ نے کے بعد کھلا تھا، مگر اقتدار سے رخصتی کے بعد اس کی دہا ئی دینا، مینڈیٹ کی عزت و آبرو کا عوام سے سوال کرنا گو یا دو متضادراستوں کا سفر ہے جو آپ کو منزل سے ہمکنار نہیں کر سکتا۔ جنا ب آپ نے تو اپنے سینئر سا تھی اور وفاقی وزیر کو قر با نی کی بھینٹ چڑھا دیا، مینڈیٹ کی تو ہین آپ کے اپنے ہاتھوں ہوئی ناں! ڈان لیکس کا وقو عہ سول با لا دستی کے پیغام کا حقیقی مو قع تھا، مگر گنوا دیا آپ نے۔اپنی قربانی دینے کی بجا ئے فو جی افسروں کو سزا دینے کی بات کر تے سول اتھا رٹی اور اقتدار ایسے دلیرانہ فیصلوں سے بہت مضبو ط ہو تا، مگر حضور شاید آپ میں اتنی جرأت کہاں؟ آپ تو ہر قیمت پر اپنے اقتدار کا تسلسل چا ہتے تھے اس لئے اپنے وزیر با تد بیر کی بر طر فی تک قبول کر لی؟

آپ خا موش کیوں رہے؟ آ رٹیکل۔ 19 آ زادی ء اظہار را ئے کا حق تو عام شہری کو بھی دیتا ہے،مگرحیرت ہے نواز شریف اپنے اقتدار میں اس حق سے بھی محروم رہے ہیں عوامی مینڈیٹ کی بے بسی اور بد بختی کااس سے بڑھ کر کو ئی مو قع ہو گا؟آ پ سجن جندال جیسے بز نس مینوں سے راہ و رسم رکھنے کی یہ قیمت چکا تے رہے؟ اپو زیشن میں ہوں تو کارگل پر کمیشن بنا نے کی بات کرو، پاکستان بھارت میں ایک جیسے آلو گو شت کے ذائقوں کی بات کرو، مگر اقتدار میںآؤ تو سول بالادستی کے ان خیا لات کو شجرِ ممنوعہ سمجھ کر فوراً بھول جاؤ۔خود اپوزیشن میں ہوں تو میمو گیٹ پر سول بالا دستی کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں،عدالت میں ووٹ کی پرچی سے منتخب حکو مت کو گھر بھیجنے کے منصوبے میں فوج کے ساتھ شامل ہوتے ہیں، خود پر بُرا وقت آ ئے تو ڈان لیکس جیسی مکھی فوراً نگل لیتے ہیں، آفرین ہے آپ پر! درحقیقت آپ کو وزیراعظم کے عہدے سے بر طرف کر کے گھر بھیجا جا ئے تو غلط اور جب کسی دوسرے وزیراعظم کو اقتدار سے نکال با ہر کیا جائے تب جمہوریت پسندی کا پیمانہ کو ئی اور ہوتا ہے۔ نواز شریف اب عوام سے پو چھتے پھر تے ہیں کہ مینڈیٹ کا احترام کراؤ گے؟ کیا میاں صا حب سیا ست کا بنیا دی سبق بھی بھول گئے ہیں کہ مینڈیٹ کا احترام تو گڈ گو رننس سے ہو تا ہے۔سیا سی عدم استحکام ، کرپشن اور احتساب کا پرو پیگنڈہ اپنی مو ت آپ مر جا تا ہے جب تر جیح گڈ گورننس ہو،جو کام آپ کے ذمہ تھا وہ اب عوام کے کھا تے میں ڈال کر نا انصا فی سے کام لے رہے ہیں۔

آ پ کہتے ہیں 70 سا ل پہلے مُلک ووٹ کی قوت سے وجود میں آیا تھا،مگر حیف آپ 70 برسوں میں ایک انچ بھی مُلک کو آ گے کی طرف نہیں لے جا سکے، 1982ء سے جو شخص اقتدار کے کھیل کا حصہ بن کر سیاسی حقیقت بنا ہواہے اسے کم از کم تھوڑا بہت ناکامی کا اعتراف تو اپنے کھاتے میں ڈالنا چاہئے وگرنہ کو ئی حق نہیں دے گا کہ آپ ایک دن اچانک عوام میں آئیں اور کہیں کہ تاریخ کا دھارا بد لنا چا ہتے ہیں۔ ووٹ کی حر مت کے لیے اب آ ئین کو بد لنا چا ہتے ہیں، مگر اپنے اقتدار کے چار سال آپ خاک چھا نتے رہے ہیں؟آ ئین سا زی کا راستہ پار لیمنٹ سے ہو کر گزرتا ہے، عوا می عدالت تو اس کے لئے منا سب جگہ نہیں ہے، چار سال میں آپ پا رلیمنٹ کتنی بار تشریف لائے ہیں؟ آپ پا رلیمنٹ میں آ بھی جا ئیں تو اپنی تقر یروں کو عدالت میں سیا سی کہہ کر مکر جا تے ہیں؟اس پر عوام کے مینڈیٹ کی تو ہین کا پیمانہ کیوں خاموش ہے؟ آ پ کی پرا ئیویٹ ٹا ئپ سیا سی جما عت جمہو ریت کی روح کے منا فی نہیں ہے ؟حکو مت اور مسلم لیگ (ن) میں خاندانی سیا ست اپنے عروج پر ہے، پنجاب میں حکو مت کر نے کے لئے آپ کے بھا ئی کے سوا کو ئی دستیاب نہیں ؟ خود نا اہل ہو ئے ہیں تو اپنی اہلیہ کلثوم نواز اہل نظرآ ئی ہیں؟ میاں صا حب نے اپنے اقتدار میں اپنے زوال کے اسباب خود پیدا کئے۔گنگا گئے تو گنگارام اور جمنا گئے تو جمنا داس وا لا رویہ انہیں بند گلی کی جا نب لے آ یا ہے۔ فاش غلطیوں کاحا صل اگر ایسی ناکامیوں میں بدل جا ئے تو دوسروں کی طرف انگلی اٹھانا لیڈر شپ کے اصول کے خلاف ہے۔

مزید : کالم


loading...