مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال

مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال
 مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال

  



انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اقوام متحدہ میں اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بد ترین دشمنی کی مثال قائم کر رہا ہے۔ آزاد کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر چکوٹھی، کیل، لیپہ، تتری نوٹ، عباس پور، کھوئی رٹہ اور نکیال سمیت دیگر ملحقہ علاقوں پر درجنوں بار خلاف ورزی کرتے ہوئے گولہ باری کی ،جس سے 14شہری شہید اور60سے زائد زخمی ہوئے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں درندگی کی انتہا کرتے ہوئے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کی مدد سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر رہا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت دنیا کا بہت بڑا دہشت گرد ملک ہے۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد اب تک سینکڑوں افراد لقمۂ اجل بن چکے اور اس حوالے سے اسرائیل بھارت کی مدد کر رہا ہے۔ معلومات کے مطابق گزشتہ پانچ برس میں اسرائیل نے اوسطاً ہر برس بھارت کو ایک ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کئے۔آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارتی فورسز کشمیر میں احتجاجی مظاہرین کے خلاف مہلک ہتھیار استعمال کر رہی ہیں۔ میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ بھارتی فوج کشمیریوں پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرتی ہے۔ انہوں نے پولیس کی طرف سے پیپر شیلنگ کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس گیس کے انسانی جسم پر منفی اور مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔حریت کانفرنس کی مجلس شوریٰ کا اجلاس سید علی گیلانی کی صدارت میں ہوا ،جس میں سیاسی صورت حال اور حقوقِ بشر کی پامالیوں پر بحث ومباحثہ ہوا اور آئندہ کی حکمتِ عملی سے متعلق غوروخوض کیا گیا۔ حریت کانفرنس نے پولیس کی طرف سے مرچ گیس والے گولے استعمال کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ماہرین کے مطابق یہ گیس انسانی جسم پر دوررس منفی اثرات چھوڑنے کا باعث بنتی ہے اور اس کا استعمال زہر خورانی کے مترادف ہے۔ اس کے شکار لوگ دم گھٹنے جیسے عمل سے گزرتے ہیں۔

حریت کانفرنس کے چیئر مین میر واعظ عمر فاروق نے انکشاف کیا ہے کہ پولیس نے پرامن کشمیر مظاہرین پر کیمیائی ہتھیار استعمال کئے ہیں، جس سے نہ صرف کئی مظاہرین، بلکہ متعدد کشمیری مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ مقامی اخبار کے مطابق سرینگر میں احتجاجی مظاہرین سے خطاب میں میرواعظ نے بھارت نواز جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بھارت نواز جماعتیں اور ان کے لیڈر اپنی دو رخی پالیسیوں اور عوام کو گمراہ کرنے پر کاربند ہیں۔کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی نے بامنو اور کاکہ پورہ میں بھارتی فورسز کے ذریعے مبینہ طور کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی رپورٹوں پر گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ان رپورٹوں کی تحقیقات کے لئے آگے آئے اور بھارت سے وضاحت طلب کرے کہ وہ ایسا کیوں کر رہاہے؟بھارتی فورسز پہلے ہی جموں و کشمیر میں عام شہریوں کا ایک منصوبہ بند طریقے پر قتل عام کررہی ہیں، اب کیمیکل ہتھیاروں کے ذریعے سے انہیں مارکر ان کی لاشوں تک کو جلانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی رپورٹوں نے صورت حال کو زیادہ دھماکہ خیز بنادیا ہے اور اس سے عام لوگوں کے درمیان تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، وہ گھروں میں بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیمیکل ویپنز کنونشن اور دوسرے بین الاقوامی قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے، البتہ بھارت جموں و کشمیر میں ان قوانین کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ہے اور وہ اس خطے پرمیں ہر طرح کی سرخ لائین کو کراس کرتا ہے۔ بامنو اور کاکہ پورہ دیہات میں جن جوانوں کو قتل کیا گیا ہے، ان کی لاشیں پوری طرح سے جلی ہوئی اور مسخ ہوچکی تھیں، انہیں شناخت کرنا ناممکن ہوگیا تھا۔ لاشوں کی یہ صورت کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال سے ہی ہوتی ہے، روائتی ہتھیاروں سے ایسا ممکن نہیں ہوتا ہے۔

حریت چیئرمین نے بین الاقوامی برادری اور حقوق بشر کے لئے سرگرم اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ فورسز کے ہاتھوں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی فوری طور پر تحقیقات کرانے کے لئے آگے آئیں اور جموں وکشمیر میں انسانی زندگیوں کو تحفظ فراہم کرانے کے لئے اپنے اثرورسوخ کو استعمال میں لائیں۔دفاع پاکستان کونسل کے مرکزی رہنماؤں نے کہاہے کہ کشمیر میں ہونے والی قتل و غارت گری میں مودی سرکار کو اسلام دشمن قوتوں کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔نہتے کشمیریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار وں کا استعمال کر کے ظلم ووحشت کی انتہا کر دی گئی ہے۔ تحریک آزادی کشمیر میں دن بدن تیزی آرہی ہے۔

بدترین ظلم و تشدد اور قتل و غارت گری سے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ برقرار رکھناممکن نہیں۔کشمیری قیادت و عوام پر عزم ہیں۔ قربانیاں و شہادتیں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ کشمیری آج یک زبان ہوکر آزادی کے نعرے لگارہے ہیں، لیکن افسوس کہ پاکستان میں کشمیریوں کی سب سے مضبوط اوربلند آواز حافظ محمد سعید کو بیرونی دباؤپر نظر بندکر دیا گیا ہے۔ مودی سرکار کی سرپرستی میں کشمیریوں کے خلاف مہلک ہتھیاروں کے استعمال سے ان کی آنکھیں ضائع ہو رہی ہیں، لیکن کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ حافظ محمد سعید نے سال2017ء کشمیر کے نام کیا اور ملک بھر میں اس حوالے سے پروگرام جاری ہیں ، ہم کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ تحریک آزادی شہدا کے خون کی وجہ سے اٹھی ہے۔برہان وانی کی شہادت نے قوم کو نیا جذبہ دیا۔

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیری عوام پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرکے بھارت کے خلاف کارروائی کرے۔کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ مستقل طور پر چل رہا ہے، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بھارت کشمیر میں تبدیلی لا رہا ہے۔کشمیری آزادی چاہتے ہیں، حکومت پاکستان کہتی ہے کہ مسئلہ کشمیر فوری طور پر حل اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد ہونا چاہیے ، بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں موجودگی غیر قانونی ہے۔ برہان وانی کی کہانی کشمیر کے ہر گھر کی کہانی ہے ، کشمیری بچے ہتھیاروں سے نہیں ڈرتے، یہ وہ نسل ہے جو بالکل نڈر ہے, بھارت ان پر قابو نہیں پا سکتا،پاکستا ن کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت انہیں اپنا حق خودارادیت ملنے تک جاری رکھے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ ستر سال سے ایک حل طلب مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے جو کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے، اس پر غیر عملدرآمد شدہ قراردادیں موجود ہیں۔ ان قراردادوں میں وعدہ کیا گیا ہے کہ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دیا جائے گا اور وہ رائے شماری کے تحت ہوگا،جس کی نگرانی اقوام متحدہ خود کرے گی۔ بھارت گزشتہ ستر سال سے ایسے حالات پیدا نہیں ہونے دے رہا کہ رائے شماری کا انعقاد ہو سکے۔ان کا کہنا تھا کہ نومبر 1947ء میں بھارتی افواج اور آر ایس ایس کے دہشت گردوں نے مل کر پانچ لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا تھااور کشمیریوں کی نسل کشی کی تھی، اس کے بعد کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ مستقل طور پر چل رہا ہے بھارت نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے جذبے کو دبانے کے لئے مختلف حربے اور ہتھکنڈے استعمال کئے ہیں۔

بھارت سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت کشمیر میں تبدیلی لا رہا ہے، ہم نے یہ چیزیں اقوام متحدہ کے سامنے اٹھائی ہیں ،ہم غیر ملکی وفود کو مسئلہ کشمیر کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔ بھارت خود ہمیشہ سے ہمدردیاں حاصل کرتا رہا ہے، حالانکہ بھارت خود دہشت گردی کروا رہا ہے, اس کی سب سے بڑی مثال کلبھوشن یادیو اور احسان اللہ احسان کا بیان ہے۔ احسان اللہ احسان جو کہ جماعت احرار کا ترجمان تھا, اس نے خود آ کر بیان دیا کہ کس طرح بھارت افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لئے استعمال کررہا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال کی خبریں نئی نہیں, آج سے دس گیارہ سال قبل بھی یہ چیز سامنے آئی تھی اور امریکی کانگریس میں اس پر بحث بھی ہوئی تھی۔ پیلٹ گن میں بھی بھارت کوئی کیمیکل استعمال کررہا ہے۔ یہ رپورٹ کشمیری ڈاکٹروں نے دی ہے اور ہم نے کہا ہے کہ ان رپورٹس کی تحقیقات کروائی جائیں اور ان رپورٹس کی تصدیق کروائی جائے, اس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے کہ بھارت کے خلاف کیا کارروائی کی جانی چاہیے؟ان کا کہنا ہے کہ ہم کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے، جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوجاتا۔

مزید : کالم