عدلیہ کی طرف سے آزادی کا تحفہ دینے کا عزم

عدلیہ کی طرف سے آزادی کا تحفہ دینے کا عزم

  



لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے جشن آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اِس بات پر زور دیا ہے کہ فاضل جج حضرات جلد انصاف مہیا کر کے عوام کو آزادی کا تحفہ دیں۔آزادی کا مطلب سوچ اور فکر کی آزادی ہوتا ہے،عدلیہ پاکستان کا خود مختار اور آزاد ادارہ ہے انہوں نے کہا کہ آزادی کا دِن منا لینا ہی کافی نہیں،ہم سب کو اپنے پاک وطن میں ترقی کی راہیں کھولنے کے لئے جدوجہد کرنی چاہئے۔چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ فکر انگیز ہیں ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔مظلوم اور بے بس لوگوں کو انصاف بروقت اور دہلیز پر مہیا کرنے کے نعرے تو برسوں سے لگائے جا رہے ہیں،لیکن اس خواب کو شرمندۂ تعبیر نہیں کیا جا سکا ۔مقدمات کو جلد نمٹانے پر توجہ دی گئی ہے اور خوش آئند امر یہ ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران لاہور ہائی کورٹ نے ایک لاکھ40 ہزار مقدمات کا فیصلہ کیا ہے،جبکہ ماتحت عدلیہ(ضلع کی سطح پر) نے21لاکھ مقدمات نمٹائے ہیں۔یہ صورتِ حال پہلے سے تو بہتر ہے،لیکن بروقت فوری اور دہلیز پر انصاف مہیا ہونے کے خواب کو حقیقت بنانے کا چیلنج ابھی باقی ہے۔یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اِس بارے میں سنجیدگی سے کوشاں ہے۔توقع رکھنی چاہئے کہ آنے والے برسوں میں خواب حقیقت میں بدل جائے گا۔اِس کے لئے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی مطلوبہ تعداد میں اضافہ کرنا بھی اہم مرحلہ ہے اِس کے لئے حکومت کو وسائل مہیا کرنے کا کام ترجیحی بنیادوں پر کرنا ہو گا۔اگر عدلیہ نے یہ کارنامہ انجام دیا تو نہ صرف ہمارے ہاں انصاف کا بول بالا ہو گا، اس کے ساتھ ساتھ مثالی اور پُرامن معاشرے کا قیام بھی عمل میں آ سکے گا۔

مزید : اداریہ


loading...