’’اب آئین کو بدلنا ہوگا‘‘

’’اب آئین کو بدلنا ہوگا‘‘
 ’’اب آئین کو بدلنا ہوگا‘‘

  



’’اب آئین کو بدلنا ہوگا‘‘۔

’’میرا کیا قصور تھا، مجھے کیوں نکالا گیا‘‘۔

’’میری نااہلی کا فیصلہ پہلے ہو چکا تھا‘‘۔

’’جے آئی ٹی کی رپورٹ بھی بہت پہلے سے تیار تھی‘‘۔

’’انہوں نے مجھے اس بات پر گھر بھیج دیا کہ میں نے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہیں لی‘‘۔

’’یہ کیسا انصاف ہے کہ کروڑوں لوگوں کے منتخب وزیر اعظم کو چند لوگ ایک سازش کے تحت نااہل کر دیں‘‘۔

’’اب میں چین سے نہیں بیٹھوں گا‘ پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے کام کرونگا‘‘۔

’’جنہوں نے مجھے نااہل قرار دیا، کیا وہ اس کے اہل ہیں‘‘۔

’’کیا آپ ووٹ کا تقدس بحال کرنے کے لیے میرا ساتھ دیں گے‘‘۔

’’یہ چند لوگ پاکستان کے مالک نہیں ہو سکتے‘‘۔

’’ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے اب وائرس زدہ نظام اور آئین بدلنا ہوگا‘‘۔

’’پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے چیئرمین سینٹ کی تمام تجاویز سے اتفاق کرتے ہیں‘‘۔

فیصلے کے دن سے جی ٹی روڈ مشن کی تکمیل تک، زخم خوردہ نواز شریف نے گلے کی خرابی یا واقعی سوز میں رندھی ہوئی آواز میں جو کچھ کہا، وہ بالکل ٹھیک ہے۔

لیکن یہ سب لڑائی کے بعد یاد آنے والے مُکے ہیں۔ جب عمران خان اور طاہرالقادری کے پیروکار پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کی آنکھ کے نیچے اپنی گندی شلواریں دھو رہے تھے۔ اس وقت خورشید شاہ نے اپوزیشن لیڈر ہونے کے باوجود حکومتی مرضی کی تقریر کر ڈالی تھی اور پوری اسمبلی نے ڈیسک بجا کر ان کی تائید کی تھی۔ وہ ایک پیغام تھا جس کے بعد عمران خان کے ’’لے پالک‘‘ بڑے بھائی طاہرالقادری کو بوریا بستر لپیٹنے کا پیغام ملا۔ نواز شریف کے لیے بھی وہی موقع تھا کہ پارلیمنٹ، آئین اور سول حکومت کی بالادستی کے لیے اپنا بستر پارلیمنٹ کے اندر بچھا لیتے۔ لیکن افسوس، آپ نے وزیراعظم کے بجائے وزیر خارجہ والا عہدہ اپنے لیے زیادہ اہم سمجھا۔ انہوں نے صرف 2016ء میں 13 غیر ملکی دورے کئے۔ یہ تو خیر پچھلے سال کی واردات ہے۔ انہوں نے اپنی حکومت کے پہلے ہی سال میں غیر ملکی دوروں کا ریکارڈ قائم کر دیا تھا، جبکہ وزیر اعظم ہاؤس کی بغل میں موجود پارلیمنٹ ہاؤس میں صرف سات دن تشریف لائے۔

یہ ایک بڑی مثال ہے۔ پارلیمنٹ، آئین اور سول حکومت کی بالادستی کے ایسے بہت سے مواقع، میاں نوازشریف نے جان بوجھ کر یا اپنی اکثریت کے زعم اور تکبر میں ضائع کر دیے۔ اب یہ بات میاں صاحب سے بہتر بھلا کون جانتا ہے کہ ووٹ کا تقدس پامال کرنے والے آسمان سے نہیں اترتے۔ ان کو دعوت دینے والے، ان کو پارلیمنٹ کی راہداریوں اور وزیراعظم ہاؤس کے کمروں تک رسائی دینے والے اور ان کے ہاتھ مضبوط کرنے والے اسی پارلیمنٹ کے مکین ہیں۔ صرف میاں صاحب دعویٰ نہ کریں کہ وہ سازش کرنے والوں کو جانتے ہیں اور یہ کہ کوئی انہیں منہ کھولنے پر مجبور نہ کرے۔ قوم کا بچہ بچہ واقف ہے کہ وہ سازشی کون ہیں۔ جو سول حکمرانوں کو ریاستی اداروں سے ہاتھا پائی پر مجبور کرتے ہیں۔ وہ کون ہیں جو ملکی ترقی میں رکاوٹ ڈال کر اداروں کو ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی پر اکساتے ہیں۔ سازش کو بے نقاب کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، وقت آنے پر تاریخ کے پردے پھاڑ کر وہ وقت کے سینے پر نمایاں ہو جاتی ہے۔ یہ سیدھی سیدھی مفادات کی دوڑ ہے۔ اقتدار کے لالچ میں مجبور ہو کر نواز شریف اپنی پارٹی سمیت عدالت عظمیٰ پر چڑھ دوڑیں تو اس حرکت کو آپ کس کی سازش قرار دیں گے۔ اگر پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے جان چھڑانا مقصود ہو تو میمو گیٹ سکینڈل کو ہوا دینے کا الزام کس کے سر دھریں گے۔ آصف زرداری کے ’’اینٹ سے اینٹ‘‘ بجانے والے پالیسی اعلان کے بعد، ان کے یار خاص ڈاکٹر عاصم کے ساتھ دو سال جو سلوک کیا گیا اور پھر ٹھوس ثبوتوں کی عدم دستیابی پر انہیں ’’معصوم‘‘ قرار دینا بھی تو کوئی سازش ہی تھی۔

ایس جی ایس اور کوٹیکنا کیس میں آصف علی زرداری کو اٹھارہ سال تک عدالتوں میں ’’گھسیٹا‘‘ گیا۔ 2015 میں عدالت نے بے نقاب کیا کہ ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا، دستاویزات کی محض فوٹو کاپیاں تھیں۔ کیا آج میاں صاحب بتا سکیں گے کہ اس وقت کے احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمن کے ذریعے 30 کروڑ روپے میں فوٹو کاپیوں پر مشتمل ’’ثبوت‘‘ خریدنا کس کی سازش تھی۔ ستر سالہ ملکی تاریخ ایسی سیاسی سازشوں سے بھری پڑی ہے۔

دور جمہوریت کا ہو یا آمریت کا، آپ کو ہر حکومت کے اختتام پر ایک جیسی سازشی کہانیاں ملیں گی، صرف کہانی کے کرداروں کے نام بدلے ہونگے۔ المیہ تو یہ ہے کہ ہمیں کوئی جمہوریت خالص ملی نہ آمریت۔ ہر دور میں دونوں شیر و شکر ملے۔ اگر ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ایوب خان کو باپ جیسا احترام دیتے تھے تو جنرل ضیاء الحق نے بھی نواز شریف کو اپنے بیٹوں کی طرح پروان چڑھایا۔ ایم کیو ایم اور ق لیگ کے پیچھے بھی کسی جنرل کی پدرانہ شفقت ہی تھی۔ اب تحریک انصاف والے چاہے لاکھ انکار کریں، لیکن اپنے اوپر لگا امپائروں کی قربت کا الزام نہیں مٹا سکتے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ پارلیمان کے ارکان کی اکثریت ’سول بیورو کریسی یا فوجی بیورو کریسی کی کسی نہ کسی طرح رشتے دار ہے۔ جب اتنی پکی رشتے داریاں ہوں گی تو سازش کو بے نقاب کون کرے گا اور کیوں کرے گا۔ اسی طرح مصلحت، مفاہمت، رواداری اور برداشت، اصل میں ہماری قومی سیاست کی رشتے دار ہیں۔ ماضی کی ساری حکومتیں کسی نا کسی سازش کے تحت ختم ہوئیں اور کسی نہ کسی رشتے دار کی وجہ سے بحال بھی ہوئیں یا دوبارہ الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیاب بھی کرا دی گئیں بلکہ صرف 20 فیصد انتخابی نتائج آنے پر بطور ’’وزیر اعظم‘‘ تقریر بھی کرادی گئی۔ سازشی پہلو تو ایک طرف، سردست نوازشریف کا لہجہ ریاستی اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کی راہ ہموار کر رہا ہے۔

سابق وزیراعظم خاطر جمع رکھیں، آئین کی دفعہ 63,62 کے تحت ہونے والا فیصلہ صحرا کی ریت پر لکھی عبارت نہیں تھا، وہ قانون کی کتابوں کا ایک یادگار باب ہے، جو مستقبل میں بار بار ’’مثال کے طور پر‘‘ پیش کیا جائے گا۔

مستقبل کے منظر نامے میں حالیہ فیصلے کے سرخیل، سراج الحق کی ذمہ داری اور بڑھ جائے گی جو یہ کہہ کر آئین اور قانون کو ایک بڑی آزمائش میں ڈالنا چاہتے ہیں کہ 63'62 کو ججوں، جرنیلوں اور سرکاری افسروں پر بھی لاگو ہونا چاہئے۔ عمران خان بھی کمال دلیری سے اسی بات کا اعادہ کر رہے ہیں کہ 63'62 کی دفعات میں تبدیلی نہیں کرنے دیں گے۔ ادھر سندھ میں نیب کے ہاتھ پاؤں کاٹنے والی پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی 63'62 کی تبدیلی کا حصہ نہیں بنے گی۔ پارٹی چیئرمین کے اس دو ٹوک بیان سے جہاں ان کی ملک سے محبت اور آئین سے عقیدت جھلکتی ہے، وہیں یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ ایک تو معصوم بلاول کو اپنی پارٹی کے دور حکومت اور اپنے بہت عزیز ’’رشتے داروں‘‘ کے حسابات کا پورا ادراک نہیں اور دوسرا یقیناً انہیں دفعہ 63'62 کی پوری تشریح کا بھی علم نہیں کہ یہ کس بلا کا نام ہے۔ اگر عمران خان اور بلاول زرداری کے عزم صمیم کے مطابق آئین کی دفعہ 63'62 میں ترمیم نہ ہوئی اور سراج الحق کی خواہش کے مطابق صادق اور امین کا ہتھوڑا ججوں، جرنیلوں اور سرکاری افسروں پر بھی چلا تو ملک میں حقیقی انقلاب آئے گا۔

ورنہ یہ ساری اشرافیہ سازشی عناصر کے ساتھ مل کر خود کہے گی کہ ’’اب آئین کو بدلنا ہوگا‘‘ ۔

مزید : کالم


loading...