ایرانی پارلیمنٹ نے منشیات سمگلنگ کے قوانین میں نرمی کا قانون منظور کر لیا

ایرانی پارلیمنٹ نے منشیات سمگلنگ کے قوانین میں نرمی کا قانون منظور کر لیا

  



تہران(این این آئی)ایرانی پارلیمنٹ نے منشیات کی اسمگلنگ کے قوانین میں نرمی کی قرارداد منظور کر لی ہے۔ منشیات فروشوں کے لیے ایرانی میں انتہائی سخت قوانین نافذ تھے۔ ترمیم سے منشیات کے کئی مقید اسمگلروں کو رعایت حاصل ہو سکے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق منشیات کی اسمگلنگ میں ترمیم کے بعد ایران کی عدالت کے جج کو یہ اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ شک کی بنیاد پر اسمگلنگ میں ملوث کسی بھی ملزم کو انتہائی سخت سزا کی جگہ کم سزا کا مرتکب ٹھہرا سکے گا۔ ایران میں منشیات کی اسمگلنگ کی سزا موت ہے۔ اس وقت کئی قیدی منشیات کی اسمگلنگ کے جرم میں اپنی موت کی سزا کے منتظر ہیں۔نئی قانونی ترمیم میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی ڈرگ اسمگلر کے قبضے سے دو کلو گرام یا اس سے زائد مقدار میں طاقتور منشیات دستیاب ہوتی ہیں تو اْسے موت کی سزا سنائی جا سکے گی۔ اس قانون سے قبل تیس گرام منشیات ملنے پر موت کی سزا سنائی جاتی رہی ہے۔ جن منشیات میں رعایت دی گئی ہے، اْس میں ہیروئن اور کوکین کے علاوہ جنسی تشفی کی ڈرگز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ابھی اس قانون کی منظوری قدامت پسند شوریٰ نگہبان کی جانب سے دی جانا باقی ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ایران کا اعلیٰ دستوری ادارہ اس قانون سازی کی توثیق کر دے گا۔نئے قانون میں منشیات فروشوں کے سرغنہ کے لیے موت کی سزا برقرار رکھی گئی ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ایسے منشیات فروش جو آتشیں ہتھیار سے لیس ہوں گے اور کم سن افراد کے ساتھ زیادتی کا ارتکاب کریں گے، وہ بھی موت کی سزا کے حقدار ہوں گے۔

اسی طرح مسلسل جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے بھی موت کی سزا نئے قانون میں شامل کی گئی ہے۔

مزید : عالمی منظر