شمالی کوریا کا امریکہ کو انتباہ، گوام پر میزائل داغنے کی تیاریاں جاری

شمالی کوریا کا امریکہ کو انتباہ، گوام پر میزائل داغنے کی تیاریاں جاری

  



پیانگ یانگ/واشنگٹن/برسلز(این این آئی)شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام پر میزائل داغنے کے منصوبے کے بارے میں بتایا گیا۔کوریائی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ بھی کہا گیا کہ گوام پر حملہ کرنے کے فیصلے سے قبل کم جونگ ان امریکی اقدامات پر نظر رکھیں گے۔یاد رہے کہ پچھلے ہفتے شمالی کوریانے کہا تھا کہ وہ اگست کے وسط تک بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام کے قریب چار میزائلوں کو داغنے کے قابل ہو جائے گا۔واضح رہے کہ پیانگ یانگ اور واشنگٹن کے درمیان شمالی کوریا کے متنازع جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے الفاظ کی جنگ میں شدت دیکھنے میں آئی ہے۔شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ملک کے سربراہ کم جونگ ان نے میزائل داغنے کے منصوبے کا کافی دیر تک جائزہ لیا' اور سینیئر فوجی افسران سے اس بارے میں گفتگو کی۔ رپورٹ کے مطابق شمالی کوریائی فوج کے سربراہ گوام پر حملے کی تیاریاں مکمل ہونے کے بعد اس پر عمل درآمد کرنے کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں۔سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کم جونگ ان نے کہا کہ امریکہ جوہری ہتھیار ہمارے ملک کے قریب لایا ہے اور یہ اس کے لیے لازم ہے کہ اگر وہ خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنا چاہتا ہے تو وہ درست فیصلہ لے تاکہ عسکری تصادم نہ ہو۔شمالی کوریا کے سربراہ نے فوج کو حکم دیا کہ کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وہ میزائل لانچ کرنے کے لیے تیار رہیں۔اس سے قبل امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس نے خبردار کیا کہ شمالی کوریا کی جانب سے کیا جانے والا کوئی بھی حملہ جنگ میں بدل سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکی فوج کسی بھی وقت، کسی کی جانب سے کیے گئے حملے' سے نمٹنے اور ملک کا دفاع کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔جنوبی کوریا کے صدر مون جائے ان نے امریکی فوج کے جنرل جوزف ڈنفورڈ سے ملاقات میں اعادہ کیا کہ جنوبی کوریا کی سب سے اہم ترجیح امن ہے۔ ساتھ ساتھ انھوں نے شمالی کوریا سے بھی اشتعال انگیزی ختم کرنے کو کہا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا ایک دوسرے کے خلاف دھمکی آمیز بیان بازی کرتے رہے ہیں۔ امریکی صدر نے حال ہی میں دھمکی دی تھی کہ شمالی کوریا پر 'آگ اور قہر' کی بارش کر دی جائے گی۔تاہم شمالی کوریا کے روایتی ساتھی چین نے فریقین سے کہا ہے کہ وہ ضبط سے کام لیں۔ایک امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں امکان ظاہر کیا ہے کہ شمالی کوریا نے راکٹ انجن یوکرائنی فیکٹری سے خریدے ہیں تاہم یوکرائن کی حکومت نے اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یوکرائن نے اس خبر کی تردید کی ہے کہ اْس نے کبھی بھی میزائل ٹیکنالوجی یا اْس کے حوالے سے معلومات یا کسی قسم کے پرزے شمالی کوریا کو فراہم نہیں کیے ہیں۔ امریکا کے معتبر اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ شمالی کوریا نے میزائل میں استعمال ہونے والے راکٹ انجن امکاناً یوکرائن میں قائم ایک فیکٹری سے خریدے ۔اس خبر کے جواب میں یوکرائن کی سکیورٹی اور ڈیفنس کونسل کے سیکرٹری اولیکزانڈرٹْرشینوف نے تردیدی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ راکٹ انجن کبھی بھی یوکرائن کی جانب سے فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔ ٹرشینوف کا کہناتھاکہ یہ یوکرائن کو بدنام کرنے کی ایک مہم قرار دی جا سکتی ہے۔اولیکزانڈرٹْرشینوف نے ایسے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ یوکرائن مخالف اس بیان کے پسِ پردہ روس کی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ بھی ہو سکتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری راکٹ انجن ساز ادارے یوڑماش کو سابق سوویت یونین کے زوال کے بعد سیخراب مالی صورت حال کا سامنا ہے۔اس ادارے کو مزید مشکلات کا سامنا اْس وقت کرنا پڑا جب روس نے بھی اس کے ساتھ کاروباری تعلقات منجمد کر دیے تھے۔ اخبار کے مطابق یہ فیکٹری ممکنہ طور پر شمالی کوریائی میزائل سازی کا بڑی ذریعہ ہو سکتا ہے۔امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل جوزف ڈنفورڈ نے کہا ہے کہ اگر شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام کو روکنے میں سفارتی اور پابندیوں پر مبنی حکمت عملی ناکام ہوئی تو امریکا فوجی امکانات کے لیے بھی تیاری کر رہا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق یہ بات جنوبی کوریا کے صدر دفتر کی طرف سے بتائی گئی ، جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کے ترجمان پارک سْو ہیون نے میڈیا کو بتایا کہ جنرل ڈنفورڈ نے جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن کے ساتھ ملاقات میں شمالی کوریا کی طرف سے کسی اشتعال انگیزی کے موضوع پر بھی بات کی ہے۔ جنرل ڈنفورڈ جنوبی کوریا سے چین اور جاپان جانے کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔

مزید : عالمی منظر