ایران اب افغانستان میں بھی گھس آنا چاہتا ہے

ایران اب افغانستان میں بھی گھس آنا چاہتا ہے
 ایران اب افغانستان میں بھی گھس آنا چاہتا ہے

  



ایران ہمارا برادر ہمسایہ ملک ضرور ہے۔ اس سے ہمارے قدیم مذہبی، ثقافتی،لسانی اور تاریخی روابط بھی ہیں۔لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ ماضئ قریب میں ایک عرصے سے روابط کا یہ صاف و شفاف آئینہ مکدر ہوتا جا رہا ہے اور پہل ایران کی طرف سے ہوئی ہے،پاکستان کی طرف سے نہیں۔اس کی وجوہات جو اول اول مسلکی تھیں اب عسکری، سیاسی اور علاقائی ہونے لگی ہیں۔۔۔ آیئے اس اختلاف کی ایک مختصر تاریخ میں اترتے ہیں۔ پاکستان میں آبادی کی اکثریت سُنی العقیدہ ہے لیکن یہ اکثریت اپنے شیعہ بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ہمیشہ شیرو شکر ہو کر رہنے کی ایک تاریخ رکھتی ہے۔ پاکستان کی سماجی زندگی کے کسی شعبے میں بھی شیعہ ،سُنی کی تمیز وجۂ نزاع کبھی نہیں بنی لیکن جب سے ایران اور سعودی عرب میں رقیبانہ کشا کش پیدا ہوئی ہے پاکستان، ایران کی نگاہوں میں کھٹکنے لگا ہے۔ ماضی میں نہ صرف یہ کہ پاکستان کو جوہری اہلیت کے قابل بنانے میں سعودی عرب کی مالی اعانت قابلِ ذکر رہی بلکہ پاکستان کی عسکری قوت کو جدید ہتھیاروں سے مسلح کرنے اور تیل کی فوری ضروریات پوری کرنے میں بھی سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی مدد کی۔ اگرچہ پاکستان نے ایران کو بھی جوہری استعداد کی منتقلی میں ایک کردار ادا کیا اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا رول اس سلسلے میں کسی وضاحت کا محتاج نہیں ،لیکن اس کے باوجود اِسی دور میں ایران اور پاکستان میں مغائرت کے سلسلے اندر ہی اندر فروغ پانے لگے۔

شاہِ ایران کی معزولی اور آقائے خمینی کی آمد کے بعد1980ء کے عشرے میں عراق ایران جنگ میں ایرانی افواج کو پاکستانی افواج کی تربیتی اور اسلحی امداد بھی فراہم رہی ہر چندکہ اس کا سکیل کچھ زیادہ بڑا نہیں تھا۔ چونکہ پاکستانی افواج کا بیشتر اسلحہ امریکی نژاد تھا اور امریکہ اور ایران کی دشمنی ظاہر و باہر تھی اس لئے بھی پاکستان نے ایران کی عسکری امداد میں براہِ راست کوئی بڑا رول ادا کرنے سے احتراز برتا۔یہی وہ دور تھا جب سوویت یونین کا سقوط ہوا اور جب صدر پوٹن روس کے صدر بنے تو ایران اور روس میں اُس دوستی کا آغاز ہوا جس کی حدود،مشرق وسطیٰ کے اس خطے میں بڑی واضح ہوکر سامنے آنے لگیں۔روس نے فیصلہ کیا کہ وہ ایران کو جوہری صلاحیت منتقل کرے گا۔لیکن چونکہ ایران کی اکیڈیمک سائنسی بنیاد بمقابلہ پاکستان کمزور تھی اِس لئے پاکستان نے جس سرعت سے نیو کلیئر اہلیت حاصل کی، ایران ایسا نہ کر سکا۔تاہم روس نے ایران کو اس اہلیت کا اہل بنانے میں ایک کلیدی حصہ لیا اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ اگرچہ امریکہ کے ساتھ ایران کے دس سالہ معاہدے میں دراڑیں پڑنے لگی ہیں لیکن نہ ایران نے فی الحال اس معاہدے کو توڑا ہے اور نہ ہی صدر ٹرمپ نے کھل کر اپنے پیشرو کی طرف سے کئے جانے والے اس تاریخی جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

پاکستان دُنیا کا واحد اسلامی ملک تھا جس نے ایٹمی دھماکے کئے اور جس کی میزائلی اہلیت بھی محتاجِ بیان نہیں۔ایران تیل کی دولت سے مالا مال ملک ہے اور پاکستان ہمیشہ، تیل برآمد کرنے والے ممالک کے پیمانے سے، ایک غریب ملک رہا ہے۔ایران کا رقبہ پاکستان سے زیادہ اور آبادی پاکستان سے کم ہے۔ایران کی شرحِ خواندگی بھی پاکستان سے زیادہ ہے،چنانچہ شرحِ تعلیم کی عمومی برتری اور سرمائے کی کثرت نے ایران کو بہت جلد اس خلا کو پُر کرنے کی طرف آگے بڑھایا ہے جو پاکستان اور ایران کی سائنسی تعلیم و تربیت کے درمیان موجود تھا (اور ایک حد تک آج بھی ہے)۔۔۔ مسلکی رقابت کے بعد یہ جوہری رقابت ایران اور پاکستان کے درمیان پرخاش کی دوسری وجہ ہے۔۔۔۔

تیسری وجہ علاقائی رقابت ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ چار چھوٹی بڑی جنگوں کا تجربہ حاصل ہے۔ بھارت کے خلاف چوتھی جنگ(یا لڑائی) کارگل کی لڑائی تھی جو 1999ء میں ہوئی۔ اس کے مقابلے میں ایران کو عراق سے دس سالہ طویل جنگ کا تجربہ تھا۔ لیکن اس جنگ کا زیادہ زور زمینی جنگ پر تھا۔ دونوں ممالک کی فضائی اور بحری افواج نے کبھی اس پیمانے کی جنگ کا سامنا نہیں کیا جو پاکستان کو 1965ء اور پھر 1971ء کی مغربی پاکستانی جنگ میں ہو چکا تھا۔ مزید برآں1980ء ہی کے عشرے میں پاکستان کو بھی افغان جہاد کا بالواسطہ تجربہ ہو چکا تھا اور پاکستان نے بعض جدید سلاحِ جنگ بھی امریکہ سے حاصل کر لئے تھے۔۔۔ان میں ایف16- اور سٹنگر میزائل خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

جب2003ء میں امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو ایران نے صدام حسین کی افواج کی شکست میں امریکہ کی بالواسطہ مدد کی اور جلد ہی بغداد میں ایک ایسی حکومت قائم ہو گئی جس کو ایران کی حمایت حاصل تھی۔اس عراقی جنگ کو ایرانی ملٹری ڈویلپمنٹ میں ایک سنگ میل تصور کیا جانا چاہئے،کیونکہ انہی برسوں میں ایران نے چار اطراف میں بیک وقت ڈویلپمنٹ کی منازل طے کیں۔۔۔ اول نیو کلیئر فیلڈ میں یورینیم افزدہ کرنے میں۔۔۔ دوم میزائل ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے میں (شہاب میزائل وغیرہ)۔۔۔ سوم جدید چھوٹے ہتھیاروں (Small Arms) اور جدید سامانِ جنگ کی پروڈکشن میں۔۔۔ اور چہارم میدانِ جنگ میں پروفیشنل تجربہ حاصل کرنے میں۔۔۔۔یہ آخری پہلو خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ 1980ء کے عشرے میں صدام حسین کی عراقی آرمی کے ساتھ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا مقابلہ تھا جس میں ایران کی نژادِ نو نے بے پناہ جانی قربانیاں دیں اور عراقی افواج کو شط العرب عبور کر کے آبادان یا بندر عباس کی طرف بڑھنے نہ دیا۔ لیکن صدام حسین کی پھانسی کے بعد عراقی آرمی میں چونکہ زیادہ تعداد شیعہ اور ایرانی آرمی کی کمک یافتہ نفری کی ہوگئی تھی اس لئے اس فوج نے امریکی افواج سے مل کر ایک ایسا تجربہ حاصل کیا جس نے آگے چل کر شام کی جنگ میں بھی بشار الاسد کی مدد کی۔

سطور بالا سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ ایران کی مسلح افواج کو گزشتہ15برسوں میں جدید جنگ و جدال کا ایک وسیع تجربہ حاصل ہوا ہے۔ آئی ایس آئی ایس (ISIS) سے جنگ ایک الگ اور مستقل باب ہے جس کی تفصیلات پر تبصرہ کرنا اس مختصر سے کالم میں ممکن نہیں۔ جہاں سعودی عرب کو(یمن میں) صرف اور صرف فضائی جنگ کا تھوڑا بہت تجربہ حاصل ہوا، وہاں سعودی گراؤنڈ فورسز کا کوئی ٹرائل ہنوز نہیں ہو سکا۔اس کے مقابلے میں ایران کو یہاں بھی ایک وسیع تجربہ حاصل ہوا جس میں جدید اسلحہ جات اور ٹیکٹکس کا استعمال پیش پیش رہا۔ اب ایران کے لئے عراق، شام اور لبنان تک ایرانی افواج کی نقل و حرکت میں کوئی رکاوٹ مانع نہیں اور ہم جانتے ہیں کہ اس میں روس نے ایران کی مدد کی ہے۔روسی فضائیہ اور بحریہ اگر طرطوس اور انطاکیہ میں آ کر اس شامی فوج کے شانہ بشانہ نہ لڑتی جس کو ایران کی حمایت اور کمک حاصل تھی تو امریکہ(اور سعودی عرب) کو ان ممالک میں جو غلبہ حاصل ہو جاتا اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔

ایران انہی کامیابیوں کی وجہ سے اپنی توجہ اب مغرب (عراق، شام، لبنان) سے ہٹا کر شمال اور مشرق (افغانستان اور پاکستان) کی طرف کر رہا ہے،جس کا مظاہرہ ہم کبھی کلبھوشن یادیو کی شکل میں دیکھ رہے ہیں، کبھی چاہ بہار میں بھارت کی مدد سے بندرگاہی سہولیات کی فراہمی اور تعمیر و تشکیل کی صورت میں اور کبھی حال ہی میں افغانستان میں امریکی اور افغان نیشنل آرمی کے خلاف،طالبان کی مدد کی صورت میں!

افغانستان کے نقشے پر نظر ڈالیں تو اس کی مغربی سرحد جو ایران سے ملتی ہے،500 میل (800کلو میٹر) طویل ہے۔اس میں اوپر سے نیچے،یعنی شمال سے جنوب کی طرف تین وسیع و عریض صوبے شامل ہیں۔یعنی ہرات، فراہ اور نیم روز۔۔۔ ان تینوں صوبوں میں ایرانی اثرات واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ اشیائے صرف کی ہر چیز ایران سے آتی ہے۔گزشتہ برس اکتوبر میں فراہ کی ایک افغان پوسٹ پر طالبان کی طرف سے حملہ کیا گیا اور حملہ آوروں نے پوسٹ کا محاصرہ کر لیا۔یہ طالبان آج بھی افغانستان کے 45 فیصد رقبے پر قابض ہیں۔لیکن فراہ شہر (فراہ صوبے کے دارالحکومت کا نام بھی فراہ ہے) میں مسلکی اختلافات کی وجہ سے طالبان کا زیادہ زور نہیں اور آبادی کی اکثریت کا تعلق اہلِ تشیع سے ہے۔ اِس لئے فراہ کی اِس پوسٹ پر طالبان کا حملہ اور محاصرہ غیر متوقع تھا۔جب محاصرے نے طول کھینچا تو کابل انتظامیہ نے امریکی ائر فورس سے مدد کی درخواست کی۔ چنانچہ امریکی بمباری سے محاصرہ کرنے والی طالبان فورس کے تقریباً 95فیصد لوگ مارے گئے۔

جب ان کی شناخت کی گئی تو معلوم ہوا کہ ان طالبان میں چار ایرانی کمانڈوز بھی شامل تھے جن کی نمازِ جنازہ ایران میں ادا کی گئی۔ اس وقت معلوم ہوا کہ ایران،نہ صرف یہ کہ افغان طالبان کی مدد کر رہا ہے بلکہ ان کو جدید ہتھیاروں پر اپنے ہاں (سرحدی علاقوں میں) ٹریننگ بھی دے رہا ہے اور ہر قسم کی لاجسٹک سپورٹ بھی مہیا کر رہا ہے۔علاوہ ازیں ان طالبان کے ہمراہ اپنے ایرانی کمانڈوز کو بھی سرحد پار بھیج کر ان امریکی ٹروپس کے خلاف حربی تجربہ حاصل کرنا چاہتا ہے جو افغان نیشنل آرمی(ANA) کو ٹریننگ دے رہے ہیں۔ امریکیوں کے خلاف یہ نیا تجربہ عراق اور شام کی جنگوں میں امریکی ٹروپس کی کارکردگی کے سائے میں بھی ایرانی فوج نے حاصل کیا ہے۔۔۔۔ کبھی ان کے خلاف لڑ کر اور کبھی ان کے ساتھ شامل ہو کر!

امریکی صدر ٹرمپ نے آٹھ دس روز پہلے واویلا مچایا تھا کہ افغانستان میں امریکی فوج کو 16برس گزرنے کے بعد بھی فتح کیوں حاصل نہیں ہو رہی اور وہاں کے امریکی کمانڈر(جنرل نکولسن) کو سیک کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ ٹرمپ کے اس بیان پر امریکی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر نے نکولسن کی حمایت کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ افغان حکومت اور امریکہ کو اُس حقانی گروپ کی طرف سے بھی مزاحمت کا سامنا ہے، جس کی پیٹھ پاکستان ٹھونک رہا ہے۔ساتھ ہی پاکستان کو بھی دھمکی دی تھی کہ افغانستان میں اب جنگی حکمت عملی تبدیل کر دی جائے گی اور امریکی بوٹ پاکستانی سرحد کے اندر بھی آ سکتے ہیں۔ راقم الحروف نے ایک کالم میں اس کی کچھ تفصیل بھی لکھی تھی۔لیکن اب ٹرمپ کو بتایا جا رہا ہے کہ افغان طالبان کو نہ صرف پاکستان کی حمایت حاصل ہے،بلکہ ایران بھی امریکی افواج کے انخلا کے بعد اس خلا میں کود کر اپنا حصہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ امریکی ٹاپ براس اب صدر کو باور کروانا چاہتا ہے کہ اگر کابل سے امریکی ٹروپس واپس بلا لئے جائیں گے تو جو حکومت وہاں معرضِ وجود میںآئے گی اس کو نہ صرف پاکستان بلکہ ایران کی حمایت بھی حاصل ہوگی اور مزید بتایا جا رہا ہے کہ آج کل امریکہ اور ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر امریکہ اگر افغانستان سے نکل جاتا ہے تو افغانستان کی مغربی سرحدوں پر ایرانی اثرو رسوخ بڑھ جائے گا۔

موجودہ افغان حکومت میں بھارت کا جو حصہ ہے اور بھارت کے ساتھ ایران کی جو ملی بھگت ہے اس کو دیکھتے ہوئے پاکستان اور ایران کے آئندہ تعلقات کا ایک واضح خاکہ مرتب کیا جا سکتا ہے۔پاکستان اپنے ہمسایوں کے ساتھ مخالفت مول لینے کی پالیسی پر عمل پیرا نہیں ہونا چاہتا لیکن اگر ہمسائے مخالفت پر ادھار کھائے بیٹھے ہوں تو پاکستان کو اپنا دوسرا گال ان کے سامنے کر دینا چاہیے یا نہیں اس کا فیصلہ قارئین پر چھوڑتا ہوں!

مزید : کالم


loading...