استاد نصرت فتح علی خان کی 20 ویں برسی کل منائی جائے گی

استاد نصرت فتح علی خان کی 20 ویں برسی کل منائی جائے گی
 استاد نصرت فتح علی خان کی 20 ویں برسی کل منائی جائے گی

  



لاہو ر(فلم رپورٹر) لیجنڈ قوال استاد نصرت فتح علی خان کی 20 ویں برسی کل منائی جائے گی ۔نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948ء کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے ، والد کا نام فتح خان تھا وہ خود بھی نامور گلوکار، سازندے اور قوال تھے۔آپ کے والد آپ کو ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے لیکن نصرت کے سامنے تو ایک اور ہی دنیا تسخیر کی منتظر تھی۔ ساز و آواز سے نصرت کی روح اور دل کی ہم آہنگی ہی کے باعث سننے والے ان کے کلام میں کھو جایا کرتے ہیں۔ استاد نصرت فتح علی خان نے بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ٹائم میگزین نے 2006ء میں ایشین ہیروز کی فہرست میں ان کا نام بھی شامل کیا، بطور قوال اپنے کیریئر کے آغاز میں اس فنکار کو کئی بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔نصرت فتح علی خان کی قوالیوں کے پچیس البم ریلیز ہوئے جن کی شہرت نے انہیں گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ دلوائی، ابتداء میں حق علی علی اور دم مست قلندر وہ کلام تھے جنہوں نے انہیں شناخت عطا کی۔ان کے مقبول نغموں میں انکھیاں اڈیک دیاں، یار نا وچھڑے، میرا پیا گھر آیا اور میری زندگی سمیت متعدد شامل ہیں۔نصرت فتح علی خان کی ایک حمد وہ ہی خدا ہے کو بھی بہت پذیرائی ملی جبکہ ایک ملی نغمے میری پہچان پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لئے گایا گیا گیت 'جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم' آج بھی لوگوں کے دلوں میں بسے ہیں۔نصرت فتح علی خان کو ہندوستان میں بھی بے انتہا مقبولیت اور پذیرائی ملی جہاں انہوں نے جاوید اختر، لتا مینگیشکر، آشا بھوسلے اور اے آر رحمان جیسے فنکاروں کے ساتھ کام کیا۔استاد نصرت فتح علی خان نے جس طرح اپنے فن کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچا دیا اس طرح فن موسیقی میں پاکستان کو پوری دنیا میں متعارف کرانے کا کریڈٹ صرف اور صرف استاد نصرت فتح علی خان کو جاتا ہے۔انہوں نے ڈیڈ مین واکنگ، بینڈٹ کوئین، دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ اور نیچرل بورن کلرز جیسی بین الاقوامی فلموں کیلئے میوزک، گیت، ساؤنڈ ٹریکس اور الاپ وغیرہ بھی گائے اور بنائے۔ان کی فنی خدمات کے صلہ میں انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نواز اگیا۔

، وہ بیک وقت موسیقار بھی تھے اور گلوکار بھی تھے ،1995ء میں انہیں یونیسکو میوزک ایوارڈ دیا گیا جبکہ 1997ء میں انہیں گرامی ایوارڈز کیلئے نامزد کیا گیا۔وہ گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور اڑتالیس سال کی عمر میں 16اگست 1997ءء کودنیا سے کوچ کر گئے ان کے گانے ، قوالیاں اور نغمے آج لوگ بہت شوق سے سنتے ہیں ۔

مزید : کلچر


loading...