قلعہ کہنہ ملتان میں یوم آزادی کی بڑی تقریب، قومی پرچم لہرا دیا گیا

قلعہ کہنہ ملتان میں یوم آزادی کی بڑی تقریب، قومی پرچم لہرا دیا گیا

  



پاکستان کا 70واں یوم آزادی ملک بھر کی طرح جنوبی پنجاب خصوصاً شہر اور مضافات میں ایک نئے جوش اور ولولے کے ساتھ منایا گیا قومی پرچموں کی بہار ملی نغموں پر رقص جوش و جذبہ ولولہ اور امنگ کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں نے وطن کے ساتھ محبت کا ثبوت دیا اور ان کے لئے پیغام بھی جو سیاسی بر تری کے لئے قوم کو تقسیم در تقسیم کر رہے ہیں۔ عمارتوں اور سڑکوں کے اطراف چراغاں نے ایک سماں باندھ رکھا تھا یوم آزادی پر صبح قومی پرچم کشائی کے ساتھ ساتھ ریلیاں اور جلوس بھی نکالے گئے جن کے ساتھ بڑے بڑے سپیکرز پر قومی نغموں کی آواز گونج رہی تھی ملتان میں سب سے بڑی تقریب قلعہ کہنہ قاسم باغ میں منعقد ہوئی جہاں میئر ملتان چودھری نوید الحق آرائیں نے سرکاری افسران مقامی قیادت کے ساتھ پرچم کشائی کی اور ملک کی سلامتی کے لئے دعا کرائی ۔ زکریا یونیورسٹی لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ ‘ زرعی یونیورسٹی سمیت مختلف کالجوں ‘ سکولوں اور سرکاری اداروں میں اس موقع پر خصوصی اہتمام کے ساتھ پرچم کشائی ہوئی اور دُعائیں مانگی گئیں اس مرتبہ پاکستانیوں نے قومی پرچم سے مشابت والے لباس بھی زیب تن کئے خصوصاً بچوں نے بہت خوبصورت انداز میں قومی پرچم کو اپنے چہروں پر نقش کروایا جبکہ بچیوں نے سبز رنگ کی چوڑیاں ‘ہیئرکیچ اور لباس زیب تن کئے غرض یہ کہ یوم آزادی ایک ایسے وقت میں اتنا پر جوش طور پر منایا جانا ،جبکہ ملک میں الزام تراشی کی سیاست عروج پر ہے ملک کے لئے نیک شگون ہے دوسری طرف سیاست دان بھی اس موقع پر قوم کو یکجہتی کا درس دینے کی بجائے یکسو ہو کر الزام تراشی کی سیاست کو پروان چڑھانے میں مصروف ہیں سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ‘ میاں نواز شریف کی ریلی کو مگر مچھ کے آنسوؤں سے تشبیہ دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ آئین اور پارلیمنٹ کی بے توقیری نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے میاں نواز شریف کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ اگر آئین کی شق 62اور 63کو ختم کرانے کا سوچ رہے ہیں تو آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے رابطہ کریں کیونکہ ہم نے اپنے دور میں میثاق جمہوریت پر عمل کیا تھا، لیکن مسلم لیگ (ن) نے عمل نہیں کیا لہٰذا اب بات مختلف انداز میں ہو گی ادھر تحریک انصاف کے رہنماء مخدوم شاہ محمود حسین قریشی نے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے قبل ازیں وہ کہہ چکے ہیں کہ تحریک انصاف جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی بات کو اپنے پارٹی آئین کا حصہ بنائے گی کیونکہ جنوبی پنجاب کو اس کا حق نہیں مل رہا اب ان کے اس مطالبے پر کون توجہ کرتا ہے یہ تو آگے چل کر معلوم ہو گا۔

ادھر لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ بار ایسوسی ایشن کے صدر شیر زمان قریشی اور دوسرے وکلاء کی طرف سے عدالتوں کا بائیکاٹ اور احتجاج طوالت اختیار کر چکا ہے جبکہ یہ ایشو ملتان سے نکل پر پورے جنوبی پنجاب میں پھیل رہا ہے اس حوالے سے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے وکلاء کا نمائندہ کنونشن ملتان میں منعقد ہوا جس میں یہ قرار داد منظور کی گئی کہ ملتان کے وکلاء کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس واپس، ضلع لودھراں اور ساہیوال کو دیگر بنچوں میں مقدمات دائر کرنے کی اجازت کا حکم واپس لینے تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کر دیا اب بار اور بنچ کے اس تنازعہ کو کون حل کرے گا یہ ابھی تک سمجھ سے بالاتر ہے اور اس کا تمام تر نقصان سائیلان اٹھا رہے ہیں جو روزانہ اپنے مقدمات کی پیروی کے لئے آتے ہیں، لیکن جو بوجہ ہڑتال اگلی پیشی لے کر چلے جاتے ہیں، لیکن اس حوالے سے نہ تو بار کوئی سنجیدہ مثبت قدم اٹھا رہا ہے اور نہ ہی بنچ اب اس کا حل کیا ہو گا اس کے لئے انتظار کرنا پڑے گا۔

جلالپور پیروالا اور لودھراں سے تعلق رکھنے والے وزراء سید جاوید علی شاہ اور الحاج عبدالرحمان خان کانجو وزارت کا حلف اٹھانے کے بعد اپنے اپنے علاقے میں پہنچے تو ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ آبی وسائل کے وفاقی وزیر سید جاوید علی شاہ تو بذریعہ سڑک ہی یہاں پہنچ گئے، لیکن اوورسیز پاکستانیوں کے وزیر مملکت الحاج عبدالرحمان خان کانجو نے شیڈول فلائٹ نہ ہونے کی وجہ سے فاطمہ گروپ کے پرائیویٹ جیٹ پر اسلام آباد سے ملتان کا سفر طے کیا اور ائیر پورٹ پر استقبال کرنے والوں نے ان کا خیر مقدم کیا اور وہ ریلی کی صورت میں لودھراں روانہ ہوئے دونوں وزراء کا خیال ہے کہ جی ٹی روڈ ریلی نے قائد میاں نواز شریف پر بھر پور اعتماد کا اظہار کر دیا ہے جو ثابت کرتا ہے کہ وہ عوامی وزیراعظم ہیں اب عوام کس کو اپنا مینڈیٹ اور اعتماد دیتے ہیں یہ تو آنے والے عام انتخابات میں ہی معلوم ہو سکے گا ۔ادھر اس ریجن کے سب سے بڑے نشتر ہسپتال اور میڈیکل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ تو دے دیا گیا ہے اور اس کے لئے ساڑھے چار ارب کا بجٹ بھی جاری کر دیا گیا ہے مگر دوسری طرف نشتر ہسپتال کی حالت دن بدن خراب ہو رہی ہے جہاں کبھی مریضوں کا مکمل علاج ہوا کرتا تھا اب اس ہسپتال کے باہر پرائیویٹ علاج گاہوں کی مارکیٹیں کھل گئی ہیں جبکہ غریب مریض علاج و معالجہ کے لئے خوار ہو رہے ہیں ادویات تو درکنار اب ڈاکٹر بھی ناپید ہو رہے ہیں، جبکہ آئے دن ہڑتالوں نے مزید خرابی پیدا کر دی ہے ہسپتال کا نظام تباہ ہو رہا ہے اور غریب مریضوں کے لئے اب آس نہیں رہی اور مریض علاج کی حسرت لیے پرائیویٹ علاج کرانے پر مجبور ہیں اس کا بھی کوئی علاج کوئی کر سکے گا؟

مزید : ایڈیشن 1