نوازشریف کی ریلی کے لئے لیگی کارکن قائدین سے ہاتھ کر گئے

نوازشریف کی ریلی کے لئے لیگی کارکن قائدین سے ہاتھ کر گئے

  



خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے پے درپے واقعات میں پاک فوج کے آفیسر سمیت 6 جوان و سیکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے جن میں 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں یہ افسوسناک واقع شمالی خیبرپختونخوا کے ضلع دیر کے علاقہ تیمرگرہ میں پیش آیا جہاں ایک آپریشن کے دوران پاک فوج کے جوان دہشت گردوں کے ایک مرکز کا سراغ لگانے کے بعد اس میں داخل ہو گئے اس دستے کی قیادت پاک فوج کے ایک بہادر سپوت میجر علی کر رہے تھے بعض اطلاعات کے مطابق فوجی جوانوں کو اس بات کا بھی علم تھا کہ مذکورہ دہشت گردوں کے پاس خودکش جیکٹوں سمیت جدید اسلحہ اور گولہ بارود موجود ہے مگر اس کے باوجود یہ دستہ دہشت گردوں کے مرکز میں داخل ہو گئے جہاں انہوں نے موجود تمام دہشت گردوں کو قابو کر لیا مگر ایک دہشتگرد اپنی جیکٹ اڑانے میں کامیاب ہو گیا جس کے نتیجے میں میجر علی اور ان کے چار جوان رتبہ شہادت پر فائز ہو گئے اس واقع میں ایک دہشتگرد کو زندہ گرفتار کر لیا گیا۔

دیر کے اس افسوناک واقعے کے بعد ایک ہی روز اور ایک ہی وقت میں ڈیرہ اسماعیل خان اور باجوڑ ایجنسی میں دہشت گردوں کی وارداتیں رونما ہوئیں ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک امام بارگاہ کی سکیورٹی پر تعینات 2 پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا جبکہ اس کے اگلے روز اسی شہر میں اہل تشیع سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیت سید مظہر علی شیرازی کو قتل کر دیا گیا اس سے کچھ عرصہ قبل مقتول کے جواں سال بھتیجے جو کہ قانون دان تھے کو بھی ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے قتل کیا جا چکا ہے 2 روز میں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے تین افراد کے قتل سے ڈیرہ اسماعیل خان کی فضاء میں کشیدگی پیدا ہو گئی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پولیس اہلکاروں کو امام بارگاہ کے اندر داخل ہو کر قتل کیا گیا جبکہ مظفر شیرازی کو گھر کے دروازے پر دستک دے کر باہر بلوا کر فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا ٹارگٹ کلنگ کے اس نئے انداز سے پتہ چلتا ہے کہ ٹارگٹ کلر غیر معمولی طور پر کچھ زیادہ ہی پر اعتماد اور دلیر بن گئے ہیں جو کہ قانون کی کمزور گرفت کی نشاندہی کرتا ہے۔ قانون کی کمزور عملداری صرف ڈیرہ اسماعیل خان کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ صوبے بھر میں قانون کی گرفت ڈھیلی پڑتی نظر آ رہی ہے جس کی واحد وجہ یہ ہے کہ جمہوری حکومتیں سیاسی ایشوز میں الجھ کر عوام کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری سے غافل ہو چکی ہیں نیشنل ایکشن پلان کو مستقل بنیادوں پر سپرد خاک کر دیا گیا دہشت گرد گروہوں نے اس صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھا کر اپنے آپ کو منظم کر کے کارروائیاں شروع کر دیں۔ ہم قارئین کو یاد کراتے چلیں کہ 15 روز قبل انہی سطور میں فرقہ وارانہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ شروع ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی اور شائع شدہ رپورٹ کے عین مطابق عید الالضحیٰ سے 17 روز قبل فرقہ وارانہ دہشت گردی کی لہر شروع ہوئی اگر حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو یہ خوفناک آگ پشاور سمیت دیگر اضلاع کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اور بات ٹارگٹ کلنگ سے آگے بڑھ کر خودکش حملوں تک جا سکتی ہے فی الوقت حکومت مذمت کر کے اپنی ذمہ داریوں سے مبرا ہونے کی کوشش کر رہی ہے مگر اس سے کام نہیں چلے گا عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک پیج پر آنا ہوگا اور دہشت گردوں کے خلاف موثر فوری اقدامات اٹھانا ہوں گے خصوصاً ڈیرہ اسماعیل خان کے عوام کے احساس محرومی اور احساس عدم تحفظ کا ازالہ کرنا ہوگا۔

عمران خان نے لیاقت باغ کے جلسے میں خیبرپختونخوا کی حکومت اور پولیس کے بارے میں جو بلند و بانگ دعوئے کئے ہیں یہ تمام کے تمام غلط نہیں تودرست بھی نہیں ہیں عمران خان کو صرف اپنی حکومت کی بنائی گئی رپورٹوں پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے بلکہ براہ راست عوام سے پوچھ لیں تو بہت ساری ایسی باتیں کھل کر سامنے آئیں گی جو خود ان کے دعوؤں کے منافی ہوں گی صوبائی حکومت نوازشریف کی طرح اپنے اقتدار کو بچانے کے چکر میں پریشان ہے پارٹی کے اندرونی ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان ہاؤس تبدیلی کے بعد عاطف خان نئے وزیر اعلیٰ آئیں گے عاطف خان کا تعلق شہرام ترکئی گروپ سے ہے جو کہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا مخالف گروپ ہے۔ قومی وطن پارٹی کی صوبائی حکومت کے اتحاد سے علیحدگی میں اسی گروپ نے کلیدی کردار ادا کیا دوسری طرف جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمن اپنے بھائی کو وزیر اعلیٰ بنانے کے چکر میں ہیں جو کہ اس وقت قائد حزب اختلاف ہیں اقتدار کی سرد جنگ خاموشی کے ساتھ جاری ہے تاہم صوبائی حکومت سب اچھا کی رپورٹ دے کر یہ دعویٰ کرتی ہے کہ کوئی مائی کا لعل ان کی حکومت نہیں گراسکتا۔

اقتدار کی رسہ کشی میں یوم آزادی بھرپور طریقے سے منایا گیا صوبائی دارالحکومت سمیت تمام اضلاع میں ریلیاں برآمد کی گئیں اور تقریبات کا انعقاد کیا گیا تاہم کرم ایجنسی میں دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر اچانک تمام تقریبات منسوخ کردی گئیں اور یوم آزادی کے موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لئے سیکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی پاک فوج کی طرف سے اس طرح کے اقدامات کی بدولت جشن آزادی کے موقع پر دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکے اوریوں یوم آزادی ملک کے دیگر حصوں کی طرح خیبر پختونخوا اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں پرامن طور پر گزرگیا۔

اس سے قبل اس وقت دلچسپ صورت حال پیدا ہوئی جب خیبر پختونخوا اور ملحقہ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگی اپنے قائدین کے ساتھ مل کر سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اسلام آباد سے لاہور ریلی کے لئے نہ صرف امیر مقام نے بڑے پیمانے پر رقوم تقسیم کیں بلکہ گورنر ہاؤس سے ایک غیر متعلقہ شخص نے تمام قبائلی ایجنسیوں کے پولٹیکل اور اسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹس کو فون کرکے لوگوں کی شرکت یقینی بنانے کی ہدایات دیں لیکن فاٹا سے جانے والے لوگوں کی تعداد انتہائی کم بتائی گئی جو نہ ہونے کے برابر تھی چور کے صوبے سے چند سو لوگ اسلام آباد پہنچنے کے بعد غائب ہوگئے اور اگلے روز واپس آگئے بعض چالاک کارکنوں نے گھر بیٹھ کر اپنی تصاویر ریلیوں کے ساتھ پوسٹ کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جیسے وہ ریلی کے ساتھ ہیں خیبر پختونخوا سے لیگی کارکنوں کی عدم دلچسپی کی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک وجہ صوبائی قیادت میں دھڑے بندیاں اور کارکنوں کی لیگی گورنر سے ناراضی بتائی جاتی ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...