حکمرانوں نے ملک گروی رکھ کر قومی سرمایہ ہڑپ کرلیا، احمد محمود

حکمرانوں نے ملک گروی رکھ کر قومی سرمایہ ہڑپ کرلیا، احمد محمود

  



بہاولپور (بیورورپورٹ) شریف برادران نے قومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ سے پاکستان کو معاشی بدحالی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔قوم کا ہر بچہ مقروض جبکہ رائیونڈ کے کتے بھی کروڑوں کے مالک ہیں۔قائد اعظم سولر پارک کی فروخت کے حوالہ سے مخدوم سید احمد محمودصدر پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب،نتاشہ دولتانہ دولتانہ جنرل سیکرٹری،شوکت بسراء سیکرٹری انفارمیشن،قادر شاہین ممبر فیڈرل کونسل،محمد(بقیہ نمبر32صفحہ12پر )

سلیم بھٹی ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری جنوبی پنجاب نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ شریف برادران اور مافیا لیگ نے جس دیدہ دلیری سے ملکی وسائل لوٹ کر اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے کی مزموم کوشش کررہی ہے قوم اًسے مسترد کرتی ہے۔مخدوم سیداحمد محمود نے کہا کہ آج ہم قائد اعظم اور ذوالفقار علی بھٹو کے پاکستان میں نہیں رہتے جو پہلا اسلامی ایٹمی ملک ہوتے ہوئے مسلم امہ کی قیادت اور نمائندگی کرتا بلکہ آج ہم نواز شریف کے لوٹے کھسوٹے مقروض ملک کے باشندے ہیں۔مافیا لیگ کی چیرہ دستیوں سے ہم معاشی،اقتصادی،دفاعی،سیاسی،آئینی ،جمہوری تنزلی کا شکار ہیں۔چور حکمرانوں نے ملک گروی رکھ کر قومی سرمائے کو ہڑپ کر لیا۔انہوں نے کہا کہ شریف برادران جب سے برسر اقتدار آئے ہیں ملک میں قرضوں کا بوجھ بڑھا ہے۔نکمے اور نالائق حکمرانوں نے بین الاقوامی اداروں اور قومی بینکوں سے کھربوں کے قرضے لیکر نام نہاد ترقیاتی منصوبوں کی مد میں عوامی خزانے سے کمیشن کھا کر قومی سرمایہ لوٹا ہے۔جون 2013 میں جب یہ برسر اقتدار آئے تو پاکستان پر بیرونی قرضہ 48.1 ارب ڈالر تھا جو جون 2017 میں بڑھ کر 78.1ارب ڈالر تک جاپہنچا ہے۔تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ہمیں اپنی موٹر ویز۔ہوائی اڈے اور ریڈیو پاکستان کی عمارت بیرونی اداروں کو گروی رکھوانا پڑی بین الاقوامی مالیاتی ادارے ہم پر بھروسہ کرنے کے لئے تیار نہیں۔مالی سال 2012/13 کا بجٹ خسارا 15 ارب ڈالر تھا جو آج 2016/17 میں بڑھ کر 24 ارب ڈالر ہوچکا ہے۔2013 میں پاکستان کے اندرونی قرضے 14318 ارب روپے تھے جو آج بڑھ کر 20872 ارب ہوچکے ہیں۔لٹیرے چور حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ہماری برآمدات 21 ارب ڈالر سے کم ہوکر 17 ارب روپے ہوچکی ہے۔2013 میں چور شریف نے میاں منشاء کو نوازنے کے لئے گردشی قرضہ کی 480 ارب روپے کی ادائیگی کردی تھی جس کے بعد گردشی قرضہ صفر تھا لیکن آج 2017 میں یہ رقم پھر 500 ارب ڈالر تک جاپہنچی ہے آج بھی میں تیل عالمی سطح پر کم ترین نرخوں پر دستیاب ہونے کے باوجود پاکستانی عوام کو مہنگے داموں فروخت ہو رہا ہے ، اور بجلی کی قیمتیں بھی بلا جواز بڑھائی گئیں۔انہوں نے کہا کہ لیگی حکمران اندرونی قرضوں کی ادائیگی کے لئے ریاست کو بینکوں اور دیگر اداروں کو اگست 2017 تک 3870 ارب کا پرانا قرضہ چکانا ہے جس کے لئے حکومت کمرشل بینکوں سے تین ماہ کے لئے 3650 ارب کا قرضہ لے گی اور بینک ٹریژری بلز اور انویسٹمنٹ بانڈ ز میں سرمایہ کاری کرکے حکومت کو یہ قرضہ دیں گیاانہوں نے مذید کہا کہ موجودہ مالی سال میں نااہل حکمران بینکوں سے 850 ارب کا نیا قرضہ لے چکی ہے۔2017 کا سارا مالی سال قرضوں پر چلے گا۔لہذا عوام کو ایسے چور لٹیرے حکمرانوں کے خلاف بلاول بھٹو کی قیادت میں متحد ہوکر جدوجہد کرنا ہوگی۔

احمد محمود

مزید : ملتان صفحہ آخر