عدالتی احکامات کے باوجود اردو زبان کے نفاذ پر عملدرآمد نہیں ہورہا ، جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال

عدالتی احکامات کے باوجود اردو زبان کے نفاذ پر عملدرآمد نہیں ہورہا ، جسٹس (ر) ...

  



لاہور(سٹی رپورٹر)پاکستان قومی زبان تحریک کے زیر اہتمام مجلس مذاکرہ بعنوان ’’قیام پاکستان اور قومی زبان‘‘ کے عنوان سے پاکستان کے 70ویں یوم آزادی کے موقع پر قرآن مرکز ماڈل ٹاؤن لاہور میں ہوئی جس کی صدارت پاکستان قومی زبان تحریک کے صدر عزیز ظفر آزاد نے کی جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض پروفیسر محمد سلیم ہاشمی نے سرانجام دئیے۔تقریب کے شرکائے گفتگو میں جسٹس ناصرہ اقبال ،مرتضیٰ برلاس ،حافظ عاکف سعید ، فرید احمد پراچہ،ابصار عبد العلی،فاطمہ قمر ،کرنل (ر)سلیم ،سعدیہ سہیل ایم پی اے ،ارشد نسیم بٹ اور جمیل بھٹی،منشا قاضی شامل تھے۔تقریب کی کارروائی کا آغاز مزمل حنیف کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔تلاوت کے بعد طالب علم محمد حسنین نے نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی۔جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کو صحیح طور پر ترقی کی جانب گامزن کرنے کے لئے جہاد کے انداز میں ہمیں کام کرنا ہو گا ۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ درج ہے کہ حکومت سمیت تمام ادارے تین ماہ کے اندر اردو زبان کو نافذ کریں۔مرتضیٰ برلاس نے کہا کہ آپ سب کا اردو کے نفاذ کے سلسلے میں کیا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے آج تک کبھی بھی انگریزی زبان میں دستخط نہیں کئے میں نے 45 سالہ سرکاری ملازمت بطور کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی حیثیت میں ملازمت کے باوجود اپنے بچوں کو حکومتی اسکولوں میں تعلیم دلوائی ہے۔حافظ عاکف سعیدنے کہا کہ تحریک پاکستان کا اردو زبان سے گہرا تعلق ہے۔ فرید پراچہ نے کہا کہ افسوس کہ ہمارے ملک میں اردو زبان کے نفاذسے متعلق دی گئی آئینی مدت کو بھی گزرے کئی عشرے گزر چکے ہیں اور اب اردو زبان کے نفاذ کا سپریم کورٹ کا حکم آ جانے کے باوجود عملدرآمد نہیں کیا جارہا ۔تحریک انصاف کی رہنما سعدیہ سہیل ایم پی اے نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں طالب علموں کو اپنی قومی زبان اردو سے قریب کرنے کی بجائے انہیں اردو سے حقیقی طور پر روشناس کرنے کی کوشش نہیں کی گئی جس کی وجہ سے بچہ نہ درست طور پر انگریزی بول سکتا ہے اور نہ ہی اچھی طرح اردو بول سکتاہے ۔کرنل (ر) سلیم نے تحریک آزادی پاکستان میں بنفس نفیس حصہ لیا ہے۔ ان کے شاگردوں کی ایک کثیر تعداد اب بھی افواج پاکستان میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان قومی زبان تحریک میں اپنی شرکت کا اعلان کیا۔فاطمہ قمر سینئر نائب صدر پاکستان قومی زبان تحریک نے اپنے خیالات کا اظہار کیا کہ پاکستان قومی زبان تحریک کا پیغام پاکستان بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور پاکستان کے تمام صوبوں اور آزاد کشمیر میں بھی پاکستان قومی زبان تحریک کا پیغام پہنچ چکا ہے اور ہماری تحریک میں لوگ جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں۔ پاک آسٹریلیا فورم کے صدر ارشد نسیم بٹ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک قوم کی حیثیت سے اپنی قومی زبان کو اختیار کرتے ہوئے ہی ترقی کی جانب گامزن ہوسکتے ہیں۔معظم احمد نے قرار داد پیش کی کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اردو کا نفاذ مکمل طور پر فی الفور کیا جائے۔ اس قرار داد کو تمام شرکاء نے بیک زبان مشترکہ طور پر تائید کی۔ عزیز ظفر آزاد صدر پاکستان قومی زبان تحریک نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ قائد اعظمؒ نے فرمایا تھا کہ حصول پاکستان کے بعد تکمیل پاکستان کے لئے ہمیں مزید قربانیاں دینا ہوں گی۔ ہم وہ اہداف حاصل نہیں کر سکے جن کا حصول اصل مقصد تھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ ماہ 8ستمبر کو سپریم کورٹ کے اردو زبان کے نفاذ کے فیصلے کو دو سال ہو رہے ہیں ہم اس موقع پر ملکی سطح پر پروگرام کر رہے ہیں اور تمام لوگوں سے شرکت کی اپیل بھی کی۔ انہوں نے قرآن سنٹر کے بانی اور دیگر ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان قومی زبان تحریک کے لئے اپنا ہال اور دفتر مہیا کیا۔تقریب کے اختتام پر یوم آزادی پاکستان کی مناسبت سے کیک کاٹا گیا ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1