موضع بیٹ سوہنی،ہندو اوقاف کی100ایکڑ اراضی پر لینڈ مافیا قابض

موضع بیٹ سوہنی،ہندو اوقاف کی100ایکڑ اراضی پر لینڈ مافیا قابض

  



قصبہ گجرات(نامہ نگار) محمد طارق نے صحافیوں کو بتایا کہ موضع بیٹ سوہنی میں آریہ پرتھی نتھی سبھا یعنی ہندہ اوقاف کی تقریبا100ایکڑ اراضی پر لینڈمافیا گزشتہ تیس سال سے قابض ہے ۔لینڈ مافیا کا سربراہ سابق تحصیل نائب ناظم چوہدری اکبر بٹرہے جس کو سابق ایم پی اے فاروق کھر کی خصوصی پشت (بقیہ نمبر18صفحہ12پر )

پناہی حاصل ہے ۔ذرائع کیمطابق چوہدری اکبر بٹرجو کہ گوجرانوالہ سے تعلق رکھتا ہے فاروق کھر کے کھاتہ میں سالانہ دس ٹرالی گنا بطور پشت پناہی ڈلواتا ہے اور یوں یہ سب مال مفت میں شراکت کے حصہ دار ہیں مزید تفصیلات کیمطابق جمع بندی ریکارڈ میں ایسے قابض بھی ہیں جو سرکاری ملازم ہیں۔ قانون برائے الاٹمنٹ کیمطابق رقبہ لاٹ اوقاف 1974ء سے پٹہ داران بطور کاشت درج ہونا چاہیے جبکہ فراڈ کی انتہا یہ ہے کہ ان الاٹوں میں ایسے الاٹی بھی ہیں جن کی پیدائش 1982ء ہے جبکہ انہوں نے اپنے نام کاشت 1974ء سے ڈلوائی ہوئی ہے ۔جس میں ایک نام ثناء اللہ ولد احمد دین جٹ ایسا بھی ہے جوکہ سرکاری ملازم سکول ٹیچر ہے تمام خود ساختہ پٹہ دار عبدالغفور ،توصیف پرویز،ثناء اللہ ،نذیر احمد ،اللہ نواز انس پرویزاورعبدالحمید مغل ان سب کا تعلق گوجرنوالہ سے ہے۔ جب بھی نیلامی کا وقت آتا ہے تو محکمہ اوقاف کے افسران خصوصا محمد اسماعیل اسسٹنٹ ایڈ منسٹر یٹرمترو وقف املاک(لیہ ) ڈیرہ غازیخان اور انسے پہلے کے متعلقہ افسران کے تعاون سے 20ہزار ایکڑ کا رقبہ کوڑوں کے دام چوہدری اکبر بٹروغیرہ کے نام توسیع کر دیا جاتا ہے اگر کوئی اس نیلامی میں حصہ لینے کی کوشش کرتا ہے تو اسے سابق ایم پی اے فاروق کھر روک لیتا ہے یہی سلسلہ پچھلے 30سال جاری ہے محکمہ کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔محمد طارق اور اہلیان علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ لاٹ ہائے مذکورہ کی بولی اوپن کی جائے اور لاٹ کی قانونی طریقہ سے منتقلی عمل میں لائی جائے اس سلسہ میں مختلف درخواستیں بنام مانیٹرنگ ٹیم ،وزیر اعلی پنجاب ،چیئرمین متروکہ وقف املاک ،ایڈ منسٹریٹر متروکہ وقف املاک ،FIAاور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کو دی جا چکی ہیں اکبر بٹر مذکورہ نے عبدالغفور نامی سے ایک جھوٹا دعوی سول کورٹ میں نیلامی رکوانے کیلئے بھی کرایا تھا ۔پورے لیہ ریجن اوقاف کا متعلقہ پٹواری بشارت علی بھی چوک سرور شہید سے جٹ فیملی سے ہے اور چوہدری اکبر بٹرکا رشتہ دار ہے یہ سب مل کر جعلی خسرہ گرداری بنا کر 30سال سے کروڑوں کا نقصان پہنچا چکے ہیں جبکہ اس سلسلہ میں محمد اسماعیل افسر مذکورہ کا موقف لیا گیا تو اس نے کہ کہ میری تو لیہ میں پوسٹنگ 2016کے آکر میں ہوئی ہے لہذا میں کیونکر اسکا ذمہ دار ہو سکتا ہوں اور میں نے اپنی پوری زندگی میں کوئی غلط کام نہیں کیا باقی خسرہ گرداری میں ہیر پھیر علاقہ کے متعلقہ پٹواریوں کا کام ہے نہ کہ میرا ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر