ایک اور پنچایت ، پسند کی شادی کرنیوالے جوڑے کی زبردستی طلاق کرادی

ایک اور پنچایت ، پسند کی شادی کرنیوالے جوڑے کی زبردستی طلاق کرادی

  



ملتان(کرائم رپورٹر) مظفر آباد کے علاقے میں ایک اور پنچایت۔ پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کی پنچایتی فیصلے پر اسلحہ کے زور پر زبردستی طلاق کرادی گئی۔ پنچایت میں عدنان اور عظمی کے رشتہ دار شامل تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ سورج (بقیہ نمبر38صفحہ12پر )

میانی کی رہائشی عظمی بی بی نے یکم مئی 2017کو مظفر آباد کے رہائشی عدنان سے پسند کی شادی کی۔جس پر دونوں کے اہل خانہ ان کے دشمن بن گئے۔ 20جولائی 2017کو مظفر آباد کے علاقہ میں دونوں کے اہل خانہ جس میں عظمی کا بھائی طاہر عباس،اور عدنان کے والد اعجاز کے علاوہ علاقہ کے پنچایتی سید الیاس شاہ،سید علی حسین،سید جاوید شاہ و دیگر شامل تھے، ایک پنچایت مقرر کی جس میں دونوں کو لایا گیا ۔انہوں نے دونوں کی شناختی کارڈ کی کاپی لف کر کے سٹام تیار کیا اور اسلحہ کے زور پر عدنان کی جانب سے عظمی کو طلاق دلوادی۔اس کے ساتھ ساتھ عظمی کی جانب سے اقرار نامہ بھی تیار کیا جس میں انہوں نے عظمی کا اپنے حق مہر 5ہزار روپے اوراڑھائی مرلے پلاٹ سے دستبرداری بھی کرادی۔گزشتہ روز عدنان اور عظمی نے آپس میں دوبارہ رجوع کرلیا۔دونوں نے پنچائیتی فیصلہ طلاق کے خلاف حلف نامہ عدالت میں دے دیا ہے ،جبکہ لاہور ہائیکورٹ بنچ ملتان کے طلاق سے متعلق فیصلہ کی کاپی تھانہ میں جمع کروا دی۔ عدنان اور عظمی نے احاطہ عدالت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے دوبارہ رجوع کرنے پراہل خانہ کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔اور دوبارہ زبردستی پنچائیت میں بلانے کی کوشش کی جارہی ہے ،جس میں وہ جانا نہیں چاہتے۔اعلیٰ حکام سے مطالبہ ہے کہ ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے۔ سی پی او چوہدری سلیم نے پنچایت میں طلاق کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پنچایت کر نیوالے افراد کیخلاف تھانہ مخدوم رشید میں مقدمہ درج کر نے کاحکم دیدیا ہے، سی پی او نیگزشتہ روز پسند کی شادی کرنیوالے جوڑے سے بات چیت کی اور ان سے واقع کیحوالے سے تفصیلات حاصل کیں، مقدمہ میں جوڑے کے والدین سمیت برادری کے 5 افراد شامل ہیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...