ووٹ کی طاقت

ووٹ کی طاقت
 ووٹ کی طاقت

  



کیا سابق وزیراعظم نواز شریف سے پوچھا جا سکتا ہے کہ وہ ووٹ کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں یا قانون کی طاقت پر؟

کیا وہ کہنا چاہتے ہیں کہ ووٹ کی طاقت اس قدر ہو کہ وہ آئین و قانون کی طاقت کو روندتی چلی جائے۔۔۔ اگر ایسا ہے تو انہیں بندوق کی طاقت کا اندازہ رہنا چاہئے!

1970ء کے انتخابات کے بعد چشمِ فلک نے ووٹ کی طاقت کا مظاہرہ دیکھا تھا ،جب بھٹو کی حکومت نے چند سو کے مجمع سے ہاتھ کھڑے کروا کر بنگلہ دیش منظور کروالیا تھا اور پاکستان ٹوٹ گیا تھا۔ اسی طاقت کے مختار کل بھٹو نے اراکان اسمبلی کو وارننگ دی تھی کہ جو ڈھاکہ جائے گا اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی!۔۔۔یہ ووٹ کی طاقت ہی تھی کہ دن دیہاڑے ملوں اور فیکٹریوں پر قبضے کرلئے گئے تھے اور عوام کے حق حکمرانی کے نام پر تمام ملکی وسائل کو چہیتے اور لاڈلے جیالوں میں بانٹ کھایا گیا تھا اور ناقدین نے ووٹ کی اس طاقت کو جمہوری فسطائیت سے تعبیر کیا تھاجب لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو کا غلغلہ بلند ہوا تھا!

اگر ووٹ کی طاقت عوام کی مرضی کے نام پر اپنی مرضی ٹھونسنے کا نام ہے تو علامہ طاہرالقادری سے شکوہ شکایت کیوں جو چند ہزار کا جتھہ لے کر نگر نگر سرکس لگاتے ہیں اور سپریم کورٹ کی صاف شفاف دیوار پر گندی شلواریں پھیلا کر انقلاب کی مالا جپتے ہیں!

سابق وزیراعظم نواز شریف کو جواب دینا چاہئے کہ ووٹ کی طاقت بڑی ہوتی ہے یا قانون کی طاقت؟۔۔۔وہ اس سوال سے صرف نظر نہیں کرسکتے۔ کیا یہ ووٹ کی طاقت کا عملی مظاہرہ نہیں ہے کہ وہ قانون کی طاقت کے سامنے سر تسلیم خم کرکے حکومت سے باہر آ گئے ہیں اور مسلم لیگ(ن) کی حکومت قائم ہے؟

ووٹ کی طاقت کے نام پر آئین میں تبدیلی کا سفر کہاں ختم ہوگا؟ 1970ء ایسی صورتِ حال پر؟؟۔۔۔نہ بابا نہ ، کچھ خدا کا نام لیجئے!

بدقسمتی کی بات ہے کہ مُلک میں ابھی اس پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے کہ آئین پارلیمانی نظام پر مشتمل ہو یا صدارتی نظام پر یا پھر جنرل ضیاء الحق کے اسلامی نظا م پر۔۔۔کہیں مُلک کی سیاسی، قانونی اور عسکری قیادت اس بات پر متفق تو نہیں ہو گئی کہ ووٹ کی طاقت کے نام پر آئین کے خدوخال کو اسلامی سے سیکولر کردیا جائے تاکہ پاکستان کے ماتھے سے انتہاپسندی، شدت پسندی اور دہشت گردی کا داغ ہٹایا جا سکے!

اس میں شک نہیں کہ ہر کوئی متفق ہے کہ مُلک میں رائج نظام بانجھ پن کا شکار ہے اور اس میں بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔آپ کسی بھی چیف جسٹس کو سن لیجئے،وہ گلہ کرتے نظر آتے ہیں کہ سسٹم ڈیلیور نہیں کر رہا ہے، طاقتور چھوٹ جاتا ہے اور کمزور پھنس جاتا ہے۔کسی ڈکٹیٹر کو سُن لیجئے تو کہتا پایا جاتا ہے کہ سسٹم لوٹ مار کرنے والوں کو پکڑنے سے قاصر ہے جبکہ سیاستدانوں کی سنئے تو متفق نظرآتے ہیں کہ عام آدمی کو انصاف نہیں مل رہا ہے۔چنانچہ اگر سب کا اتفاق ہے کہ سسٹم تبدیل ہونا چاہئے تو اس پر اتفاق کیوں نہیں ہو سکتا کہ یہ تبدیلی اب ہوجانی چاہئے، لیکن اگر عمران خان اپنی مقبولیت کی دھاک نہیں بٹھا سکے ہیں اور اگلا الیکشن بھی نواز شریف جیتتے نظر آتے ہیں تو یہ کارِ خیر ان سے کیوں نہ کروایا جائے، خواہ اس کے لئے انہیں قانونی اسقام سے بھرمار فیصلے کی مددسے اقتدار سے نکال باہر کیوں نہ کرنا پڑے؟۔۔۔تبھی تو نواز شریف جو کچھ کہہ رہے ہیں ان کی حکومت بھی وہی کچھ کہہ رہی ہے،پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن بھی وہی کچھ کہہ رہی ہے اور آرمی چیف بھی آئین اور قانون کی بالادستی کے تصور کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

جیسے ہر شخص کا اپنا سچ ہوتا ہے ایسے ہی ہر دور کا سچ اپنا ہوتا ہے ، بھٹو کی عوامی طاقت کے سامنے ایک اور طرح کی عوامی طاقت سینہ سپر ہو گئی تھی اور گولی کو اس کے لئے گالی میں تبدیل کردیا تھا، حتیٰ کہ فوج کے بعض افسروں نے گولی چلانے سے انکارکر دیا تھا۔بھٹو ہر قانون تبدیل کرنے پر رضامند ہو گئے تھے، لیکن پی این اے کے ہنگامے سے جنرل ضیاء الحق جنم لے چکا تھا، جس نے آئین اور قانون کو پلٹ کر رکھ دینا تھا۔

آج جنرل باجوہ جانتے ہیں کہ وہ اقتدار پر قابض ہو بھی جائیں تو محض ڈنڈا چلا کر اداروں کی اصلاح اور مُلک سے غربت کا خاتمہ نہیں کر سکتے، خرابی بہت آگے تک بڑھ چکی ہے، اس میں اصلاح کے لئے پہلے عوام کو ذہنی طور پر تیار کرنا ہوگا ، ایک نقطے پر لانا ہوگا اور یہ کام نواز شریف جیسا پاپولر لیڈر ہی کر سکتا ہے جسے معلوم ہے کہ ووٹ کی طاقت سے قانون پھوٹ تو سکتا ہے، لیکن ووٹ کی طاقت قانون کی طاقت کو پھوڑ نہیں سکتی!۔۔۔ہم ایک نئے سوشل کنٹریکٹ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

مزید : کالم


loading...