نواز شریف کی پاناما فیصلے کیخلاف 3نظر ثانی اپیلیں دائر ، ملک گیری عوامی رابطہ مہم جاری رکھنے کا اعلان

نواز شریف کی پاناما فیصلے کیخلاف 3نظر ثانی اپیلیں دائر ، ملک گیری عوامی ...

  



اسلام آباد (این این آئی،آن لائن ) سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے پانامہ کیس کے فیصلے کیخلاف 34صفحات پر مشتمل نظر ثانی اپیل دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے 28جولائی کے فیصلے میں بہت سے سقم موجود ہیں فیصلے میں موجود سقم کے باعث نظر ثانی کرتے ہوئے فیصلہ واپس لیا جائے جبکہ نواز شریف کی جانب سے 28 جولائی کے فیصلہ کو معطل کرنے کی درخواست بھی دائر کی گئی ہے جس میں نظر ثانی درخواست کے التواء تک اٹھائیس جولائی کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے درخواست میں نواز شریف کے وکیل نے موقف اختیار کیا ہے کہ اٹھائیس جولائی کا فیصلہ پانچ ججز نے جاری کیا پانچ رکنی بینچ کو فیصلے کا اختیار نہیں تھا، 20اپریل کے بعدآئین کے تحت سپریم کورٹ 3رکنی بینچ نے فیصلہ سنانے تھا، سپریم کورٹ 28جولائی کا فیصلہ 20جولائی کا دیئے گئے فیصلے سے انحراف ہے کوئی بھی ایسا قانون نہیں جو 2ججز کو بعد میں کارروائی میں شامل کرنے کا اختیار دیتا ہو،20اپریل کے فیصلے کے جن 2ججز نے نواز شریف کو نااہل قرار دیا ان کے فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں تھی، 28جولائی کے فیصلے پر دستخط کرنے سے 2 ججز نے فیصلہ دیدیا، درخواست میں مزید موقف اختیارکیا گیا ہے کہ نیب ریفرنسز پر نگران جج مقرر کرنا بھی آئین کے آرٹیکل 125/75 کی خلاف ورزی ہے نگران جج کی تعیناتی آرٹیکل 10Aکی بھی خلاف ورزی ہے نواز شریف کی پر آرٹیکل 62کے تحت نااہلی فیئر ٹرائل کے بنیادی حق کے منافی ہے عدالتی فیصلے کو معطل نہ کیا گیا تو یہ درخواست گزار کیلئے نقصان دہ ہوگا اور درخواست گزار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا ۔ منگل کو سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث ایڈووکیٹ کی جانب سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان ، جماعت اسلام ی کے سراج الحق اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی درخواستوں کے جواب میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے 4جنوری سے 23فروری تک پانامہ کیس سے متعلق عمران خان ، شیخ رشید اور سراج الحق کی درخواستوں کی سماعت کی 20اپریل کو سپریم کورٹ نے تین دو کے تناسب سے فیصلہ دیا ، جبکہ 28جولائی کو عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے نااہلی اور ریفرنسز دائر کرنے کا فیصلہ دیا جبکہ وزیراعظم کی نااہلی کے لئے دائر درخواستوں میں ایف زیڈ ای کمپنی کاذکر نہیں کیا گیا تھا، درخواست گزار نے ایف زیڈای کمپنی سے متعلق نہ تو درخواست دی اورنہ ہی عدالت سے کوئی استدعا کی ہے ،اثاثہ جات کے ظاہر نہ کرنے کے حوالے سے روپاایکٹ 1976کے تحت علیحدہ فورم موجود ہے عوامی نمائندگی ایکٹ کے مطابق صرف وہی اثاثے ظاہر کرنا ہوتے ہیں جو امیدوار کے قبضے میں ہوں عدالت نے اٹھائیس جولائی کا فیصلہ کرتے وقت ان حقائق کو مدنظر نہیں رکھا ،سپریم کورٹ کے 184/3کے تحت دئیے گئے فیصلے کی اپیل نہیں ہوسکتی ،اپیل کاحق نہ دئیے جانے سے آرٹیکل 10اے کیخلاف وزری ہے ، سپریم کورٹ نے ایف زیڈای کمپنی پر نااہلی سے پہلے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا،کیس کی سماعت کے دوران ایف زیڈای کمپنی سے تنخواہ نہ وصول کرنے پر دلائل دئیے گئے تھے ،جنوری 2013ء میں ایف زیڈای کمپنی کو بند کرنے کافیصلہ کرلیاگیا، درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ نوازشریف نے کمپنی بند کرتے وقت بیٹے کو تنخواہ نہ لینے سے آگاہ کردیاتھا، سابق وزیراعظم نواز شریف نے ٹیکس ریٹرنز اور کاغذات نامزدگی میں تمام اثاثہ جات کو ظاہر کیا،نظرثانی کیلئے اٹھایاگیا یہی نقطہ ہی کافی ہے سپریم کورٹ کافیصلہ بظاہر غلط ریکارڈ پر دیاگیا ، سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں قراردے چکی ہے کہ اعترافی بیان مکمل طور پر منظور یامسترد ہوگا،باقاعدہ ٹرائل کے بغیر 62ون ایف کے تحت نااہلی نہیں ہوسکتی ، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انکم ٹیکس قوانین کے مطابق صرف وصول کی گئی تنخواہ کو ہی اثاثہ قرارد یا جا سکتا ہے ،نہ وصول کی گئی تنخواہ کو اثاثہ قراردینا اکاؤنٹنگ قوانین کیخلاف ہے،انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 12(2)میں تنخواہ کی تعریف موجود ہے،بلیک لاء ڈکشنری میں اثاثہ جات کی تعریف شامل نہیں ،سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں اراکین کی نااہلی کو ٹھوس شواہد سے مشروط کرچکی ہے، عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بنچ کی جانب سے 28جولائی کو پانامہ کیس کے سنائے گئے فیصلے میں سقم موجود ہیں عدالت عظمیٰ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے تینوں درخواستوں کو مسترد کردے ، تین درخواستوں کے علاوہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ نظر ثانی اپیلوں پر فیصلے تک 28جولائی کے فیصلے پر عملدرآمد روک دیا جائے ۔ یا د رہے کہ عدالت عظمیٰ نے 28جولائی کو پانامہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے محمد نواز شریف کو نااہل قرار دے کر انکے اور مریم نوا ز ، حسین نواز ، حسن نواز سمیت کیپٹن صفدر اور اسحاق ڈار کیخلاف چھ ہفتوں میں مختلف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا ۔دوسری جانب درخواست میں عدالتی فیصلے کے پیراگراف نمبر 6 کو حذف کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا کہ نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دینا اختیارات سے تجاوز ہے۔سابق وزیراعظم نے موقف اختیار کیا کہ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں حقائق کو مدنظر نہیں رکھا لہٰذا سپریم کورٹ کے فاضل ججز پر مشتمل بنچ کی جانب سے نواز شریف کو نااہل اور ان کے خلاف نیب میں ریفرنسز دائر کرنے کے حکم کو کالعدم قرار دیا جائے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ پاناما کیس میں نواز شریف کے خلاف عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی درخواستوں پر الگ الگ نظر ثانی کی جائے۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 28 جولائی کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کے حوالے سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ پر سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دے دیا تھا جبکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار سمیت ان کے خاندان کے افراد کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔پاناما کیس کا حتمی فیصلہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے سنایا تھا۔

3اپیلیں

لاہور( جنرل رپورٹر )مسلم لیگ (ن) کا اہم غیر رسمی مشاورتی اجلاس جاتی امراء رائے ونڈ میں منعقد ہوا جس میں پارٹی کی تنظیم سازی ،حلقہ این اے 120کے ضمنی انتخاب ، عوامی رابطہ مہم ،پارٹی کے آئندہ کے لائحہ عمل سمیت مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔اجلاس میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف ،گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ ،وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ،سپیکر سردار ایاز صادق ،خواجہ محمد آصف،خواجہ سعدرفیق، حمزہ شہباز،احسن اقبال، زاہد حامد، پرویز رشید، انوشہ رحمان ،سینیٹر آصف کرمانی ،رانا مقبول سمیت دیگر نے شرکت کی ۔ حلقہ این اے 120میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے حوالے سے الگ سے اجلاس منعقد ہوا جس میں انتخابی مہم اور لیگی امیدوار کی کامیابی کیلئے حکمت عملی بارے تبادلہ خیال کیا گیا ۔ذرائع کے مطابق غیر رسمی مشاورتی اجلاس میں نواز شریف کی آئندہ کی سیاسی سر گرمیوں بارے بھی تبادلہ خیال ہوا تاہم فیصلہ کیا گیا کہ اس سلسلہ میں رہنماؤں اور کارکنو ں کی مزید مشاورت سے حتمی فیصلہ ہوگا اور پروگرام جاری کیا جائے گا۔اس موقع پر پارٹی کی تنظیم سازی بارے بھی گفتگو ہوئی جبکہ حلقہ این اے 120کی انتخابی مہم کے حوالے سے سامنے آنے والی تجاویز پر بھی غوروخوض کیا گیا ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے انتخابی اصلاحات بل سے متعلق پارٹی قیادت کو بریفنگ دی ۔زاہد حامد نے سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق نظر ثانی کی اپیل دائرکرنے کے بارے اب تک ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا ۔وزیر داخلہ احسن اقبال نے بلوچستان سمیت ملک میں امن و امان بارے میں بریفنگ دی، اجلاس میں وفاقی وزرا ء کے ساتھ اس امرپر بھی گفتگو کی گئی کہ عوامی رابطہ مہم کو کس طرح موثر بنایاجائے اور اس متعلق مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ کی حکومت نے ملک کو معاشی طور پر درست سمت میں گامزن کر دیا ہے ،عوام کی خدمت مشن ہے اور ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے اسے آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد سے لاہور کے سفر کے دوران عوام نے جس طرح محبت اور پذیرائی دی اسے فراموش نہیں کر سکوں گا ، پاکستان اور عوام کی ترقی کے ایجنڈے کوہر صورت آگے بڑھائیں گے۔

مشاورتی اجلاس

مزید : صفحہ اول


loading...