وزیراعظم کی سربراہی میں انسداد اسلحہ کمیٹی بنانے کا فیصلہ ، وفاقی کابینہ نے کراچی ، حیدرآباد ترقیاتی پیکجز کی منظوری بھی دیدی

وزیراعظم کی سربراہی میں انسداد اسلحہ کمیٹی بنانے کا فیصلہ ، وفاقی کابینہ نے ...

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی کابینہ نے انسداداسلحہ سے متعلق 5رکنی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کرنے سمیت کر ا چی اور حیدرآباد ترقیاتی پیکج کی منظوری دیدی،ملکی سکیورٹی کی صورتحال سمیت اہم قومی معاملات پر بھی غورکیاگیا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس گزشتہ رات گئے اسلام آباد میں ہواجس میں وفاقی وزراء، وزرائے مملکت اور مشیرشریک ہوئے ۔ اجلاس میں وزراء کی کارکردگی، دوست ممالک کیساتھ معاہدوں اورمفاہمتوں کی یاداشتوں کی منظوری پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی جبکہ انتخا بی اصلاحات کے پیکیج کا معاملہ بھی زیرغورآیا،اجلاس میں شاہد خاقان عباسی کے وزارت اعظمیٰ کے حلف اٹھاتے ہی ملک کو غیر قانونی اسلحے سے پاک کرنے کا عزم کی تکمیل کیلئے وزیر اعظم ہی کی سربراہی میں انسداداسلحہ سے متعلق 5رکنی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا کمیٹی کے دیگر ار کا ن میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال،وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری، مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ اور وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب ہوں گی۔کمیٹی کے طریقہ کار کے مطابق اب تک کے جاری کردہ لائنسز کی دوبارہ تصدیق کی جائے گی،ممنوعہ بور کے لائسنس کو 90روز میں تصدیق کرانے کا وقت دیا جائے گا۔اس موقع پر وزیر اعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس ہر منگل کو بلانے کی بھی ہدایت دی ،جبکہ اس سے قبل قومی سلامتی مشیرناصر جنجوعہ نے وزیراعظم کو اسلحے پر پابندی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کابینہ کو حالیہ دورہ کراچی اور شہر قائد وحیدر آابد کیلئے اعلان کردہ 30ارب کے ترقیاتی پیکچز سے متعلق بھی آگاہ کیااور کہا انتظامی نگرانی گورنر سندھ کریں گے، مقررہ مدت میں پیکچ پر عملدرآمد کرائیں گے جبکہ سندھ میں جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں ساتھ ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا سندھ حکومت کوکہا قیام امن اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے فعال کردارادا کرے جبکہ موجودہ حکومت تمام فیڈریشن یونٹس کو برابری کی بنیاد پر ریکارڈفنڈز فراہم کررہی ہے جبکہ وفاقی کابینہ نے حیدرآباد میونسپلٹی کو مزید فنڈز فراہم کر نے کا بھی فیصلہ کیا ، یاد رہے وفاقی کابینہ کی تشکیل نو اور مشیروں کی تعیناتی کے بعد یہ پہلا باضابطہ اجلاس تھا ۔

انسداد اسلحہ کمیٹی

مزید : صفحہ اول