قوم اپنے لیڈر کو صادق اور امین دیکھنا چاہتی ہے ، حکمران پہلی بار جج اور جے آئی ٹی کو خریدنہ سکے، عمران خان

قوم اپنے لیڈر کو صادق اور امین دیکھنا چاہتی ہے ، حکمران پہلی بار جج اور جے ...
 قوم اپنے لیڈر کو صادق اور امین دیکھنا چاہتی ہے ، حکمران پہلی بار جج اور جے آئی ٹی کو خریدنہ سکے، عمران خان

  



 اسلام آباد (آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ قوم اپنے لیڈر کو صادق اورا مین دیکھنا چاہتی ہے ایک ٹولہ کرپشن کا تحفظ چاہتا ہے ۔ پہلی بار حکمران ججز اور جے آئی ٹی کو خرید نہیں سکے۔ جی ٹی روڈ پر 4دن تماشہ لگانے والے اپنی دولت کیلئے جنگ لڑ رہے ہیں۔ (ن) لیگ سے دو گنا عوام نکال کر دکھاؤں گا۔ تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے گزشتہ روز نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پہلی بار ہماری عدلیہ نے ایک منتخب حکومت کے خلاف فیصلہ دیا۔ ایسے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اصل میں تبدیلی تب ہوتی ہے جب ادارے مضبوط ہوں جبکہ میٹرو یا فلائی اوور سے تبدیلی نہیں آتی۔ نواز شریف 3 مرتبہ وزیراعظم اور 2دفعہ وزیراعلیٰ بنے مگرپنجاب پولیس سمیت دیگر اداروں کو تباہ کیا۔ کرکٹ کا چیئرمین وہ بندہ منتخب کرایا جس نے انتخابات میں مدد کی۔ ابراہم لنکن کے مطابق تھوڑے وقت میں سارے لوگوں کو پاگل بنایا جا سکتا ہے لیکن زیادہ وقت میں سارے لوگوں کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پولیس پٹواری سب ان کے ہیں جتنے مواقع شریف برادران کو ملے اتنے کسی اور کو نہیں ملے۔عمران خان نے کہا کہ جی ٹی روڈ پر 4دن ڈرامہ کر کے انہیں شرم نہیں آئی۔ یہ لوگوں کو پاگل بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک لوگوں کو یہ نہیں پتہ کہ انہوں نے لندن فلیٹ کہاں سے خریدے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی دفعہ ججوں اور جے آئی ٹی کے ممبران کو خرید نہیں سکے۔ یہ اپنی چوری کو بچانے اور مقدمات سے بچنے کیلئے این آر او چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک تو شکیل الرحمن نے ان کی مدد کی اور اس کے علاوہ ایک اور میڈیا نے لیکن لوگ اس سے مزیدنفرت کرنے لگے ہیں۔انہوں نے ظفر حجازی سے ظلم کروایا اس سے جھوٹ بلوایا۔ جو انہوں نے ڈرامہ کیا کہ یہ قوم کو تباہ کر دے گا۔ اپنی صرف چوری بچانے کیلئے ۔ اب ان کو پتا ہے کہ یہ جیل میں جائیں گے۔ یہ سب اپنی دولت کیلئے جنگ لڑ رہے ہیں۔ اسامہ بن لادن سے پیسے لئے ۔ آئی ایس آئی سے انہوں نے پیسے لے ۔ بے نظیر کی حکومت انہوں نے گرائی لیکن آج یہ معصوم بنے ہوئے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ حسن نواز کی جو اقامہ کمپنی تھی وہ منی لانڈرنگ کے سب طریقے تھے ان کو نکالا اس لئے یہ غیر قانونی طور پر پیسہ باہر بھیجا ۔میاں صاحب مینڈیٹ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب لوگ ووٹ دیتے ہیں تو ان سے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کرنا ہوتا ہے۔ کیا اپ نے بتایا تھا کہ میں آپ لوگوں کا پیسہ چوری کرونگا ۔ یہ عوام کا مینڈیٹ نہیں ہے مگرمیں ان سے دگنی چوگنی عوام باہر نکالوں گا۔ میں عدالت اس لئے نہیں گیا کیونکہ ججز پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ اب معاملہ نیب میں ہے اور اگر انہوں نے نیب کے خلاف لوگو ں کو نکالا ہے تو ہم ان سے کئی گناہ زیادہ لوگ نکالیں گے ۔ بعض اپوزیشن جماعتوں کو ڈر لگا ہو اہے کہ اب نوا زکے بعد ان کی باری ہے اور اگر پہلی پارٹی نے ساتھ دیا تو وہ تباہ ہو جائے گی۔عمران خان نے مزید کہا کہ ہمارا منشور ہے کہ وزیراعظم کو چھوڑیں گے نہ ہی کسی وزیر کو چھوڑیں گے جیسے چین میں ہوا ہم نیب کو ایسا ادارہ بنائیں گے اور اگرہماری حکومت میں کوئی چوری کرے گا تو اس کا ذمہ دار بھی میں ہوں گا۔

عمران خان

مزید : صفحہ اول